نائیجریا حکومت کے خلاف نئی دہلی میں مظاہرہ

نئی دہلی، ۱۶؍دسمبر(نامہ نگار): ہندوستان کی راجدھانی نئی دہلی میں آج نائیجیریا حکومت کے خلاف مجلس علمای ہند کی سربراہی میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نائیجیریائی فوج کے ذریعہ تحریک اسلامی کے لیڈر اور معروف شیعہ عالم شیخ ابراہیم زکزکی پر کیے گئے حملے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔

مظاہرین تین مورتی مارگ سے مارچ کرتے ہوئے نائیجیریا کے سفارتخانہ تک جانا چاہتے تھے ، لیکن پولس نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔پولس کے اس اقدام سے ناراض ہو کر مظاہرین سڑک پر بیٹھ گئے اور مطالبہ کرنے لگے کہ یا تو انہیں نائیجیریاکے سفارتخانہ کے سامنے جاکر احتجاج کرنے کی اجازت دی جائے یا پھر انہیں گرفتار کرلے۔ پولس نے مظاہرین کو عارضی طور پر گرفتار کیا اور مظاہرین کی طرف سے دو افراد پر مشتمل ایک وفد کو نائیجیریا سفارت خانہ جاکر میمورنڈم دینے کی اجازت دی۔ وفد میں مولانا سید محسن تقوی کے علاوہ امامیہ ہال کے امام محمد عسکری شامل تھے۔

اس سے پہلے مظاہرین کو خطاب کرتے ہوئے مولانا محسن تقوی نے کہا کہ نائیجیریا میں بے گناہوں مسلمانوں پر فوج کا حملہاس ملک میں رونما ہونے والا اب تک بدترین غیرانسانی واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے مذہبی پروگرام میں شامل لوگوں کو اپنے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا جس میں سیکڑوں کی تعداد میں بے گنا ہ مسلمان مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی اس کارروائی سے واضح ہوتا ہے کہ نائیجیریا میں درندگی کا ننگاناچ کرنے والی دہشت گرد تنظیم بوکوحرام کی حمایت کررہی ہے۔
shiah-ehtejaj
مولانا تقوی نے کہا کہ فوج نے بوکو حرام کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے شیخ ابراہیم کو نشانہ بنایا جو پورے افریقہ میں فلسطین کے سب سے بڑے حامی کے طور پر جانے جاتے ہیں اور جو شام اور عراق میں داعش کے وحشیانہ جرائم کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ہی فلسطین کے حق میں زوردار آوازبلند کرتے رہے ہیں۔
اسی کے ساتھ انہوں نے شیخ ابراہیم کی فوری رہائی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ہی ان پر حملہ کرنے کے لیے ذمہ دار افراد کے خلاف ضروری کارروائی کرنے کی بھی مانگ کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *