جہالت ظلم کی ماں ہے

Anis new 1محمد انیس الرحمن خان
خبروں کے مطابق’’ہندوستان میں خواتین کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے سابقہ مرکزی حکومت نے جس کمیٹی کا قیام کیا تھا، اس نے گذشتہ سال ہی اپنی رپورٹ موجودہ مرکزی حکومت کو سونپ دی تھی۔ اس میں سفارش کی گئی ہے کہ زبانی، یکطرفہ اور تین بار طلاق کے ساتھ ہی ایک سے زائد شادی پرروک لگائی جانی چاہیے۔ رپورٹ یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ علیحدگی یا طلاق کی صورت میں بیوی اور بچوں کے نان ونفقہ کو لازمی بنایا جائے۔ طلاق پر پابندی کے لیے اس بات کو بنیاد بنایا گیا ہے کہ خو اتین اپنی ازدواجی حیثیت کو لے کر غیرمحفوظ محسوس کرتی ہیں اور ان کے لیے یہ ایک صدمے جیسا ہوتا ہے ۔ مذکورہ کمیٹی نے نہ صرف مسلم میرج ایکٹ ۱۹۳۹ء کو ختم کرنے کے لیے خصوصی ترمیم کی تجویز دی ہے بلکہ عبوری طور پر گذارا بھتہ دینے کی بھی سفارش کی ہے‘‘۔

معلوم نہیں اس کمیٹی کی رپورٹ کی سفارشات پر عمل ہوگا یا نہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت اور اس کے ذمہ داران اس کو ووٹ بینک کے نظریہ سے دیکھنے پر مجبور ہوجائیں، کچھ لوگ اس کو مذہبی جذبات سے جوڑنے کی بھی کوشش کرسکتے ہیں۔ ہمارا مقصد کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں ہے، مگر دعوت فکر دینا ہماری ذمہ داری ہے کہ عصر حاضر میں ہمارے ملک میں خواتین کے ساتھ خاص طور سے مسلم خواتین کے ساتھ جو ظلم وستم ہورہے ہیں، ان کو کہیں ہم سب نے مذہب کا جذباتی پردہ ڈال کر جائز تو نہیں کردیا ہے؟؟؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں سچ مچ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے مذہب جس کو دین فطرت بھی کہا جاتا ہے، اس کا یہی مقصد تھا؟؟؟ نہیں، نہیں ہرگز نہیں کیونکہ مذہبِ اسلام نے تو خواتین کو زندہ درگور ہونے، ستی، بیوگی، رہبانیت، معاشرہ سے قطع تعلقی اور دیگر تمام ظلم وستم سے بچا کر وہ مقام عطا کیا ہے جو اس کا جائز اور فطری حق تھا۔ خود اللہ کے محبوب ﷺنے ایک بیوہ خاتون کو اس وقت اپنی زوجیت میں قبول فرمایا جب دنیا میں کہیں بھی بیوہ خاتون کو عزت وشرف سے زندگی گذارنے کی اجازت نہیں تھی۔اپنی چاروں صاحبزادیوں کو تب سینے سے لگایا جب لڑکیوں کو زمین کا پیوند بنانا فخر محسوس کیاجاتا تھا۔ اس لیے مذہب اسلام کو تو ہرگز خواتین پر ظلم وستم کے لیے بدنام نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مذہب اسلام کے قوانین تو خواتین کے حق میں اتنے واضح ہیں کہ غیرمسلم بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ چنانچہ میرے ایک غیر مسلم دوست صحافی امت تیاگی نے کیا خوب بات کہی کہ’’کچھ لوگ اسلام کی ماننے والی خواتین کو یہ کہتے ہیں کہ یہ پردے میں رہتی ہیں، اسی لیے ان پر ظلم وستم ہوتا ہے مگر دوسرا پہلو یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ شوہر پورے مہینے محنت سے کماتا ہے اور تنخواہ لاکر پورا پیسہ اپنی بیوی کی گود میں ڈال دیتا ہے۔ سارے گھر اور دولت کی مالکن وہ پردہ نشین خاتون ہوتی ہے۔ تو یہ ظلم کیسے ہوا؟‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ مسلم سماج میں ایک کمی ضرور ہے کہ وہ اپنی خواتین کو تعلیم کم یا نہیں دلاتے ، حالانکہ تعلیم ہی ترقی کا پہلا زینہ ہوتی ہے ، اس سمت توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔

میں بذاتِ خود اس بات کا قائل ہوں کہ خواتین کو زیور تعلیم سے ضرور آراستہ کرایا جائے، اور خواتین کی تعلیم عین اسلام کے مطابق ہے کیونکہ اسلام نے کبھی بھی اور کہیں بھی اس کی مخالفت نہیں کی ہے بلکہ قرآن وحدیث میں حصول تعلیم کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ پھر ہم اپنی بچیوں کو زیورتعلیم سے آراستہ کیوں نہیں کرتے؟ ہمیں صرف ان کی شادی کی ہی فکر کیوں رہتی ہے؟ ہمیں یہ کیوں محسوس ہوتا ہے کہ تعلیم حاصل کرکے ہماری لڑکیاں کسی اور کے گھر کی زینت بن جائیں گی؟ یہ تعلیم نہ دلانے کا نتیجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین پر نہ صرف ظلم وستم ہورہے ہیں بلکہ اس میں دن بدن اضافہ ہی ہوتاجارہا ہے۔ اور اس کے لیے جتنے ذمہ دار طلاق دینے والے ہیں اس سے کہیں زیادہ ذمہ دار، میں ان والدین کو مانتا ہوں، جو اپنی لخت جگرکو تعلیم کے علاوہ جہیز کے نام پر سب کچھ دیتے ہیں۔ مہنگائی کے موجودہ زمانہ میں تعلیم اس لیے بھی ضروری ہے کہ وقت ضرورت بیوی اپنی گھریلوذمہ داریوں کونبھانے کے لیے اپنے شوہر کے کام میں معاشی طورپر ہاتھ بٹاسکے۔ جو خواتین ایسا کرتی ہیں ان کی زندگی ایسانہ کرنے والیوں سے زیادہ بہتر گذارتی ہیں۔ ممکن ہے آپ کے ذہن میں کچھ ایسے گھرانے یا خاندان بھی ہونگے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باجود طلاق جیسی لعنت سے دوچار ہورہے ہوں، مگر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب ڈاکٹریا انجینئر ہی نہیں ہوتا۔سچ تو یہ ہے کہ جس نے اسلامی تعلیمات کو سمجھ لیا وہی بہترانداز سے خانگی زندگی کو گلزار بناسکتا ہے۔ کیونکہ محض روزہ،نماز، زکوٰۃ اورحج کا ہی نام اسلام نہیں ہے بلکہ اسلام تو اصولِ زندگانی کا نام ہے۔ ہمارے لیے اس سے شرمناک بات اور کیا ہوگی کہ غیرمسلموں پر مشتمل ایک کمیٹی ہمیں خواتین کے حقوق ادا کرنے پر مجبور کرے۔ ہم اتنے بے حس کیوں ہوچکے ہیں کہ بات بات پر طلاق کی دھمکیاں ہی نہیں دیتے بلکہ سیدھے طلاق دیتے ہیں اور بعد میں قاضی صاحب کے پاس بہانہ بازی تلاش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں ہوش میں نہیں تھا۔ بھائی اگرآپ ہوش میں نہیں تھے تو طلاق ماں یا بہن کو کیوں نہیں دیا ؟ اپنی بیوی کوہی کیوں؟؟؟ نوجوان دوستو، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جتنی بھی چیز اسلام میں حلال ہیں ان میں سے طلاق ہی اللہ رب العزت کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ ہے۔ اور ہم اسی طلاق کا استعمال اپنی بیوی کو ڈرانے کے لیے کرتے ہیں، کیا ہم موت، قبر، اللہ، رسول سب سے بے خبر ہیں؟؟؟ اگر ہاں تو ذرا اپنی بہن اور بیٹی کا ہی خیال فرمالیں۔ کیونکہ وہ بھی کسی کی بیوی ہے یا اپنی شادی کا خواب آنکھوں میں سجاکر آپ کی طرف پُر امید نظروں سے دیکھ رہی ہے !!!

7042293793
anis8june@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *