پورے ہندوستان کو خسرو کی ضرورت ہے: حمید اللہ بھٹ

اردو کی تشکیل و ترقی میں سب سے پہلا نام امیر خسرو کا ہے : ارتضیٰ کریم
قومی اردو کونسل میں ’امیر خسرو ‘کے یوم ولادت پر جشن یوم اردو کا انعقاد کیا گیا

نئی دہلی: قومی اردو کونسل میں امیر خسرو کے یوم ولادت پر جشن یوم اردو کا انعقاد کیا گیا۔ قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے سبھی مہمانوں کا استقبال کیا اور یوم اردو منانے کی غرض و غایت بیان کی۔ اس پروگرام میں کونسل سے وابستہ رہے سابق افسران کو مدعو کیا گیا تھا۔ان کے علاوہ دہلی کے مختلف اسکولوں کے پرنسپل حضرات نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔پروگرام کے آغاز میں سبھی مہمانوں کا گلدستے سے استقبال کیا گیا۔کونسل کے ڈائریکٹر نے کہا کہ اردو کی تشکیل و ترقی میں سب سے پہلا نام امیر خسرو کا آتا ہے۔ اس لیے ہم نے ارادہ کیا ہے کہ یوم اردو امیر خسرو کے یوم ولادت ۳؍مارچ کو منایا جائے۔ اس دن کو منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ہم اردو کے مسائل کو کیسے حل کر سکتے ہیں یا اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں ہم اپنا کردار کس طرح ادا کر سکتے ہیں، اس پر بھی غورو خوض کیا جائے۔

قومی اردوکونسل کی نئی چھوٹی کتب وین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کرتے ہوئے حمیداللہ بھٹ ، کمال فاروقی ودیگر۔
قومی اردوکونسل کی نئی چھوٹی کتب وین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کرتے ہوئے حمیداللہ بھٹ ، کمال فاروقی ودیگر۔

 

قومی اردو کونسل کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد حمید اللہ بھٹ نے امیر خسرو کی شخصیت اور شاعری پر نہایت علمی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ آج پورے ہندوستان کو خسرو کی ضرورت ہے۔ ملک کی سالمیت کے لیے آج امیر خسرو کے پیغام کو ملک میں عام کرنا چاہیے۔ انہوں نے قومی اردو کونسل کو یہ تجویز بھی پیش کی کہ وہ اپنی اسکیم ایک سالہ اردو ڈپلومہ کے تحت ملک کے اسکولوں میں اردو اساتذہ بحال کرے، جن کی تنخواہ کم از کم دس ہزار روپے ہو۔ ان کی اس تجویز کو کونسل کے موجودہ ڈائریکٹر پروفیسر ارتضیٰ نے پسند کرتے ہوئے اس سلسلے میں پیش رفت کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے قومی اردو کونسل کے تمام مراکزمیں ۳؍ مارچ کو یوم اردو کے انعقاد سے متعلق ہدایت بھی جاری کی۔

معروف ماہر تعلیم کمال فاروقی نے کہا کہ اردو کے مسائل کو حل کرنے میں امیر خسرو کی شخصیت اور ان کا پیغام ہماری مدد کر سکتا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر غضنفر علی نے کہا کہ اردو بولنے والا آج کسی بھی میدان میں سرخرو ہو سکتا ہے۔ معروف ادیب و ناقد فاروق ارگلی نے کہا کہ امیر خسرو قومی یکجہتی اور ہندوستانی تہذیب کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ مقبول شاعرملک زادہ جاوید نے کہا کہ یوم اردو کے لیے ۳؍ مارچ کی تاریخ مناسب ہے۔

فتح پور سینئر سکینڈری اسکول کے پرنسپل فیاض میر خان نے کہا کہ اردو کی ترقی کے لیے ہمیں اپنے بچوں کو اردو پڑھانی ہوگی۔انہوں نے امیر خسرو کے کچھ کلام بھی سنائے۔ اس موقع پر ڈاکٹر خواجہ محمد معروف خاں نے اردو میں معیاری کتابوں کی فراہمی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری سطح کے درجات کے لیے کونسل اردو کتابیں تیار کرے جس سے اردو کی ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔زینت محل اسکول کی پرنسپل محترمہ مینا کماری نے اردو اساتذہ کی کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کونسل سے اس سمت میں پیش رفت کرنے کو کہا۔ جامعہ سینئر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر عبد النصیب خان نے اردو اسکولوں کے اساتذہ کی تربیت پر زور دیا۔ڈاکٹر مظفر حسن نے کہا کہ اردو والوں کو اپنے بچوں کو اردو ضرور پڑھانی چاہیے۔
قومی اردو کونسل کے سابق پرنسپل پبلی کیشن آفیسر پرویز شہریار نے امیر خسرو کو گنگا جمنی تہذیب کا امین بتاتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں ان کی شاعری اور پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایک نظم بھی پڑھی۔

قومی اردو کونسل کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اکیڈمک) محترمہ شمع کوثر یزدانی نے پروگرام کے آخر میں شکریہ ادا کیا۔ اس پروگرام کے اختتام پر قومی اردو کونسل کی نئی چھوٹی کتب وین کو سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر حمید اللہ بھٹ ، کمال فاروقی اور دیگر مہمانان نے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا ۔یہ وین دہلی اور اس کے قرب و جوار میں کتابوں کی فروخت کرے گی۔ پروگرام میں لوک سبھا سکریٹریٹ میں ایڈیٹر اور شاعر شیو کمار بلگرامی، کونسل کی ممبر محترمہ شمع خان، کونسل کے پرنسپل پبلی کیشن آفیسر ڈاکٹر شمس اقبال اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر، (انتظامیہ) کمل سنگھ کے علاوہ دیگر اسٹاف بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *