امارت شرعیہ نے لوگوں کے اندر اجتماعی کاموں کا شعور پیدا کیا ہے: حضرت امیر شریعت

امارت شرعیہ نے لوگوں کے اندر اجتماعی کاموں کا شعور پیدا کیا ہے: حضرت امیر شریعت
سہرسہ کے خصوصی تربیتی اجلاس کے دوسرے اور تیسرے سیشن میں حضرت امیر شریعت کا دردمندانہ خطاب

سہرسہ(جعفرامام قاسمی)سہرسہ میں نقباء، نائبین نقباء امارت شرعیہ ، علماء’ائمہ’ذمہ داران مدارس ، ارکان شوریٰ و عاملہ امارت شرعیہ ، ارباب حل و عقداورسماجی کارکنان و دانشوران کے خصوصی دو روزہ تربیتی اجلاس کا دوسرا سیشن میرج گارڈن سہرسہ بستی میں 6 نومبر کو بعد نماز مغرب زیر صدارت مفکر اسلام حضر ت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب مد ظلہ امیر شریعت بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ شروع ہوا۔ پروگرام کا آغاز مولانا اظہار الحق قاسمی قاضی شریعت دار القضاء امارت شرعیہ للجہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، نعت شریف جناب قاری عیسیٰ صاحب نے پیش کی ۔

i

اپنے صدارتی خطاب میں امیر شریعت مفکر اسلا م حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے تمام نقباء امارت شرعیہ اور علاقے کے نمائندگان سے مخاطب ہو کر کہا کہ ملت کی سر بلندی اور کھویا ہوا وقارپانے کے لیے ہمیں ذاتی کاموں کے ساتھ ساتھ ملت اور جماعت کے کاموں کو بھی پسند کرنا چاہئے اور اس کو پوری توانائی کے ساتھ انجام دینا چاہئے ۔آپ نے تمام نقباء اور خواص کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے کہا کہ اپنے اپنے علاقہ کے اندر اچھا اور بہتر سماج بنانے کی ذمہ داری آپ سب کی ہے ، اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کیجئے اور اس کو اللہ کے لیے انجام دیجئے ۔اپنے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے اندر بھی دین و ملت کے لیے درد مندی ، فکر مندی اور دین کی تعلیم سے دلچسپی پیدا کرائیے ۔سب لوگوں کو مل جل کر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے جملہ شعبوں ؛ تعلیم ، معیشت، سماجی اصلاح، نئی نسل کی اخلاقی تعلیم و تربیت کو پوری توجہ اور اہمیت کے ساتھ انجام دینا بے حد ضروری ہے ۔آپ نے حالات کی سنگینی پر بالغانہ اور داعیانہ فکر پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کو دوسری ترقی یافتہ قوموں کی طرح اپنے کاموں کے ساتھ ملت کی طرف سے بھی کام کرنے ہوں گے ، قوم کی عظمت رفتہ اور سر بلندی اس کے بغیر ممکن نہیں۔آپ نے اپنا قیمتی سرمایہ اور وسائل کو اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنے کی طرف توجہ دلائی آپ نے فضول خرچی اور غیر ضروری کاموں میں وقت اور پیسہ صرف کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے وقت اور پیسے کو ایسے کاموں میں خرچ کیجئے جو آپ کے اور قوم کے مستقبل کے لیے مفید ہو۔ اس سے قبل مولانا مفتی نذر توحید مظاہری قاضی شریعت چترا نے نقباء و نائبین نقباء امار ت شرعیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب امار ت شرعیہ کے چہرہ ہیں اور اپنے اپنے علاقہ میں امیر شریعت کی نیابت کررہے ہیں ، اس لیے آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنی زندگی کو اسی سانچے میں ڈھالیں جس سانچہ میں ڈھالنے کا امیر شریعت آپ سے مطالبہ کرتے ہیں ۔

ہمارا کوئی عمل شریعت کے خلاف نہیں ہونا چاہئے ، ہمارا ظاہر و باطن دونوں شریعت کے مطابق ہو، آپ نے امارت شرعیہ کی تنظیم کے اغراض و مقاصد کو بھی بیان کیا ۔آپ نے امارت شرعیہ کے دار القضاء کی اہمیت بتاتے ہوئے آپسی نزاعات کو دار القضاء سے حل کرانے کی ترغیب دی۔ نائب ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد ثنائ الہدیٰ قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک اچھے سماج کی تشکیل کے لیے سماج کے افراد کو اچھا بننا ہوگا ، اور ایک اچھا انسان بننے کے لیے دل کی پاکیزگی اور اصلاح ضروری ہے ، اپنے دلوں کو گناہوں سے پاک کیجئے ، شریعت کی پابندی کیجئے ، اپنے اعمال اور اپنے افکار کی اصلاح کیجئے ، انہوں نے دعوت دین کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ نرم دلی سے لوگوں کو دین کی اور اچھے اعمال کی دعوت دیجئے ۔ مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے دوران نظامت امار ت شرعیہ کی جانب سے مقرر کردہ نقباء کی 14نکات پر مشتمل ذمہ داریوں کوتفصیل سے بیان کیا ، خاص طور پر آپ نے نقباء کو کلمہ کی بنیاد پر متحد رہنے کی دعوت دی آپ نے کہا کہ ہمیں اس طرح متحد رہنا ہے کہ ایک آواز پر ایک جھنڈے کے نیچے جمع ہو جائیں ، جب آپس کی قوت اور اجتماعیت ہو گی تو ہم سب مل کر حالات کے رخ کو موڑ سکتے ہیں۔

آپ نے اصلاح معاشرہ ، علاقہ میں دینی تعلیم کی ترویج و اشاعت، مکاتب کے قیام ، مسجد میں نکاح کرنے ، شادی کے غلط رسوم و رواج سے بچنے اور اپنے اور اپنے بال بچوں کی شادی میں جہیز نہ لینے کی تلقین کی ،آپ نے معاشی اعتبارسے مضبوط ہونے کے لیے تجارت اور صنعت و حرفت اختیار کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی ۔ آخر میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی دعا پر دوسری نشست کا اختتام ہوا۔
اس خصوصی تربیتی اجلاس کی تیسری نشست 7 نومبر کو صبح ساڑھے دس بجے شروع ہوئی ۔اجلاس کا آغاز مولانا قاری عیسیٰ صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ‘بعدازاں مولانا ندیم صاحب نے بارگاہ رسالت میں صلاۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا۔ اس نشست میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ نے اجلاس میں موجود علاقے کے ذمہ داران حضرات کی جانب سے پیش کردہ مسائل اور تجاویزکو موضوع گفتگو بنایا ، آپ نے مسائل کا حل بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج لوگوں کا مزاج ہے کہ ہر کام کی ذمہ داری علماء پر ڈال دیتے ہیں اور اپنا فرض منصبی بھول جاتے ہیں ، اپنی ذمہ داریوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں ، یہ اچھی بات نہیں ہے ، علماء کے ساتھ ساتھ ملت کے ہر فرد پر ملی کاموں کی ذمہ داری ہے ، ہر شخص کو اپنے حصہ کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے ۔انہوں نے علماء کی زریں خدمات کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ میری ملی خدمات کا یہ54 /واں سال چل رہاہے ۔اس پوری مدت میں میں نے دیکھاکہ ملت کوجب بھی کوئی مسئلہ درپیش آیا’اورجب کبھی وہ کسی مصیبت کی شکارہوئی تواس کے حل کے لیے سب سے پہلے علماء کی جماعت سامنے آئی اورپھراپنے ساتھ ملت کے دوسرے لوگوں کوشریک کرکے اس مسئلے کے حل کے لیے ہرممکن کوشش کی ۔انہوں نے امار ت شرعیہ کی مختلف الجہات خدما ت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ نے لوگوں کے اندر اجتماعی کاموں کا شعور پیدا کیا ہے ، یہ اللہ کا بڑا فضل ہے ، اس کی قدر کیجئے ۔آپ نے مدارس اور مساجد کے رجسٹریشن کے سلسلہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ رجسٹریشن کرانا بہت مفید ہے ، آپ نے حسابات کا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے آڈٹ کرانے کا بھی مشورہ دیا۔آپ نے مسجد کے نظام کو مضبوط کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے باصلاحیت افراد کو امام مقرر کرنے کی طرف توجہ دلائی ۔ مفتی محمد ثنائ الہدیٰ قاسمی صاحب نائب ناظم امارت شرعیہ نے اجتماعی نظام کی اہمیت و ضرورت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی نظام بھیڑ سے قائم نہیں ہو تا ، بلکہ وہ اس وقت قائم ہوتا ہے جب امیر اور امام کا رشتہ اپنے مامور اور مقتدی سے قائم ہو تا ہے ، جب امام اور امیر کی بات مانی جائے اور اس کی اتباع کی جائے تبھی اجتماعی نظام قائم ہو سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ جس طرح مسجد کے اندر امام کی اتباع کی جاتی ہے ،اسی طرح مسجد سے باہر امیر شریعت کی اتباع کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت کے لیے قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ضروری ہے ، آپ نے کلمہ کی بنیاد پر اتحاد کی دعوت دی ، آپ نے علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قوم کی تاریخ جہالت کے قلم سے نہیں لکھی جاتی بلکہ علم کے قلم سے لکھی جاتی ہے ، آپ نے کہا کہ سماج سے برائیوں کا خاتمہ کرنا جماعت کی ذمہ داری ہے ۔مولانا مفتی نذر توحید مظاہری نے علمائ کرام کی ذمہ داریاں بتاتے ہوئے کہا کہ علمائ کی ذمہ داریاں وہی ہیں جو امارت شرعیہ کا دستور ہے ، آپ امارت شرعیہ کے دست وبازو ہیں آپ کے تعاون کے بغیر امارت شرعیہ کی تنظیم مکمل نہیں ہو سکتی ۔آپ نے نشہ خورانی ، جہیز و تلک ، بے وجہ طلاق دینے جیسے سماجی برائیوں کی مذمت کرتے ہوئے علمائ و دانشوران کو متوجہ کیا کہ ان برائیوں کو سماج سے دور کرنے کے لیے محنت کریں ۔مولانا شمشاد رحمانی صاحب استاذ دار العلوم وقف دیوبند نے کہا کہ امت کے خواص کے سر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امت کے مسائل پر نگاہ رکھیں ، آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے مسائل پر نظر رکھتے تھے ،ان کو سنتے اوران کا حل بیان کرتے تھے ،یہی ذمہ داری آج علمائ کرام اور ملت کے ذمہ دار افراد کی ہے ۔آپ نے امت کے خواص سے کہا کہ اپنے کردار کو اعلیٰ بنائیے اگر امت کے خواص کا یہ طبقہ چھوٹے گناہوں میں مبتلا ہو گا تو عوام بڑے گناہوں میں مبتلا ہو جائے گی اور اگر یہ طبقہ بڑے گناہوں میں مبتلا ہو گا تو عوام تو کفر تک پہنچ جائے گی ، کیوں کہ آپ کو ہی دیکھ کر لوگ دین کی قدر کرتے ہیں اور آپ کو ہی بے راہ دیکھ کر دین سے دور ہو جاتے ہیں ، اس لیے امت کے خواص کی ذمہ داری ہے کہ اپنے ظاہر وباطن کو امت کے لیے نمونہ بنائیں ۔مولانا احمد حسین قاسمی مدنی معاون ناظم امارت شرعیہ نے اپنے خطاب میں امارت شرعیہ کے شعبہ تنظیم کا تعارف کراتے ہوئے اس کے ذریعہ کیے جا رہے کاموں اور اس اجلاس کی غرض وغایت کو لوگوں کے سامنے رکھا ۔آپ نے کہا کہ اگر آپ لوگ امار ت شرعیہ کے تنظیمی ڈھانچے کو دل سے قبول کریں گے تو مسائل حل ہوںگے ، مشکلات کی شکایت کرنے کے بجائے سب مل کر مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔مولانا قمر انیس قاسمی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ جو پیغام امارت شرعیہ آپ کو دے رہی ہے اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کیجئے،اپنے امیر کی اطاعت کیجئے اور جماعت مسلمین کو لازم پکڑ لیجئے ۔ آپ نے کہا کہ سو سال پہلے ہمارے بزرگوں نے ہم سب کو ایک جماعتی نظام امارت شرعیہ کی شکل میں دیا ،اس کی حفاظت کرنا اور اس کے پیغام کو دل سے لگانا ہم سب کا دینی فریضہ ہے۔ ۔مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے کہا کہ مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے ہم سب اللہ سے اپنے رشتہ کو مضبوط کریں ۔ ۔اس موقع پر مختلف بلاک سے تشریف لائے نمائندوں اور خواص نے اپنے اپنے علاقے کے مسائل سے امیر شریعت کو مطلع کیا، زیادہ تر لوگوں نے مساجد و مدارس ، قبرستان ، اسکولوں میں اردو اساتذہ کی کمی ، اردو کی تعلیم ، آپسی تنازع ، لڑکیوں کی تعلیم ، اقلیتوں کے لیے سرکاری منصوبوں ، این آر سی وغیرہ کے تعلق سے اپنے سوالات اور استفسار حضرت امیر شریعت مد ظلہ کے سامنے رکھے ،حضر ت امیر شریعت نے سبھی لوگوں کے سوالوں او ر مسائل کو غور سے سنا اور اپنے خطاب کے دوران ان کے حل پر روشنی ڈالی۔ ان دونوں نشستوں کی نظامت مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے فرمائی ۔ان دونوں نشستوں میں ہزاروں کی تعداد میں نقبا، نائبین نقبائ، ارکان شوریٰ ، ارباب حل و عقد، علمائ ، ائمہ کرام ، دانشوران اور خواص نے شرکت کی۔ خبر لکھے جانے تک اجلاس کی چوتھی نشست عظیم الشان اجلاس عام کی صور ت میں عید گاہ میدان سہرسہ بستی میں جاری ہے ، جس میں عوام و خواص کے جم غفیر کے درمیان علمائ کرام کے خطاب کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ اجلاس کے لیے عیدگاہ میدان میں عظیم الشان شامیانہ لگایا گیا ہے اور مختلف سڑکوں پر امارت شرعیہ کے سبھی امرائ شریعت کے نام سے منسوب بڑے بڑے گیٹ بنوائے گئے ہیں ۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply