۔۔۔ تاکہ رک سکے ریل حادثوں کا سلسلہ

shahzad-photo-edited-1محمد شہزاد
ریلوے نیٹ ورک کے معاملے میں ہندوستان کا دنیا میں چوتھا مقام ہے۔ اس کے ذریعے روزانہ تقریباً ۲۰؍ ہزار ٹرینیں چلائی جاتی ہیں۔ ان میں قریب ساڑھے بارہ ہزار مسافر ٹرینیں ہیں جن سے روزانہ کم وبیش ۲۳؍ملین یعنی دو کروڑ ۳۰؍ لاکھ افراد سفر کرتے ہیں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ریل نیٹ ورک میں ہوتا ہے۔ یہ سوچ کر ہمارا سینہ چوڑا ہونا فطری ہے، لیکن جب بھی کانپور جیسے ریل حادثے ہوتے ہیں ہمارا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔
طویل مسافت کا سب سے مقبول ذریعہ ہونے کے باوجود یہاں ہر سال کئی ریل حادثے ہوتے ہیں، گویا ریل حادثہ ہمارے یہاں عام بات ہے۔ اس سلسلے میں سن ۲۰۱۲ء کی ایک رپورٹ چونکانے والی ہے۔ اس کے مطابق اپنے ملک ہندوستان میں ریل حادثوں کے سبب ہرسال قریب ۱۵؍ ہزار افراد مارے جاتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ریل پٹریوں کا خراب رکھ رکھاؤ، حفاظت کے پیمانوں کو نظر انداز کرنااور آؤٹ آف ڈیٹ ہوچکے ریلوے کے اسباب وآلات ہیں۔
کانپور سے سو کلومیٹرکے فاصلے پرواقع پکھرایاں کے پاس اندور۔پٹنہ ایکسپریس کے حادثے کا شکار ہونے کے پیچھے ان ہی اسباب کو ذمہ دار قرار دیا جاسکتاہے۔ اگرچہ حادثے کی اصل وجہ کا پتہ ابھی نہیں چل سکا ہے، تاہم ریلوے کے اعلیٰ افسران کے مطابق ایسا ریل پٹریوں میں دراڑ آنے، ان کے ٹوٹنے یا پھر اکھڑنے کے سبب ہوا ہوگا۔ بہرحال، وجہ چاہے جو بھی ہو، اس حادثے نے ریلوے سیکورٹی کے لیے کیے جارہے اقدامات اور تدابیر کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ جب ریلوے کی پٹریوں کے سبب سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں تو اس طرف دھیان کیوں نہیں دیا جاتا؟کیوں اس کے رکھ رکھاؤ اور فیٹنگ میں لاپروائی برتی جاتی ہے، کیوں نہیں اس کے لیے قابل افراد کی تقرری کی جاتی ہے، جبکہ حکومت کی طرف سے اب تک ہرسال ریلوے بجٹ میں ریلوے سیکورٹی کے لیے بڑے بڑے اعلانات اور دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ اس کے لیے اچھی خاصی رقم بھی مختص کی جاتی ہے۔ کروڑ وں روپے نئی نئی تکنیک کے نام پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم آزادی کے ۷۰؍سال گذرجانے کے بعد بھی نہ تو انگریزوں کے زمانے میں بچھائی گئی ریل لائنوں کی اس حساب سے توسیع کرسکے اور نہ ہی انہیں بدلنے میں بہت بڑی کامیابی حاصل کرسکے ہیں۔
اندور۔پٹنہ ایکسپریس ٹرین حادثے کو حالیہ برسوں میں ہوئے سب سے بھیانک حادثوں میں شمار کیا جارہا ہے اور پانچ سال قبل مئی ۲۰۱۰ء میں بنگال کے مدناپور میں ہوئے گیانیشوری ایکسپریس حادثے کے بعد سب سے بڑاحادثہ ہے۔ گیانیشوری ایکسپریس حادثے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نکسلیوں کے ذریعہ پٹری کو اڑانے کی وجہ سے ہوا، لیکن انسانی لاپروائی کے سبب کانپور جیسا بڑا حادثہ ہونا اپنے آپ میں کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔ حادثہ کتنا بھیانک تھا،ا س کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں ۱۴۵؍ افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہوچکی ہے، اور اس تعداد میں اضافے کا اندیشہ ۲۱؍نومبر کی رات تک بناہوا تھا۔
ایسے میں چھوٹی چھوٹی لاپروائیوں کے سبب ہونے والے حادثوں کو ہر حال میں روکنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے کمزوراور پرانی پٹریوں، خراب پلوں، بغیر نفری کے کراسنگ اور رکھ رکھاؤ کے لیے کارکنوں کی کمی جیسی خامیوں کو دور کیا جانا چاہیے۔ جدید تکنیک اور قابل کارکنوں کی تعداد میں اضافہ سے اس کا حل ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں ایسی بھی تدبیر کرنی چاہیے کہ حادثوں کی صورت میں جان ومال کا کم سے کم نقصان ہوسکے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اندور۔پٹنہ ایکسپریس ٹرین میں حادثے میں ہوئی بیشتر اموات کی ایک بڑی وجہ ایل ایچ بی یعنی ’لنک ہاف مین بش‘ کوچوں کی جگہ پرا نے ڈبوں کا استعمال ہے۔ یاد رہے کہ اس حادثے میں ٹرین کے ۱۴؍ ڈبے پٹری سے اتر گئے اور ان میں کئی بری طرح تباہ ہوگئے ۔ یہ سبھی ڈبے روایتی ڈیزائن اور پرانی تکنیک سے بنے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دوسرے سے ٹکر لگنے کے بعد اس کے کئی ڈبے بری طرح پچک گئے اور پلک جھپکتے ہی سوسے زیادہ افراد موت کے منھ میں سما گئے ۔ اس کے برعکس اسٹینلیس اسٹیل والے ایل ایچ بی کوچوں میں حادثوں کے وقت ہونے والی ٹکر اور جھٹکوں کو برداشت کرنے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔اس سے مسافروں کو کم سے کم نقصان پہنچتا ہے۔ جرمنی سے منگوائی گئی اس تکنیک کے بعد زیادہ تر نئی ٹرینوں میں ایسے ہی ڈبوں کا استعمال کیا جاتاہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ پرانی ٹرینوں کو نظراندازکرکے کیوں ان ہی پرانے ڈبوں کے سہارے گھسیٹا جارہا ہے۔یہی نہیں ، حادثوں کا شکار ڈبوں کو کاٹنے کے لیے عام کٹر کی بجائے ہائیڈرولک کٹر کا استعمال کیاجانا چاہیے جس سے تباہ شدہ ڈبوں میں پھنسے مسافروں کو کم سے کم نقصان پہنچ سکے۔
ماہرین کے مطابق ہندوستانی ریلوے میں بہتری کے لیے ۲۰۲۰ء تک کم وبیش ۲۰؍ کھرب روپے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے حکومت کچھ تو نجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت کے ذریعے اور کچھ دوسرے ملکوں یا پھر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کی کوشش کررہی ہے۔ اسی سلسلے میں گذشتہ سال جاپان نے ہندوستان کو بلیٹ ٹرین چلانے کے لیے ۱۲؍ارب ڈالر کا قرض دینے کا اعلان کیا تھا۔
قابل غور ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت ہندوستانی ریلوے میں بنیادی اور وسیع پیمانے پر تبدیلی لانے کو اپنی ترجیحات میں شمار کراتی رہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی خود بھی ریلوے اسٹیشن پر ہی چائے بیچنے کا کام کیا کرتے تھے۔ اس لحاظ سے ہندوستانی ریلوے ان کے دل کے بہت قریب ہونی چاہیے۔ وہ کئی بار عوامی اسٹیج سے اس کا اظہار بھی کرچکے ہیں۔ امید ہے کہ وہ ہندوستانی ریلوے کی خامیوں سے بھی اچھی طرح واقف ہونگے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے جن کاموں کوترجیحی بنیاد پر کیا ، ان میں ریلوے میں سدھار کے کاموں کے علاوہ بلیٹ ٹرین کی سمت میں پیش رفت کو بطور خاص گنا جاسکتا ہے۔ مگر کانپور کے نزدیک پکھرایاں میں ہوا حادثہ ایک بار پھر اس سوچ کو نشان زد کرتا ہے کہ ہندوستانی ریلوے کو فی الحال رفتار سے زیادہ دھار کی ضرورت ہے، یعنی ریلوے مسافروں کو بلیٹ ٹرینوں کی جگہ ایسی سلامتی اور سہولت کی ضرورت ہے جو انہیں صحیح سلامت اپنی منزل تک پہنچا سکے۔
وزیر ریل سریش پربھو کی سربراہی میں کئی ایسے سخت فیصلے لیے گئے جس سے مسافروں کی جیبوں پر کچھ اضافی بوجھ ڈال کر اس کے بدلے میں انہیں مسلسل اچھی خدمات اور سہولتیں دینے کی بڑی بڑی باتیں کی گئیں۔ ریلوے ٹکٹ کے ساتھ ہی لوگوں کو بیمہ کا متبادل دیا جانا ، ایسے ہی وعدوں ارادوں کی ایک کڑی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا کانپور ٹرین حادثے کا شکار ہوئے افراد کے خاندان والوں کو اس سہولت کا فائدہ ملے گا یا پھر یہ بھی سیکورٹی اور سہولت پہنچانے کی طرح ہی محض ایک دعویٰ ہی ثابت ہوگا۔
غور طلب ہے کہ مرکزی حکومت نے گذشتہ سال ہی آئندہ پانچ برسوں میں ۱۳۷؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی بات کہی تھی۔ اس کا استعمال ہندوستانی ریلوے کو اور بھی زیادہ محفوظ ، تیز اور مؤثر بنانے کے لیے اس کی جدید کاری کی خاطر کیا جانا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس فنڈ کا ٹھیک ڈھنگ سے استعمال ہو جس سے ریل حادثوں پر روک لگانے میں بھی مدد مل سکے۔
(ای میل: shahzadcolleagues9@gmail.com)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *