میں ملک شام ہوں !

Bashar Al Asad
نئی دہلی میں مقیم صحافی فلاح الدین فلاحی نے شام کے موجودہ حالات کے پیش نظر خود اس بدبخت ملک کی زبانی داستان بیان کرنے کی کوشش کی ہے:

مکرمی!
میں ملک شام ہوں، میرے اوپر جو چاہے بم برسا رہا ہے۔ کوئی نہیں جو مجھے ظلم سے نجات دلا سکے۔آخر میرے حالات اتنے خراب کیوں ہوئے، یہ جانناآپ کے لیے ضروری ہے۔ جب حافظ الاسد نے ہمارے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ ہر با شرع مسلمان کو اخوان کے نام پر گرفتار کر لیا جاتا تھا،یہاں تک کہ پردہ نشین خواتین کو بھی اخوانی کے نام پر جیلو ں میں بھر دیا جاتا تھا، ظلم و ستم کے وہ پہاڑ ڈھائے جاتے تھے کہ دنیا کی ساری باطل طاقتیں بھی شرما جائیں۔فوج اور پولس اہلکار خواتین کے ساتھ حیوانوں جیسا سلوک کرتے تھے،ملک شام کے۷۰؍فیصد مسلمانوں کے ساتھ ظلم اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی،پورے شہر حماۃ کو ٹینکوں سے اڑا دیا گیا تھا، عین عید کے دن جب ساری دنیا خوشیاں منانے میں مصروف تھی، ہمارے ایک شہر میں ہماری فوج اور پولس نے ہی ہماری عزتوں سے کھیلا، ہمیں سر بازار برہنہ کیا۔ ایسے حالات میں ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے، صرف اپنے خدا سے امید لگائے بیٹھے تھے۔اے اللہ اس ظالم حکمراں سے نجات دلا۔

لیکن یہ کیا؟ اس کے مرنے کے بعد ظلم کی چکی وراثت میں تبدیل ہو گئی ۔حافظ الاسد کاسفاک بیٹا بشارالاسد تخت نشین ہوا ۔وہ اپنے باپ سے بھی بڑا ظالم ثابت ہوا ،مسلمانوں کی شادی کی تقریبات میں اس کے فوجی حملہ کرتے اور جوڑے سمیت تمام لوگوں کے اعضاء کو چاقوں سے چاک کرکے فٹ بال کی طرح اچھالتے تھے ۔ظلم کاہر وہ حربہ ہم پر استعمال کیا گیا جس سے انسانیت شرمسار ہوجائے ۔قتل و غارت گری کا وہ کھیل کھیلا جاتا جس کو دیکھ اور سن کر رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ آخر کب تک اس ظلم کو ہم برداشت کرتے ،عزت وآبرو لٹتی رہی، اپنی آنکھوں کے سامنے بشارالاسد کی فوج ہماری بہن بیٹیوں کی عزت تار تار کرنے کے بعد انتہائی سفاکی کے ساتھ انہیں قتل کر دیا کرتی تھی۔ تب ہمارے ہی کچھ اپنوں نے بشارالاسد سے بغاوت کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کے خلاف اعلان جہاد کیا کہ جب مرنا ہی ہے تو عزت اور شہادت کی موت مریں ۔ لیکن یہ کیاکہ حزب اللہ نامی جنگجو تنظیم بشار الاسد کے شانہ بشانہ ہم پر چڑھ دوڑی، ایران بھی اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ ہم پر حملہ آور ہوا ،ابھی ہم بشارالاسد کی فوج سے ہی لڑ رہے تھے کہ دو باہری طاقتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کے با وجود ہم نے انہیں ہزیمت سے دوچار کیا ،جس کا بدلہ انہوں نے ہمارے اوپر کیمیاوی ہتھیاروں سے حملہ کرکے لیا اور ہماری نسلوں کی نسلیں ان تینوں نے مل کر تباہ کر دیں۔ ہمارے معصوم بچے اور عورتیں سسک سسک کردم توڑتے گئے۔ ہمارے نوجوانوں کو زندہ درگور کیا جاتا رہا۔ابھی ہم ان تینوں سے مقابلہ کر ہی رہے تھے کہ وہ روس جس کے ہتھیاروں سے ہمارے جسم چھلنی ہورہے تھے، وہ بنفس نفیس خود بھی ہم پر حملہ آور ہوا ۔تب ہی عراق سے آئی ایس نامی اسرائیل نواز ٹولی کے بینر تلے کچھ جنونی ہمارے ملک میں داخل ہوئے۔

بشار کی فوج پیچھے ہٹتی گئی اور پھر شروع ہوا آئی ایس کا ظلم ،اس نے ہماری نوخیز بچیوں کو زنا بالجر کا نشانہ بنایا ،اسلام کو مذاق بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا اور خود کو خلیفہ ہونے کا دم بھرنے لگا۔ ہمارے وہ غیور نوجوان جو بشار،ایران ،حزب اللہ اور روس سے لڑرہے تھے، انہیں بے دردی کے ساتھ آئی ایس کے سفاکوں نے قتل کرنا شروع کیا ۔اسی دوران کچھ سرپھروں نے فرانس پر حملہ کیا۔اس میں دو سو کے قریب لوگ موت سے دو چار ہوئے ،ساری دنیا سراپا احتجاج بن گئی، لیکن ہمارے چار لاکھ سے زائدلوگوں کی اموات پر یہ دنیا خاموش رہی۔جینے کی آس میں جب ہمارے بڑے بوڑھے، نوجوان بچے اور عورتیں در بدری پر مجبور ہوئے تو دنیا نے ان پر سوال اٹھایا۔لاکھوں کی تعداد میں ہمارے شہری سمندر کی نذر ہو گئے۔ ایک ایلان کی لاش نے ساحل کے کنارے دنیا کی توجہ میری طرف کرائی وہ بھی چند دنوں کے لیے۔پڑوسی ملکوں کی سرحدیں ہمارے لیے بند کی گئیں،ہمارے معصوم شہریوں کو سرحدی علاقوں سے کھدیڑا جانے لگا،دنیا نے مجھے پناہ دینے اور نہ دینے پر سمینار کیا لیکن کسی نے میرے اوپر برس رہے بم کو روکنے کی ہمت نہیں کی ۔پھر آئی ایس کا نام لے کر فرانس بھی ہمارے اوپر راکٹ کے ذریعے بم برسانے لگا۔ چار دنوں میں ہی اس نے ہمارے شہر رقعہ میں ۸۰؍ہزار سے زائد لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جس کا سلسلہ جاری ہے ۔ہماری سب سے بڑی قیادت سعودی عرب اور اردن نے فرانس کو ہم پر حملہ کرنے کے لیے اپنے ہوائی اڈے ان کے حوالے کر دیا ۔ہم پر چو طرفہ حملہ جاری ہے، ہمارے بچے شہید ہو رہے ہیں۔ عزت کے ساتھ اپنے رب کے پاس جا رہے ہیں۔ ہماری زبان پر صرف ایک ہی کلمہ ہے، اللہ اکبر اللہ اکبر! ہم جام شہاد ت نوش کر رہے ہیں ۔لیکن حیرانی تب ہو تی ہے جب دنیا میں فرانس کے چند سو مرنے والوں کے لیے موم بتیاں جلائی جاتی ہیں اور مسلم دنیا کی تمام جماعتوں کی طرف سے مذمت اور مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستان میں بھی دہلی سے ممبئی تک مسلم جماعتوں کی تحریک چل پڑتی ہے،لیکن میرے لیے کسی نے پلے کارڈ اب تک کیوں نہیں اٹھایا، ہمارے اوپر ہو رہے مظالم پر دنیا خاموش کیوں ہے ،کیا صرف فرانسیسی اور امریکی انسان ہوتے ہیں جس کے لیے دنیا سراپا احتجاج بن گئی؟ کیا ہم انسان نہیں ہیں ،کیا امت کی ماؤں کی کوکھ بانجھ ہو چکی ہے،کیا کوئی صلاح الدین ایوبی اب پیدا نہ ہوگا ،کیا محمد بن قاسم کی اولاد بزدل ہو گئی؟اپنے بھائیوں کے لیے ایمان کا دوسرا درجہ زبان بھی نہیں کھول سکتے ،اے میرے بھائیو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم میرے لیے احتجاج نہیں کرتے،کیا تمہیں میری خبر نہیں؟ اسرائیل کے تحفظ کے لیے مسلم حکمراں ہمارے او پر ظلم کر رہے ہیں۔ اسد تو گولان کی پہاڑی طبق میں سجا کر اسرائیل کو کب کاپیش کر چکا ہے۔ اب وہ ملک شام میں رہنے والے ۷۰؍فیصد مسلمانوں کو ختم کر کے اسرائیل کو دینا چاہتا ہے ۔

ہمارے اپنوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ۔میں وہی شام ہوں جس کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن میں کیا ہے ۔میں وہی شام ہوں جس کے بارے میں اللہ نے فرمایاہے کہ فرشتے اس کے اوپر اپنے پر بچھائے رہتے ہیں۔ کیا آپ ہماری عظمت کو یونہی برباد ہوتے دیکھتے رہیں گے ؟ہمارے لیے آپ کب پلے کارڈ اور بینر لے کر احتجاج کریں گے، جب ہمارا نام و نشان دنیا سے مٹا دیا جائے گا؟ ہمارے معصوم بچے اور عورتوں کے لہو لہان جسم دکھائی نہیں دے رہے ہیں؟ اب تو آپ فیس بک اور یو ٹب پر موجود ہیں ۔ہماری تباہیوں کے نظارے آپ ضرور کر رہے ہوں گے ،لیکن آپ کی زبان گنگ کیوں ہوگئی ہے؟کیا امت مسلمہ بھی اللہ تعالی کے نزدیک بنی اسرائیل کی طرح معزول ہو چکی ہے۔میری صبح کب ہوگی ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *