مادری زبان کو بھلایا تو ایسا ہوگا انجام

بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینی چاہیے : ڈاکٹر شاہد اختر
مادری زبان کو بھلا دینے والی قومیں صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہیں: ڈاکٹر شیخ عقیل احمد
نئی دہلی: دنیا کی جن قوموں نے اپنی مادری زبان ، مادر وطن اور اپنی تہذیب کو بھلا دیا وہ قومیں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں ۔ یہ تشویشناک بات ہے کہ ہندوستانی عوام انگریزی زبان سے متاثر ہو رہے ہیں جبکہ اپنے خیالات اور مافی الضمیر کو ادا کرنے کے لیے مادری زبان سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ زندگی کے لیے تین چیزوں کی بڑی اہمیت ہے۔ ماں، مادری زبان اور مادر وطن۔ یہ باتیں قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے بین الاقوامی یوم مادر ی زبان کے موقع پر جمعرات کو گاندھی بھون، دہلی یونیورسٹی میں منعقدہ یک روزہ مذاکرہ میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے ہمیشہ مادری زبان کو ترجیح دی اور سب کو مادری زبان اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ ہندوستانی زبانیں دنیا کی کسی بھی زبان سے کم نہیں ہیں۔ ہمارے لیے یہ افسوس کا مقام ہے کہ ہم احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں جبکہ دنیا کے بہت سے ایسے ترقی یافتہ ممالک ہیں جنہوں نے اپنی مادری زبان کو اپنا کر ترقی کی منزلیں طے کی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے اظہار خیال کے لیے دنیا کی سب سے میٹھی اور شیریں زبان اردو ہے۔

اس موقع پر بطور مہمان خصوصی قومی اردو کونسل کے وائس چیئرمین ڈاکٹر شاہد اختر نے کہا کہ دلوں کو جیتنے کی بات ہو یا آج کے صارفیت کے زمانے میں اپنی مصنوعات بیچنے کی بات ہو، مادری زبانوں یا علاقائی زبانوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اپنے بچوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینی چاہیے۔ محترمہ کسم شاہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مادری زبان جنم دینے والی ماں کی طرح ہوتی ہے۔ بچہ ماں کی گود سے نکل کر زبان کی گود میں جاتا ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قومی اردو کونسل کے ساتھ زبان کے حوالے سے کام کرنے کی بات کہی۔ اس موقع پر پروفیسر ہری موہن نے کہا کہ ہر ملک یا علاقہ اپنی مادری زبان پر فخر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کثیر لسانی ملک ہے اور اس ملک میں رابطے کی کوئی زبان ہو سکتی ہے تو وہ ہندوستانی ہے۔ اس مذاکرے میں پروفیسر راجندر کمار، پروفیسر رویل سنگھ اور پروفیسرا وما دیوی نے بھی مادری زبان کے حوالے سے گفتگو کی۔پروگرام کے آغاز سے قبل پلوامہ میں شہید جوانوں اور پروفیسر نامور سنگھ کے انتقال پر ملال پر دو منٹ کی خاموشی اختیار کر کے تعزیت کی گئی۔ مذاکرے کی نظامت پروفیسر رمیش سی بھاردواج نے کی۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply