اشرف العلوم کنہواں کے سو سال

پس آئینہ ✍️ شمس تبریز قاسمی
اشرف العلوم کنہواں نے اپنے سوسال مکمل کرلئے ہیں، 1338 ہجری کی بات ہے جب بہار سمیت پورے ملک میں مدارس اور دینی درس گاہوں کی تعداد نہ کہ برابر تھی ،شمالی بہار میں جامع العلوم مظفر پور ،مدرسہ محمود العلوم دملہ ،مدرسہ امدادیہ دربھنگہ اور جامعہ قرانیہ سمرا چمپارن کے علاوہ کوئی اور مدرسہ نہیں تھا ،سیتامڑھی کی سرزمین پر بھی کوئی مدرسہ نہیں تھا۔ اسی زمانے میں کنہواں کے ایک زمین دار شخص مرحوم واعظ گماشتہ اپنے دونواسے کو لیکر مدھوبنی میں واقع مدرسہ محمود العلوم دملہ پہونچے وہاں ان کی ملاقات سیتامڑھی کے ایک استاذ مولانا عبد العزیز بسنتی رحمہ اللہ سے ہوئی ،مولانا بسنتی رحمة اللہ علیہ نے مرحوم واعظ گماشتہ سے کہاکہ آپ کے دوبچے یہاں داخلہ لیکر تعلیم حاصل کرلیں گے لیکن پورے خطے کا کیا ہوگا ،وہاں کوئی مدرسہ نہیں ہے ،کوئی تعلیم گاہ نہیں ہے ،گماشتہ مرحوم نے پوچھاآپ چاہتے ہیں کیا ہیں ،پھر مولانا نے بتایاکہ آپ اپنے علاقے میں ایک مدرسہ قائم کریں ۔ یہ بات ان کے ذہن دوماغ میں گردش کرنے لگی ،گھر آکر انہوں مدرسہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا، سیتامڑھی کے ایک گاﺅں آواپور سے تعلق رکھنے والے دارالعلوم دیوبند کے نئے نئے فاضل مولانا صوفی رمضان علی سے ملاقات کرکے اپنا منصوبہ پیش کیا ، زمین کی تلاش کا سلسلہ شروع ہوا ،مختلف جگہوں کا انتخاب ہوا لیکن بات نہیں بنی ،ایک دن مرحوم گماشتہ کے ایک کھلیان پر مولانا صوفی رمضان علی کے جانے کا اتفاق ہوا جہاں سے انہیں علم کی بو آئی اور گماشتہ مرحوم سے کہاکہ یہاں مدرسہ قائم کیا جائے ،اس مٹی سے علم کی بو آرہی ہے ،بالآخر اسی ویران جگہ پر مدرسہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔مولانا صوفی رمضان علی دارالعلوم دیوبند کے جواں سال فاضل تھے ،حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی سے بھی مراسلت کا سلسلہ جاری تھا اس لئے اپنے شیخ کے نام منسوب کرتے ہوئے انہوں نے اشرف العلوم اس کا نام رکھا ۔سوئے اتفاق مولانا صوفی رمضان علی کی عمر نے وفانہیں کی ،1438 میں مدرسہ قائم ہوا اور دوسال بعد 1340 میںاس دار فانی سے کوچ کر کئے ۔ان کی وفات کے بعد رفیق ہمدم مولانا عبد العزیز بسنتی رحمة اللہ علیہ نے دملہ سے یہاں آکراس ادارے کی باگ دوڑ سنبھالی اور1971 تک اشرف العلوم کے نوک وپل کو سنوراتے رہے ۔
اشرف العلوم سیتامڑھی کے جس گاﺅں میں واقع ہے اس کا نام کنہواں ہے ،یہ ہندوستان کا آخری گاﺅں ہے ،یہاںملک کی سرحد نیپال کے گاﺅں شمسی سے ملتی ہے ۔یہ بھی اتفاق ہے کہ یہ خطہ ”کنہواں شمسی“ سے مشہور ہے ایک نام ہندوستان کے گاﺅں کا اور دوسرا نام نیپال کے گاﺅں کا ہے ۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں ہر طرف جہالت تھی ، تاریکی تھی ،مسلمانوں میں اسلام کی صفات نداردتھی ،ہندوانہ رسم ورواج مسلمانوں کی زندگی کا شعاربن چکاتھا،اس دور کی منظر کشی کرنے والے بتاتے ہیں کہ مسلمان چھت پوجا مناتے تھے ،ہولی کھیلتے تھے اور ایسی کئی تقریب میں حصہ لیتے تھے جو سراسر شرک ہے ، نمازہ جنازہ پڑھانے کیلئے کوئی عالم دین نہیں ملتاتھا ،مسجد وں میں سناٹا چھایارہتا تھا ،نمازپڑھنے کیلئے لوک اکٹھے ہوجاتے تھے لیکن کوئی امام نہیں ہوتاتھا ، اس شرک اور جہالت وبدعت کے خلاف اشرف العلوم نے ایک جنگ شروع کی ،علاقے میں تعلیمی بیداری آئی ،بچوں کے درمیان حصول علم کا جذبہ پیدا ہوا، یہاں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد فضلا ءنے اس مشن کو آگے بڑھانے کا کام کیا ،مختلف علاقوں میں مدارس قائم ہوئے ،مساجد کی تعمیر ہوئی ۔اصلاح معاشرہ کی تحریک چلائی گئی ،مکاتب کا جال بچھایاگیا اور یوں تعلیمی انقلاب لانے کے مشن میں اشرف العلوم کامیاب ہوتاگیا ۔
بہار کے مدارس میں یہ سر فہرست ہے ،ام المدارس کی حیثیت حاصل ہے ،عربی تعلیم کے حوالے سے ادارے کو شروع سے خصوصی امتیاز حاصل رہاہے۔ شمالی بہار میں علم دین کے فروغ اور علماءکو تیارکرنے میں اشرف العلوم کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی ہے۔ دارالعلوم دیوبند میں یہاں کے پڑھے ہوئے 99 فیصد طلبہ کا تقریبا داخلہ ہوجاتاہے ۔بہار کا یہ واحد ادارہ ہے جہاں ہرسال کئی سو طلبہ کو داخلہ نہ ملنے کی بنیاد پر واپس مایوس لوٹنا پڑتاہے ،نظام تعلیم ،نصاب اور علمی ماحول کی کہیں اور کوئی نظیر نہیں ملتی ہے ۔یہاں کا چندہ کرنے میں کبھی کسی سفیر اور استاذ کو کوئی دشواری پیش نہیں آتی ہے ،بہت سارے مدارس کے اساتذہ لائن میں لگ کر چندہ لیتے ہیں لیکن یہاں کے استاذ یا سفیر کو صاحب ثروت خود میدان میں لگ کر چندہ دینے کی کوشش کرتے ہیں،بیرون ممالک میں کبھی یہاں کا چندہ نہیں ہوتاہے ۔
 اس ادارے میں راقم الحروف کو بھی حفظ دور سے لیکر عربی پنجم یعنی سات سالوں تک تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملاہے اور میری کامیابی کا پورا سہر اسی ادارہ اور یہاں کے اساتذہ کرام کو جاتاہے ، میری طالب علمانہ زندگی کے وہ ایام سب سے حسین ،خوبصورت اور بیش قیمت ہیں جو یہاں گزرے ہیں ،دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے ہندوستان کے مختلف علاقوں کے مدارس میں جانے کا موقع ملاہے ،وہاں کے ماحول اور نظام کا قریب سے جائزہ لیاہے لیکن اشرف العلوم سب سے ممتاز نظر آیا،وہاں زیادہ سختی نہیں تھی ،کوئی پابندی نہیں تھی ،متعددعربی درجات میں اساتذہ کی نگرانی نہیں ہوتی تھی لیکن اس کے باوجود طلبہ میں پڑھنے کا ماحول تھا ، جذبہ تھا ،جنون تھا ،رات کے دس بجے جنریٹر بند ہوجانے کے بعد ہم طلبہ لیمپ جلاکر پڑھتے تھے ،میں نے یہ بھی دیکھاہے کہ بہت سے مدارس میں اساتذہ رات کو نگرانی کرتے ہیں لیکن وہاں اساتذہ دیر رات تک جگنے سے منع کرتے تھے ،امتحان کے ایام میں یہ اعلان ہوتا تھا کہ طلبہ صحت کا خیال رکھیں ،جلد سونے کا اہتمام کریں۔ یہ کوئی پچاس پرانی بات نہیں ہے بلکہ 2003 سے 2009 تک ہم اپنے ذاتی تجربات شیئر کررہے ہیں ۔
مدارس اور جلسہ میں لزوم کی صفت پائی جاتی ہے ،ہرسال دوسال پر مدارس کے زیر اہتمام مختلف عناوین سے جلسے ہوتے رہتے ہیں لیکن یہاں صرف ایک مرتبہ پچاس سال مکمل ہونے پر جلسہ کا انعقا کیا گیااور اب سوسال مکمل ہونے پر اس ادارے کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان اجلاس کی تیاری جاری ہے ۔24,25,26 مارچ 2018 کو سہ روزہ جشن صدسالہ منانے کی تیاری ہورہی ہے ،ملک بھر کے جید علماءکرام کی شرکت متوقع ہے ،طلبہ ،اساتذہ ،محبین اور تعلق رکھنے والے تمام لوگ ایک نئے جذبہ سے سرشا ر ہیں ۔
اس ادار ے کی ترقی میں وہاں کے اولین شاگرد قاری طیب رحمة اللہ علیہ کی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی ہے جنہوں نے زندگی چالیس سال اس ادارہ کی خدمات میں لگائے ،مرتے دم تک ادارے کی ترقی کیلئے سوچتے رہے،ان کی محنت اور انتظامی صلاحیت سے اشرف العلوم کو نمایاں مقام ملا ،بہار کے سب سے پسماندہ علاقے میں واقع اس مدرسہ کے تعلیم کا شہرہ بہار کی سرحدوں سے نکل کر یوپی ،بنگال اور دیگرصوبوںتک پہونچا ۔ان کی وفات حسرت آیات کے بعد اشرف العلوم کے منصب اہتمام پر فائز ہونے والی شخصیات میں فقیہ ملت مولانا زبیر احمد قاسمی کا نام جلی حرفوں میں لکھاجائے گا ،انہوں نے اپنے دور اہتمام میں اس ادارے کو مزید چار چاند لگایا،شب وروز کی محنت سے اشرف العلوم کو ترقی کے ساتویں آسمان پرپہونچایا ،ان کے بلند علمی مقام اور قومی شہرت سے اشرف العلوم کی ایک نئی تاریخ مرتب ہوئی اور سوسال مکمل ہونے پر ایک عظیم اجلاس کا انعقاد کرکے اشر العلوم کی نئی تاریخ رقم کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہیں۔سخت بیماری اور پیرانہ سالی کے سبب ہر دلعزیز استاذ مولانا محمد اظہار الحق مظاہری تمام ذمہ داریوں کو اپنے سر لیکر اشرف العلوم کے سفر کو رواں دواں رکھے ہوئے ہیں ۔جشن صدسالہ کو کامیاب بنانے میں مسلسل مصروف ہیں۔جدید وقدیم طلبہ ،محبین اور تمام وابستگان مارچ 2018 کے اس منظر کا شد ت سے انتظار کررہے ہیں جب صد سالہ جشن ہوگا ،لاکھوں کا مجمع ہوگا ، ابنائے قدیم کا اجتماع ہوگا ،ہندوستان کے تمام جید علما ءکرام اشرف العلوم کی عظیم کامیابی کے گواہ بنیں گے اور تاریخ کے اوارق میں ایک نئے سنہرے باب کا اضافہ ہوگا ۔
( کالم نگار ملت ٹائمز کے ایڈیٹر ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *