قومیت پر بحث کبھی ختم نہیں ہو سکتی: مولانا خالد رشید

Khalid Rasheed Farangi Mahli

نئی دہلی، ۱۷ مارچ: آج کل ملک بھر میں قومیت اور حب الوطنی کو لے کر بحث چل رہی ہے۔ ایک طرف جہاں آر ایس ایس، بی جے پی اور اس کی ہم نوا تنظیموں کا کہنا ہے کہ ’’بھارت ماتا ک جۓ‘‘ کہنا ہی قومیت کی نشانی ہے، وہیں دوسری طرف آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے یہ کہہ کر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے کہ ملک کے آئین میں ’’بھارت ماتا کی جۓ‘‘ کہنا لازمی ہے، ایسا کہیں نہیں لکھا گیا ہے۔ اس پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے لکھنؤ کے معروف مسلم اسکالر مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا ہے کہ ملک میں ایسی نئی بحث چھڑ گئی ہے، جس کا کوئی انجام نہیں نکلنے والا ہے۔

مولانا خالد رشید نے کہا کہ ’’میرے خیال سے نیشنلزم (قومیت) کا نیا ایشو خود ہمارے ملک کے لیے نقصاندہ ہے۔ ہر ہندوستانی قوم پرست ہے اور ان میں سے کسی کو بھی اپنی قومیت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پوری دنیا کو غلط پیغام بھیج رہی ہے کہ ہندوستانی خود اپنے ملک میں آپس میں لڑ رہے ہیں۔‘‘

خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے مولانا نے مزید کہا کہ ’’کسی کو بھی ایسا تبصرہ نہیں کرنا چاہیے، جس سے کسی فرد کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ میرے خیال سے نیشنلزم کے ایشو پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جس کا کوئی خاتمہ نہیں ہے۔‘‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہر کسی کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے اور اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس کا بیان ملک کے نظم و ضبط کے مطابق ہو۔ ’’اس قسم کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں لڑائی چل رہی ہے، جب کہ اصل میں ایسا نہیں ہے‘‘، مولانا نے کہا۔

اسدالدین اویسی کا بیان آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے اُس بیان کے ردِ عمل کے طور پر آیا ہے، جس میں بھاگوت نے کہا تھا کہ نئی نسل کو ’’بھارت ماتا جی جۓ‘‘ کا نعرہ لگانا سکھایا جانا چاہیے۔ انھوں نے یہ کہا تھا کہ یہ نعرہ اصلی ہونا چاہیے اور نوجوانوں کی مجموعی ترقی کا ایک حصہ بھی۔ بھاگوت کا یہ بیان دراصل جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں طلبہ کے ذریعہ مبینہ طور پر لگائے گئے ملک مخالف نعروں کے مد نظر آیا ہے۔ تاہم، جے این یو کے طلبہ خود آر ایس ایس کو ملک کا غدار ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور آر ایس ایس سے آزادی کا نعرہ لگاتے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *