افتخار راغب کے نئے شعری مجموعہ کی رونمائی ہوئی

گوپال گنج 

انجمن ترقی اردو گوپال گنج کے زیر اہتمام یہاں اتوار کو یونک چلڈرنس اسکول، جنگلیاں کے احاطے میں عالمی شہرت یافتہ اور دوحہ قطر میں مقیم شاعر و ناقد

افتخار راغب کے چوتھے شعری مجموعے ” یعنی تو ” کی رسم اجراء ہوئی. افتخار راغب کی حال ہی میں وطن واپسی ہوئی ہے. رسمِ اجراء کے موقع پر انہیں شال اوڑھا کر نوازا گیا اور کتاب کی رونمائی ہوئی.

انجمن ترقی اردو بہار کے صدر اظہار الحق صدیقی کی موجودگی نے اس تقریب کو وقار بخشا. انجمن ترقی اردو گوپال گنج کے صدر معراج الدین تشنہ اور سکریٹری  رضی احمد فیضی نے افتخار راغب کی شاعری پر تبصرہ پیش کیا. ان کے علاوہ مولانا طارق شفیق، جاوید اقبال، فہیم جوگا پوری اور سنیل کمار تنگ نے اپنے تاثرات پیش کیے.

خطاب کرتے ہوئے رضی احمد

دوسرے دور میں شعری نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مقامی و بیرونی شعرائے کرام نے سامعین کو محظوظ کیا. جن شعرائے کرام کو پسند کیا گیا ان کے کلام ذیل میں پیش کئے جا رہے ہیں.

ایک سجدہ بھی اگر دل سے ادا ہو جائے
آدمی اہل نظر اہل خدا ہو جائے

چاند جوہری

میں نیت توڑ کر کیسے نہ جاتا ماں کی خدمت میں
بهلا جنت میں جانے کی کسے خواہش نہیں ہوتی
رضی احمد فیضی

تیری مرضی کا کام ہو گیا نا
میرا جینا حرام ہو گیا نا
معراج الدین تشنہ

طرز نو مانگ سفیر اپنے لئے رب سے مگر
دوریاں پیدا جو کرتا ہے وہ اسلوب نہ مانگ
سفیر صدیقی

غم حد سے جب سوا ہے تو کیسے غزل کہوں
جان غزل خفا ہے تو کیسے غزل کہوں
شاہ محمد فہمی

انا کی زد میں آنا اور خود بیمار ہو جانا
ذرا سی بات پر اچھا نہیں تلوار ہو جانا
بپن کمار شرر سیوانی

وفا کی راہ کا تنکا بھی آشیانہ لگے
کتاب عشق کا ہر لفظ عاشقانہ لگے
کمال میرا پوری

بنا کر خون کو اپنا پسینہ بیچ دیتی ہے
امیر وقت کے ہاتھوں وہ کیا کیا بیچ دیتی ہے
روشن حلیمی

دے کر فریب عشق اسے اس کے طرز پر
اس شوخ کو بھی راه پہ لانا ضرور تھا
آزاد مانجھا گڈهی

مقابل کو جو کم سمجھے وہ غازی ہار جاتا ہے
کبھی خرگوش بھی کچھوے سے بازی ہار جاتا ہے
انور ادیب

اپنے ایمان کا دولت سے نہ سودا کرنا
کوئی لے کر نہیں جاتا ہے خزانہ اپنا
غلام سرور هاشمی

قینچیاں چاہتی ہیں گیسوئے اردو کٹ جائے
کیا یہ ممکن ہے کہ تلوار سے خوشبو کٹ جائے
فہیم جوگا پوری

شمع پیار کا میں جلاتا رہوں گا

یہ دیوار نفرت گراتا رہوں گا
شوکت علی شوکت

سفر یہ ہوائی سلامت رہے
عرب کی کمائی سلامت رہے
تنگ عنایت پوری

پیکر مہر و وفا روح غزل یعنی تو
مل گیا عشق کو اک حسن محل یعنی تو
افتخار راغب

اس موقع پر اکبر حسین، مختار عالم انجینئر، نور عالم، حسنین اختر، سبحان علی، علی امام ایڈووکیٹ، حیدر علی ایڈووکیٹ، مولانا ظہیر احمد ندوی، احمد اللہ، علی اصغر، صفدر سراج کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں محبان اردو موجود رہے. شعری نشست کی صدارت معروف شاعر فہیم جوگاپوری نے کی جبکہ نظامت کا فریضہ معراج الدین تشنہ نے انجام دیا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *