تعلیم کے ذریعہ ایک مخصوص تہذیب مسلط کرنا خطرناک :امیر جماعت

DSC09828شعبۂ تعلیم کا دوروزہ تربیتی کیمپ برائے سکریٹریزحلقہ جات اختتام پذیر
نئی دہلی، ۷؍ مارچ (پریس ریلیز): اسلام کا تصورتعلیم یہ ہے کہ انسان اللہ ، اس کی قدرت و حکمت سے اچھی طرح واقف ہو۔ہر طالب علم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس عظیم کائنات کا خالق کون ہے؟ اسلامی تصور تعلیم میں تمام مسلمان کے لیے بلاتفریق مردوزن دین کی بنیادی تعلیم کا حصول لازمی ہے۔ ہمارا طریقۂ کار ایسا ہونا چاہیے کہ موجودہ تمام علوم کے حصول کے ساتھ طالب علموں کے لیے دینی علوم کا حصول بھی ممکن ہو سکے۔ ان خیالات کا اظہارمولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند نے شعبۂ تعلیم کے دوروزہ تربیتی کیمپ برائے سکریٹریزحلقہ جات میں اختتامی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو ہندو راشٹربنا نے کی ذہنیت کافی پہلے سے موجود تھی۔اب جبکہ اس ذہنیت کے حامل لوگ اقتدار میں ہیں تو ان کی پوری کوشش ہے کہ ایک مخصوص تہذیب وتمدن، جو کہ ہندو تہذیب ہے، کو تعلیم کے ذریعہ ملک میں عام کر دیں۔ یہ ملک اورمسلمان دونوں کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ہمیں اپنی تعلیمی پالیسی تیار کرتے ہوئے اس نئے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے غور وفکر کرنا ضروری ہے۔
مرکزجماعت اسلامی ہند میں شعبۂ تعلیم کی جانب سے سکریٹریز برائے حلقہ جات کے لیے ۵۔۶مارچ کو دوروزہ تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا ۔کل ۱۶؍ریاستوں سے نمائندوں نے شرکت کی۔افتتاحی خطاب میں نائب امیر جماعت نصرت علی نے کہا کہ نظام تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کی صلاحیت کو ابھارا جائے اور ان سے کام لے کر دنیا کو مسخر کیا جائے۔اللہ نے انسانوں کو تسخیر کی صلاحیت بخشی ہے۔تعلیم لوگوں کی اندرونی صلاحیت کو نکھارنے کا کام کرتی ہے۔مرکزی حکومت کے تعلیمی رجحانات اور ممکنہ پالیسی جیسے اہم موضوع پر خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت سیدسعاد ت اللہ حسینی نے کہا کہ بجٹ میں تعلیم پر مستقل کمی کی جارہی ہے،عام شہریوں اور غریبوں کے لیے تعلیم مہنگی ہوتی جارہی ہے اور اہم اداروں میں آر ایس ایس کی سوچ رکھنے والوں کو مقررکیا جارہا ہے۔ تعلیم کو بتدریج پرائیوٹ ہاتھوں میں دیے جانے پر آپ نے تشویش کا اظہار کیا۔
اس دو روزہ تربیتی کیمپ میں’’تعلیم و تدریس کے میدان میں نئے رجحانات،تجربات اورمواقع ‘‘، ’’تعلیمی اداروں کا معائنہ اور گریڈنگ کا طریقہ‘‘، ’’حکومت کی تعلیمی اسکیمیں اور اس سے استفادہ کی صورتیں‘‘، ’’جزوقتی مکاتب اہمیت طریقہ تعلیم نصاب و نظام‘‘ وغیرہ جیسے اہم موضوعات پر ماہرین نے سیر حاصل گفتگو کی۔اس کے علاوہ کچھ عملی مشقوں کے ساتھ شعبہ کا مرکزی منصوبہ کا تعارف اور حلقوں کے منصوبوں وکاموں کا جائزہ بھی کیمپ کا اہم حصہ رہا۔سکریٹری جنرل جماعت اسلامی ہندانجینئر محمد سلیم،محمداشفاق احمد،سابق سکریٹری شعبۂ تعلیم ،پروفیسر محمود صدیقی صدر شعبۂ تعلیم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو)،ڈاکٹر بدرالاسلام ،ایسوسی ایٹ پروفیسرمانو،سید تنویر احمد،ڈاکٹر ارشد اکرام ایسوسی ایٹ پروفیسرجامعہ ملیہ اسلامیہ ،انعام اللہ فلاحی (معاون شعبۂ تعلیم)،ڈاکٹررضی الاسلام ندوی اور مولانا عبد السلام اصلاحی وغیرہ نے بھی کیمپ سے خطاب کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *