ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

ڈاکٹراخلاق آہن
ڈاکٹراخلاق آہن

ڈاکٹراخلاق آہن

یاد کیجئے وہ منظر ۔مئی ۱۸۵۷عیسوی کا دوسرا ہفتہ تھا۔ لال قلعہ سب سے پہلے پہنچنے والوں میں میرٹھ کے برہمنوں کی ایک جماعت’دین‘ ’دین‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے پہنچی اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر سے اپنے دین و مذہب کی حفاظت و صیانت کی دہائی دینے لگی اوران سے اپنی داد رسی کی فریاد کی تاکہ وہ انگریزوں کی طرف سے ہونے والی یلغار کی روک تھام کریں۔ سناتن دھرم کے پیروؤںیا ہندوؤں اور مسلمانوں کی ناراضگی کی وجہ ایک خبر جو شاید افواہ تھی کہ بندوقوں میں استعمال ہونے والی گولیوں میں گائے اور سور کی چربی کی آمیزش ہے۔

اس غیر متوقع اشتعال کے پیچھے طویل مدت سے پل رہے بہت سے سیاسی اور اقتصادی اسباب کے علاوہ سماجی ومذہبی اصلاحات مثلاً ستی، بچپن کی شادی وغیرہ بھی کار فرما تھے جس کی پشت پناہی انگریزی حکومت کر رہی تھی اور جسے یہ اپنے مذہبی معاملات میں مداخلت سمجھتے تھے ۔ ساتھ ہی ساتھ حکومت کی زیر نگرانی چل رہی مذہب تبدیلی مہم جو بہت سے روایتی اور قدامت پرست افراد کے نزدیک براہ راست مذہب پر حملہ تھا۔ یہی باتیں مجموعی طور پر عام ہندستانیوں کے غیظ وغضب کی اہم وجہ بنیں۔انقلاب سے قبل یہ اور اس نوعیت کے دیگر مسائل وقتاً فوقتاً اخباروں کی سرخیاں بنتے رہے،

خصوصاانگریز حکومت کی زیر نگرانی انجام دی جانے والی تبدیلئ مذہب کا قضیہ آگرہ اخبار نامی ایک فارسی اخبارمیں اٹھایا گیا جو شمالی ہند کے کچھ زمینداروں کے مالی تعاون سے نکلتا تھا۔ تاہم آج کے ماحول میں ان اصلاحات اور مصلحین کو بنظر تحسین دیکھا جا رہاہے۔ اس لیے کہ آج کا سماج ترقی یافتہ مانا جارہا ہے یہاں تک کہ کچھ قدامت پسند افراد بھی کھلے بندوں ان اصلاحات کے ثناخواں ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی ملحوظ خاطر رہے کہ آج بھی سماج کی اکثریت یاتو ان پڑھ ہے یا صرف خواندہ یا ڈگری یافتہ گنواروں پر مشتمل ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہ ہماری آبادی کی ایک قلیل تعداد شاید ایک فیصد کے علاوہ بیشتر افراد ایسے ہیں جو مختلف مذاہب کے ماننے والے اور ان کے معمولات پر کاربند ہیں۔لہذا، ایسے مذہب و روایت پسند اور حساس سماج کے لیے ماقبل استعماری عہد میں رائج رواداری اور بقائے باہم اور امن وآشتی کے اصولوں پرقائم نظام زیادہ مناسب ہوگا۔اس کے برعکس سماج میں مغربی لبرل اقدار کو نافذ کرنے کی کوشش کو قبول کرنے کے لیے غریبی اور جہالت کی مار جھیل رہی ہندوستانی معاشرہ کی اکثریت ابھی تیار نہیں اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اکثریت تعلیم یافتہ نہ ہوجائے اورآبادی کا ایک بڑا حصہ روشن خیال اور فکری طور پر بیدار نہ ہوجائے۔

یاد رہے کہ انگریزی سامراج نے ابتداء میں گائے اور سور کے تئیں غیر سنجیدگی اور غیرحساسیت کا مظاہرہ کیا اورنتیجے کے طورپر انہیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی، لیکن بعد میں انہوں نے اس حساسیت کو’’ لڑاؤ اور راج کرو‘‘ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ اور اس طرح تاریخ میں پہلی بار ۱۹؍ویں صدی کے نصف آخر میں ’’گائے بچاؤ‘‘ کا نعرہ مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا گیا، تاہم اس کی مخالفت میں مسلمانوں کی طرف سے کوئی جدوجہد نظر نہ آئی۔ ’’گائے بچاؤ‘‘ کی مہم گاندھی جی، ونوبابھاوے جیسے رہنماؤں کی طرف سے بھی چلائی گئی، جسے مولانا آزاد اور خان عبد الغفار خان وغیرہ کی حمایت بھی حاصل ہوئی تاکہ اکثریتی طبقہ کے جذبات کا احترام ہو اور بانٹنے والی طاقتوں کو ناکام بنایا جاسکے۔
اس بارے میں مولانا آزاد نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے مسلمانوں کی ایک نمائندہ جماعت جمیعتہ علمائے ہند کے ایک جلسہ میں کہا کہ اس سے قطع نظرکہ حکومت گائے کا ذبیحہ ممنوع قرار دے یا نہ دے ،یا لوگ اُس کی مانگ کریں یا نہ کریں ، مسلمانوں کو اس عمل سے احتراز کرنا چاہیے اور علماء کے درمیان عموماً اس ضمن میں کوئی اختلاف رائے نہیں رہی،بلکہ بیشتر جماعتیں یا افراد اسی رائے کے حق میں ہیں۔ یہاں تک کہ کشمیر جیسے مسلم اکثریتی صوبہ میں بھی سکھ اور ڈوگرا حکمرانوں کے زمانے سے ہی گائے کا ذبیحہ ممنوع ہے اور بد ترین دنوں میں بھی یہ کوئی مسئلہ نہیں رہا۔

بدقسمتی سے آزادی کے بعد اس کو غلط رنگ دیا گیا اور اس کا بیجا استعمال کیا گیا تاکہ ان پڑھ اور سیدھے سادے عوام کو بھڑکایا جائے اور اپناالّو سیدھا کیا جائے۔ اس ضمن میں حق طعام اور شخصی انتخاب کی آزادی جیسی دلیلیں ترقی پسندانہ سوچ اور روشن خیالی کے زمرے میں تو آسکتی ہیں تاہم ان لوگوں پر ان کا کوئی اثر نہ ہوگا جو گائے کو ماں کا درجہ دیتے ہیں اور بطور خدا پرستش کرتے ہیں۔ اس لیے اسے غیر قانونی قرار دینے کی ذمہ داری حکومت کے پالے میں ہے اوراس لیے بھی کہ اس کا مطالبہ خود مسلمانوں اور دوسری قوموں کی طرف سے اٹھایا جاتا رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اگرواقعی ایمانداری سے حکومت پابندی کے حق میں ہے تو اسے بلاتردد اس پر پوری طرح پابندی عائد کردینی چاہیے، جس میں اس کا اکسپورٹ، امپورٹ، خریدوفروخت حتیٰ کہ کھانا کھلانا بھی شامل ہو اور غلط فہمیوں کو ختم کرتے ہوئے ، یہ حقائق سب پر یہ واضح کردینا چاہیے کہ:

۱۔یہ فرض کرنا غلط ہے کہ اس سے ایک بڑے طبقے کے جذبات مجروح نہیں ہوتے۔
۲۔ اسی طرح یہ خیال بھی اتنا ہی غلط ہے کہ گائے ذبح کرنا اسلامی احکامات کی پابندی کا حصہ ہے یا مسلمان اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے۔
۳۔ ملک کے باشندوں کو اپنی بنیادی ضرورتوں مثلاً کھانا، تعلیم، صحت وغیرہ کے لالے پڑے ہیں انہیں اس قسم کے مسائل میں اُلجھانا بددیانتی اور بدنیتی کی غماز ہے۔
۴۔کوئی خوراک لوگوں کے بیچ نفرت کا سبب نہیں بننی چاہیے۔
لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی حکومت اس مسئلے پرسنجیدہ ہے یا اسے صرف سیاست کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *