ایران سے گیس پائپ لائن کے سوال پر ہندوستان خاموش

نئی دہلی، ۱۵؍دسمبر(نامہ نگار) ایران سے پاکستان کے راستے ہندوستان تک گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبہ پر نئی دہلی اب بھی اپنی خاموشی توڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ منگل کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران مرکزی وزیر برائے پٹرولیم دھرمیندر پردھان ایران ۔پاکستان ۔ہندوستان (آئی پی آئی) گیس پائپ لائن منصوبہ پر دوبارہ بات چیت شروع ہونے کے امکانات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کو ٹال گئے۔

ان سے پوچھا گیا تھا کہ ترکمنستان۔افغانستان۔پاکستان۔ہندوستان (تاپی) گیس پائپ لائن منصوبہ شروع ہونے کے بعد کیا آئی پی آئی کے بارے میں بھی بات چیت شروع ہونے کا امکان ہے ؟ تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بیحد خوشی کی بات ہے کہ تاپی گیس پائپ لائن منصوبہ شروع ہوگیا ہے اور اس کی افتتاحی تقریب میں نائب صدر جمہوریہ جناب حامد انصاری نے شرکت کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہتہران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے ختم ہونے کے بعد ہم ایران کے تیل اور گیس کے ذخائر والے فرزاد ’ب‘ علاقے میں سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں بات چیت کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ روس سے بھی قدرتی گیس درآمد کرنے کی بات ہورہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان توانائی کی اپنی ضروریات پوری کرنے اور اس کی سپلائی کو بغیر کسی رکاوٹ کے یقینی بنائے رکھنے کے لیے ان سبھی ملکوں کے ساتھ بات چیت کررہا ہے جو تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار اور تجارت کے اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔

اس سے پہلے دھرمیندر پردھان نے کہا کہ ہندوستان اور پٹرولیم مصنوعات صادر کرنے والوں کی تنظیم اوپیک کے درمیان پہلا ادارہ جاتی مذاکرہ ہوا ہے۔ اس کے لیے اوپیک کے سکریٹری جنرل عبداللہ البدری اپنے وفد کے ساتھ پہلی بار ہندوستان آئے ہیں۔ مسٹر پردھان نے کہا کہہندوستان نے اوپیک کے سامنے دنیا کے چوتھے سب سے بڑے تیل کے صارف کے طور پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے اور اس عالمی تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خریدار اور فروخت کنندہ کے رشتوں سے اوپر اٹھ کر پارٹنر اور شریک جیسا معاملہ کرے۔ انہوں نے کہا کہہم نے اوپیک سے تیل کی قیمت کو مناسب اور ذمہ دارانہ بنائے رکھنے کی بھی مانگ کی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی بازار میں تیل کی قیمت طے کرنے میں اوپیک کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان تیل اور گیس کی اپنی کل درآمدات کا بالترتیب ۸۵؍ اور ۹۵؍ فیصد حصہ اوپیک ملکوں سے ہی حاصل کرتا ہے۔

اس موقع پر اوپیک کے سکریٹری جنرل عبداللہ البدری نے کہا کہ ہم نہ زیادہ قیمت چاہتے ہیں اور نہ کم قیمت چاہتے ہیں بلکہ ہم منصفانہ قیمت چاہتے ہیں۔ البتہ وہ اس سوال کا جواب نہیں دے پائے کہ منصفانہ قیمت سے ان کی مراد کیا ہے۔ اس سوال کا سیدھا جواب دینے کی بجائے انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمت بازار طے کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمت کا موجودہ رجحان بہت زیادہ دنوں تک جاری نہیں رہے گا بلکہ اس میں ایک سال کے اندر اندر تبدیلی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی قیمت میں امریکی تیل کے بازار میں آنے کے باوجود بھی اب کوئی کمی نہیں آئے گی۔

لیبیا کے نائب وزیر اعظم رہ چکے عبداللہ البدری نے کہا کہ یہ خیال غلط ہے کہ تیل کی قیمت کم ہونے سے صارفین کو فائدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمت کم ہونے سے صارفین کو بھی لامحالہ نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ اس سے تیل کے شعبہ میں سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم قیمت کے سبب اس شعبہ میں سرمایہ کاری میں اب تک ۱۳۰؍ ارب ڈالر کی کٹوتی کی جاچکی ہے۔ اس سے آئندہ برسوں میں تیل کی پیداوار شدید طور سے متاثر سے ہوگی۔ ظاہر ہے تیل کی پیداوار کم ہوگی تو اس کی سپلائی کم ہوگی اور پھر قیمت میں اضافہ ہوگا۔ اس لیے تیل کی قیمت کو منصفانہ سطح پر بنائے رکھنا سب کے حق میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *