اِک اور گاندھی کی ضرورت

اشرف استھانوی
اشرف استھانوی

بابائے قوم مہاتما گاندھی کا یومِ شہادت آج بڑی عقیدت سے منایا جارہا ہے۔ انہیں ممنون قوم پرجوش خراجِ عقیدت پیش کررہی ہے۔ ساتھ ہی عدمِ تشدد اور حق و صداقت کے اصولوں پر گامزن رہنے کا عہد بھی کررہی ہے۔ اس کام میں بابائے قوم کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کے ماننے والے پیش پیش ہیں۔ گوڈسے اور اس کے ساتھیوں نے آج ہی کے دن تین گولیاں بابائے قوم کے سینے میں داغ دی تھیں اور گاندھی جی جائے حادثہ پر ہی ابدی نیند سو گئے تھے۔ ان کی شہادت تو ہوگئی مگر کچھ سوالات چھوڑ گئی ہے۔ وہ یہ کہ کیا بابائے قوم کی شہادت رائیگاں جائے گی؟ کیا ملک میں گاندھی کے قاتل آزاد گھومتے رہیں گے اور اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ملک کے ہر شہری، بالخصوص جمہوریت اور سیکولرزم پر یقین رکھنے والے لوگوں کو تلاش کرنا ہوگا۔ آزادی کے بعد اور خاص طو رپر حال کے چند برسوں کے دوران آرایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں نے جس طرح سے سر اٹھایا ہے، وہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ جمہوریت کے لئے خطرۂ عظیم بھی ہے۔
بابائے قوم کو اس بات کی خبر ہوچکی تھی کہ کچھ عناصر ان کی جان لینا چاہتے ہیں۔ یہ المناک حقیقت ہے کہ ملک کی تقسیم کے بعد پاکستان کے قیام کو گاندھی جی نے تسلیم کرلیا تھا جس کے خمیازہ کے طور پر انہیںموت کی نیند سُلا دی گئی۔ عدم تشدد، صداقت کے ہتھیار کو گاندھی جی نے آزادی کا ہتھیار بنایا اور انگریزوں کو تھک ہار کر ملک کو چھوڑنا پڑا۔ مگر جاتے جاتے اس برصغیر کو کشت و خون کا المیہ دے گئے اور ملک کو تقسیم کرادیا۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہیں کیونکہ یوروپی طاقتیں آج بھی مملکتِ خداداد پاکستان پر قابض ہیں۔ ملک کے جن مسلمانوں نے امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی دردمندانہ اپیل کو نظرانداز کرکے اپنا وطن چھوڑ کر نیا آشیانہ بنایا تھا، وہاں وہ آج بھی بیگانوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔
موہن داس کرم چند گاندھی کی خواہش تھی کہ آزادی کے بعد کانگریس کو ختم کردیا جائے لیکن کانگریس لیڈروں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اب راہل گاندھی کہتے ہیں کہ کانگریس ایک اِسپرٹ کا نام ہے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آزادی کے بعد کانگریسی لیڈروں نے اُسے حقیقی کانگریس رہنے ہی نہیں دیا۔ اب کانگریسی جو کہتے ہیں، وہ کرتے نظر نہیں آتے۔ گاندھی جی کی شہادت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ سیکولر اور گاندھی جی کے نظریات میں یقین رکھنے والے لوگ سڑکون پر آتے اور فسطائی قوتوں کا منھ توڑ جواب دیتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ آج بھی ملک میں جس طرح کی فضا ہے، وہ مہاتما گاندھی کی قربانی کا مذاق اُڑا رہی ہے۔ یومِ شہادت کے موقع پر سیکولر ہندوستان کے عوام کو متحد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں گاندھی جی کی ہمہ جہت خدمات، ہندو مسلم اتحاد سے باخبر کراتے ہوئے ان قوتوں کے چہرے سے نقاب نوچ دینے کی ضرورت ہے جو پورے ملک پر ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کررہے ہیں۔ جس کسی نے بھی ہٹلر کی سوانح پڑھی ہوگی، وہ اگر نریندر مودی کی حرکتوں کا موازنہ کرے تو یقینا مودی، ہٹلر کے جانشین ثابت ہوں گے۔ جھوٹ، فریب، عیاری، مکاری اور تاریخ کو مسخ کرکے پیش کرنا فاشسٹوں کی حکمتِ عملی ہوتی ہے جسے مودی نے اپنا رکھا ہے۔ نریندر مودی اور ان کے ساتھی آج گاندھی اور امبیدکر کے حقیقی پیروکار کے طور پر سامنے آرہے ہیں مگر ان کا عمل گاندھی اور امبیڈکر کے نظریات کے بالکل منافی ہے۔ یہ عدم تشدد میں نہیں بلکہ تشدد، آمریت اور عدم رواداری میں یقین رکھتے ہیں۔ اور جو لوگ اس کا شکوہ کرتے ہیں، ان کی پٹائی کرکے یا انہیں رسوا کرکے انہیں خاموش کردیتے ہیں اور اپنے عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ عدم تشدد اور رواداری سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
بابائے قوم کی شہادت کا تقاضا یہ ہے کہ ملک کے عوام متحد ہوں۔ ملک کی ۹۵ فیصد ہندو آبادی سیکولر ہے اور بنیادی طور پر روادار، وسیع القلب اور فراخ دل ہے۔ صدیوں سے دوسروں کو اپنانے کی فطرت نے انہیں فسطائی نظریات سے دُوررکھا ہے اور ملک میں گنگاجمنی تہذیب کا بول بالا رہا ہے۔ گاندھی جی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سب سے اچھا طریقہ تو یہی ہے کہ ہم اس تحریک کو فروغ دیں اور اسے مضبوط بنائیں جس میں گاندھی جی کی روح پیوست ہے یعنی ”رگھو پتی راگھو راجا رام، سب کو سمّتی دے بھگوان“۔ گاندھی جی اورمولانا آزاد اس ملک کی دو ایسی عظیم ہستیاں تھیں جومذہبی ہوتے ہوئے بھی سیکولر روایتوں کے امین تھے۔ گاندھی جی کے بعد پنڈت نہرو نے اس روایت کو آگے بڑھایا۔ آج بھی ملک میں سیکولرزم کی جڑیں کافی مضبوط ہیں۔ مودی کا جھونکا اُسے تباہ نہیں کرسکتا ہے۔
۲۰۱۴ کے پارلیامانی انتخابات میں نریندر مودی نام کی جو آندھی چلی تھی، اُسے دہلی اور بہار نے بے اثر کردیا ہے۔ خصوصی طور پر بہار نے جس طرح کی حکمت عملی، فرقہ پرستوں کے خلاف اپنائی اور کبھی ایک دوسرے کے کٹر مخالف رہے آر جے ڈی، کانگریس اور جنتادل یو نے سیکولر اتحاد قائم کیا اور نتیش کمار کی قیادت میں جنگ لڑکر تاریخ ساز کامیابی حاصل کی، وہ سارے ہندوستان کے لئے قابلِ تقلید ہے۔ بہار میں کمل نہیں کھل سکا، یہ اطمینان کی بات ہے۔ مگر اتنے سے کام نہیں چلنے والا ہے۔ آگے بہت سارے مراحل ہیں۔ آسام، مغربی بنگال، اُترپردیش اور پنجاب جیسی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ مودی اور ان کے سنگھی آقا کو ان ریاستوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ ریاستوں پر قابض ہوکر اپنی طاقت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں اور پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا یعنی راجیہ سبھا میں بھی اپنی اکثریت قائم کرکے ملک میں سنگھی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں اور من مانے طریقے سے نئے نئے قوانین وضع کرکے گاندھی، نہرو، امبیڈکر، مولانا آزاد اور پٹیل کے ہندوستان کی تصویر بدلنا چاہتے ہیں۔ ملک کی سیکولر طاقتوں کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔
اگر بہار کی طرح ملک کی دیگر ریاستوں کی سیکولر عوام نے بھی سمجھداری سے کام لیا اور کانگریس، آر جے ڈی اور جنتادل یو کی طرح دوسری سیکولر پارٹیوں نے بھی ملک و قوم کے مفاد میں متحد ہوکر فسطائی قوتوں کا مقابلہ کیا اور مودی کی آڑ میں آرایس ایس کے بڑھتے قدم کو روکنے کی کوشش کی تو یہ بابائے قوم کو سچا خراجِ عقیدت ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *