’میں نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے‘: زبیر رضوی

۱۹ فروری کو موبائل پر گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممبئی والے کوئی کام نہیں کرتے ہیں، اب ندا فاضلی کی کتابیں بھی ضائع ہوجائیں گی۔

فرحان حنیف وارثی

تصویر میں دائیں سے : ساجد رشید، عبدالاحد ساز، جناب زبیر رضوی، ظفر گورکھپوری اور فرحان حنیف۔
تصویر میں دائیں سے : ساجد رشید، عبدالاحد ساز، جناب زبیر رضوی، ظفر گورکھپوری اور فرحان حنیف۔

آج شام مکتبہ جامعہ میں قدم رکھتے ہی عالمگیر نے زبیر رضوی کی رحلت کی اطلاع دی۔ مجھے یقین نہیں ہوا کیونکہ ابھی کل شام ہی ۵ بج کر۱۳ منٹ پرمکتبہ جامعہ میں بیٹھ کر میں نے ان سے موبائل پر گفتگو کی تھی، موضوعِ گفتگو ندا فاضلی تھے۔

زبیر صاحب نے شکایتی لہجے میں کہا تھا کہ ’’ممبئی والے کوئی کام نہیں کرتے ہیں۔ اب ندا فاضلی کی کتابیں بھی ضائع ہوجائیں گی۔ اس سے پہلے علی سردار جعفری کی کتابیں ضائع ہوگئیں۔ کرشن چندر کی کتابوں کا کیا ہوا پتہ نہیں۔ سلمیٰ صدیقی نے کچھ کیا ہوگا۔‘‘
زبیر صاحب نے مجھ سے انجمن اسلام اور صدر انجمن اسلام ڈاکٹر ظہیر قاضی کے متعلق دریافت کیا۔ پھر عبدالستار دلوی اور شمیم طارق کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’انجمن اسلام ایک بڑا ادارہ ہے اور ان کے پاس جگہ بھی ہے۔ انجمن اسلام کے انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ کسی بھی ادیب یا شاعر کے انتقال کے بعد ان کی کتابوں کو اپنے یہاں محفوظ کرلیں۔‘‘

جودھپور سے شائع ہونے والے دیوناگری رسالے ’’شیش‘‘ کے تازہ شمارہ (جنوری تا مارچ ۲۰۱۶) میں ان کا انٹرویو شائع ہوا ہے۔ یہ انٹرویو میں نے کئی برس پہلے لیا تھا جو متعدد اخبارات اور رسائل میں چھپ چکا تھا۔

زبیر رضوی نے کہا، ’’یہ انٹرویو بہت پاپولر ہوا ہے۔‘‘ بعد ازاں ’’شیش‘‘ کے مدیر حسن جمال کا تذکرہ چھڑا۔ میری نظموں کے مجموعے کی بابت دریافت کیا۔ میں نے کئی ممکنہ ٹائٹل ان کے گوش گذار کیے اور انہوں نے ان میں سے ایک کا انتخاب کیا اور کہا کہ تمہاری نظموں کے حساب سے یہ بہتر رہے گا۔
زبیر صاحب سے میں نے کچھ سوالات بذریعہ ای میل روانہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ کا انٹرویو مجھے ری رائٹ کرنا ہے۔ انہوں نے منع کردیا اور جواب دیا: ’’فرحان! میں نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے اب تم لوگوں کی باری ہے۔ ممبئی میں کسی کے پاس ’’گردشِ پا‘‘ ہوگی اس میں سے سوال قائم کرکے جوابات بنالو۔ میں اجازت دے رہا ہوں۔ اچھا! شاداب رشید سے معلوم کرو۔ شاید اس کے پاس ’گردشِ پا‘ ہوگی۔‘‘ کچھ اور بھی باتیں ہوئیں جسے لکھنا مناسب نہیں ہوگا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا تھا ، ’’میں نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *