ملک نہایت ہی خطرناک دور میں ہے: مولانا ارشد مدنی

نئی دہلی، ۹؍ مارچ، (نامہ نگار) جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر فرقہ پرستوں کی Arshad Madaniسرپرستی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آج ملک کے جتنے بدتر حالات ہیں وہ اس سے پہلے کبھی نہیں رہے۔ انہوں نے ۱۲؍ مارچ کو ہونے والی قومی یکجہتی کانفرنس کے حوالے سے میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے ملک میں اقلیتوں اور خاص طور سے مسلم اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ حکومت میں شامل افراد اور پارلیمنٹ کے ارکان نفرت پھیلانے والی باتیں کرتے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ وہ ایسے افراد پر قدغن نہیں لگا رہی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اشتعال پھیلانے والوں کی پشت پناہی کررہی ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ گنگا جمنی تہذیب والے ہندوستان میں اسلام کے ماننے والوں، عیسائیت کے پیروکاروں اور یہاں تک کہ دلتوں کو بھی جینے کے حق سے محروم کردینے کی کوشش اور سازش ہورہی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں اور دلتوں کو ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے لیے آپس میں متحد ہونے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کا زہر ملک کو ایک بار پھر تقسیم کے دہانے پر لے جارہا ہے، جس کے خلاف پوری طاقت سے لڑنے کی ضرورت ہے۔
قومی یکجہتی کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمعیۃ علماء ہند فرقہ واریت کے خلاف شروع سے لڑتی آئی ہے، اور آج جبکہ حالات مزید بدتر ہوگئے ہیں تو جمعیۃ اس لڑائی کو اور بھی زیادہ قوت کے ساتھ لڑنے کے لیے آگے آئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *