مسائل میں اضافہ ! لاعلمی،بے حوصلگی وپست ہمتی

محمد آصف اقبال، نئی دہلی
ہر آزاد جمہوریہ ملک میں شہریوں کو کچھ ایسے حقوق حاصل ہوتے ہیں جن سے ان کو محروم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ حقوق شہریوں کے لیے اتنے ضروری ہوتے ہیں کہ ان کے بغیر وہ اپنی شخصیت کی تعمیر نہیں کرسکتے۔ہمارے ملک کے دستور میں شہریوں کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی رو سے ہر شہری خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان، سکھ ہو یا عیسائی قانون کی نگاہ میں برابر ہے۔ہر شہری کو آزادئ خیال اور آزادئ مذہب کاحق حاصل ہے۔ ساتھ ہی ہر شہری کو سرکاری ملازمتیں نیز بڑے سے بڑا عہدہ بلا امتیاز وتفریق حاصل کرنے کا حق ہے۔ دستور نے صدیوں سے چلے آرہے چھوت چھات کے رواج کوجرم قرار دیا ہے اوراقلیتوں کو مذہبی وتمدنی آزادی دی ہے۔ انہیں اس بات کا بھی حق دیا ہے کہ وہ اپنے علیحدہ اسکول اور تعلیمی ادارے قائم کریں۔ اپنی تہذیب یا تمدن ،زبان اور رسم الخط کو قائم وبرقرار رکھیں اورانہیں ترقی دیں۔ ساتھ ہی مخصوص مذہب کی تبلیغ اور مذہبی مراسم اداکرسکیں۔
دستورہندنے ہندوستانی عوام کو اقتدارکا سرچشمہ مانا ہے۔اس کو صاف اور کھلے الفاظ میں دستور کی تمہید میں بیان کیا گیا ہے۔ دستور نے ہندوستان کو ایک بااقتدار ، خود مختار عوامی جمہوریہ مانا ہے۔نیز بلاتفریق و امتیاز ،مذہب و ملت، جنس و رنگ اور ذات پات ہر بالغ ہندوستانی کو حکومت کی تشکیل میں ووٹ کا حق دیا ہے۔انہیں ووٹوں سے مرکز اور ریاستوں میں حکومتیں قائم ہوتی ہیں۔ دستور کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس نے ملک میں غیر مذہبی جمہوریت قائم کی ہے۔یعنی اسٹیٹ کا کوئی مذہب نہیں ہے اور ہر مذہب کو یکساں حیثیت حاصل ہے۔دوسرے ہندوستان کے تمام باشندے خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ماننے والے ہوں ایک مشترک شہریت میں منسلک کردیے گئے ہیں۔ہر ہندوستانی شہری کو اسٹیٹ سے متمتع اور اس سے فائدہ اٹھانے کا پوراحق ہے۔ مذہب یا ذات پات یا کسی خاص علاقہ یا ریاست میں پیدا ہونے کی بنا پر کسی ہندوستانی کو شہریت کے کسی حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس کے ساتھ کسی قسم کی تفریق کی جاسکتی ہے۔
قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، یعنی حق مساوات تمام شہریوں کو برابر سے ملا ہے۔آئین کی دفعہ۱۴؍کہتی ہے: مملکت کسی شخص کو ہندوستان کے علاقہ میں قانون کی نظر میں مساوات یا قوانین کے مساویانہ تحفظ سے محروم نہیں کرے گی۔وہیں دفعہ۱۵؍میں بتایا گیا ہے (۱) مملکت محض مذہب، نسل، ذات، جنس یا مقام پیدائش یا ان میں سے کسی کی بنا پر کسی شہری کے خلاف امتیاز نہیں برتے گی۔(۲) کوئی شہری محض مذہب، نسل، ذات،جنس، مقام پیدائش یا ان میں سے کسی کی بنا پر۔۔۔(الف) دکانوں،عام ریستوران،ہوٹلوں یا عام تفریح گاہوں میں داخلہ کے لیے ، یا(ب) کلی یا جزوی طور سے مملکتی فنڈ سے قائم یا عام لوگوں کے استعمال کے لیے کنوؤں،تالابوں،اشنان گھاٹوں،سڑکوں اور عام آمدورفت کے مقامات کے استعمال کے ناقابل نہ ہوگا یا اس پر کوئی ذمہ داری یا پابندی یا شرط نہ ہوگی۔ساتھ ہی (۳) اس آئین میں کوئی امر اس میں مانع نہ ہوگا کہ مملکت عورتوں اور بچوں کے لیے کوئی خاص توضیع کرے۔
ہندوستان کے آئین میں شہریوں کے لیے حق آزادی کا بھی بہت تفصیل سے تذکرہ ہے۔دفعہ۱۹ (۱)کی روشنی میں ، تمام شہریوں کو حق حاصل ہے:(الف) آزادئ تقریر و آزادئ اظہار کا؛(ب) امن پسندانہ طریقہ سے اور بغیر ہتھیاروں کے جمع ہونے کا؛(ج) انجمنیں یا یونین قائم کرنے کا؛(د) ہندوستان کے سارے علاقہ میں آزادانہ نقل و حرکت کرنے کا؛(ہ) ہندوستان کے علاقہ کے کسی حصہ میں بود و باش کرنے اور بس جانے کا ، اور(ز)کسی بھی پیشہ کے اختیار کرنے یا کسی کام کاج ، تجارت یا کاروبار کے چلانے کا۔آئین میں حق آزادی کے ’الف تاز‘ حقوق کی تشریحات بھی کی گئی ہیں، جن کی روشنی میں کوئی بھی شہری ان حقوق کو حاصل کر سکتا ہے۔دفعہ۱۹،(۱)کے ذیلی فقرہ (الف) کی تشریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کوئی امر کسی موجودہ قانون کے نفاذ کو متاثر نہ کرے گا۔ نہ مملکت کے کسی قانون کے بنانے میں مانع ہوگا جس حد تک ایسا قانون مذکورہ ذیلی فقرہ کے عطا کیے ہوئے حق کے استعمال پر ہندوستان کے اقتدار اعلیٰ اور سا لمیت،مملکت کی سلامتی، غیر مملکتوں سے دوستانہ تعلقات،امن عامہ ،شائستگی یا اخلاق عامہ کی اغراض کے لیے یا توہین عدالت، ازالہ حیثیت عرفی یا کسی جرم کے لیے اکسانے کے تعلق سے معقول پابندیاں عائد کرے۔وہیں مذکورہ فقرہ کے ذیلی فقرہ (ب) میں کوئی امر کسی موجودہ قانون کے نفاذ کو متاثر نہ کرے گا نہ وہ مملکت کے کسی قانون بنانے میں مانع ہوگا۔ جس حد تک وہ ذیلی فقرہ مذکور کے عطا کیے ہوئے حق کے استعمال پر ہندوستان کے اقتدار اعلیٰ اور سا لمیت یا امن عامہ کی اغراض کے لیے معقول پابندیاں عائد کرے، ۔۔۔وغیرہ۔
اس سب سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ہندوستان میں قانونی اعتبار سے شہریوں کو بے شمار تحفظات حاصل ہیں ۔اس کے باوجود ملک میں اقلیتوں اور کمزور طبقات کے ساتھ جس طرح جارحانہ معاملات ایک کے بعد ایک سامنے آرہے ہیں وہ حد درجہ تشویشناک ہیں۔گذشتہ دنوں ملک میں شہری کیا کھائیں اور کیا نہیں،اس کو لے کر جھوٹ پر مبنی ایک افسوس ناک واقعہ سامنے آیا ۔اس کے بعد ملک کے ایک بڑے طبقے نے متشدد افراد کے خلاف کاروائی کی مانگ کی۔لیکن افسوس کہ یہ واقعہ و کاروائی جاری ہی تھی کہ ہریانہ کے فرید آباد علاقہ میں ایک دلت کنبہ کو زندہ جلا ڈالنے کا معاملہ سامنے آگیا۔یہاں بھی عوام نے افسوس ظاہر کیا،مظاہرے کیے اور مجرمین کو سزا دلوانے کی مانگ کی۔لیکن انسانیت بری طرح تب شرمسار ہوئی جبکہ واقعہ سے متعلق الیکٹرانک میڈیا کوانٹرویو دیتے ہوئے مرکزی وزیر جنرل وی کے سنگھ نے کہا کہ کوئی کتے پر پتھر پھینک دے تو کیا سرکارذمہ دار ہوگی؟ان کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر منیش تیواری نے کہا کہ زندہ جلادیے گئے دو بچوں کی موت کا موازنہ ایک کتے کو پتھر مارے جانے سے کرنا،اس سے زیادہ بیہودہ اور نفرت آمیز اور کیا ہو سکتا ہے۔یہ حکومت کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے ۔انہوں نے نریندر مودی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسال قبل ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نے بھی رائٹرس کو دیے گئے انٹرویو میں ایسے ہی الفاظ کا استعمال کیا تھا۔تب انہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی کتے کا پلا بھی گاڑی کے پہیہ کے نیچے آجاتا ہے تو اس کے لیے بھی حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ان کا یہ تبصرہ سنہ ۲۰۰۲ ؍میں گجرات میں ہومسلم کش فسادات کے تناظر میں تھا۔منیش تیواری کی گفتگو کے پس منظر میں یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ برسراقتدار پارٹی کا ایک بڑا طبقہ اقلیتوں اور سماج کے کمزور طبقوں کے تعلق سے کیا نظریہ رکھتا ہے۔ایک جانب حدر درجہ نفرت کافروغ ہے تو دوسری طرف منووادی نظام کا اثر ہے،جو دماغوں میں رچ بس چکا ہے۔لہذا مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو بھی سوچنا چاہیے کہ جو نفرت پیدا کی جا چکی ہے،اور جو نظام ایک بار پھر قائم کیے جانے کی کوشش ہورہی ہے،اس میں موجود خرابیوں کو صرف ڈانٹنے ڈپٹنے اور اظہار ناراضگی سے دور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ بیانات دیتے وقت ذرا احتیاط برت لی جائے۔وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ فکرو نظریہ انسان کے عمل میں لازماً جھلکتا ہے،اس کے باوجود کہ وہ کتنی ہی احتیاط برتے،اور اسے کتنی ہی نصیحتیں کیوں نہ کی جائیں!
حالات کے پس منظر میں جہاں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعصب سے پاک نظام فراہم کرے وہیں ہمارے ، آپ کے اور عام شہریوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ دستورمیں موجود دفعات کو سمجھیں اورآئینی طریقہ سے مسائل کے حل کی منظم سعی و جہد کریں۔اس پہلو سے دو کام بہت اہمیت کے حامل ہوجاتے ہیں۔(ایک)فرد واحد کی واقفیت اور(دو)متاثرہ یا غیر متاثرہ باشندگان ملک کے ذریعہ مقامی سطح پر قانونی رہنمائی کے لیے پلیٹ فارم کا قیام۔حقیقت یہ ہے کہ قانونی اعتبار سے آئین میں بہت حد تک مسائل سے نمٹنے کا اہتمام کیاگیا ہے، اس کے باوجود لاعلمی،بے حوصلگی اورپست ہمتی مسائل میں اضافہ کا سبب بنتے جا رہے ہیں!
(maiqbaldelhi@gmail.com)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *