امریکن سینٹر میں امریکہ-بھارت کے ۷۰ سالہ تعلقات کا جشن منایا گیا

نئی دہلی – امریکن سینٹر نے کل اپنی تازہ ترین نمائش بعنوان ’’امریکہ-بھارت تعلقات کے 70 سال کا جشن‘‘ کا آغاز کیا۔ اس تقریب میں انڈیانا یونیورسٹی میں عصری رقص کی اسسٹنٹ پروفیسر نیاما میکارتھی براؤن اور بھرت ناٹیئم رقاصہ تانیہ سکسینہ نے ’’ڈانسنگ اسٹوریز فرام دی ایسٹ اینڈ ویسٹ‘‘ یعنی مشرق و مغرب سے رقص کی کہانیاں‘ کے عنوان سے رقص کا ایک پروگرام بھی پیش کیا۔

14 اگست تک چلنے والی اس آرٹ نمائش میں امریکی سفارت خانے کے آرکائیوز سے حاصل شدہ عکس اور تصاویر شامل کی گئی ہیں جو 1950 کی دہائی سے تاحال، امریکہ-بھارت تعلقات کے حوالے سے دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس شو کو موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے، جو سیکورٹی اور اقتصادی شراکت داری سے لیکر سائنس و ٹکنالوجی اختراعات اور  پرفارمنگ آرٹ کی تخلیق جیسے شعبوں میں مہارت کے تبادلے تک، دونوں ملکوں کے بیچ اشتراک و تعاون کی وسعت و گہرائی کو منعکس کرتے ہیں۔

امریکی سینٹر میں لگی نمائش کا ایک منظر ۔ تصویر بشکریہ امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی

نمائش کے افتتاح کے موقع پر امریکی سفارت خانے کی ریجنل انگیجمنٹ اسپیشلسٹ سارہ زیبل کہا ’’ہمارے ارد گرد آپ ماضی اور حال کی تحریک انگیز تصاویر دیکھ رہے ہیں جو امریکہ اور بھارت کے بیچ گزشتہ ستر برس سے جاری اسٹریٹجک شراکت داری اور مضبوط دوستی کو بیان کرتی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس نمائش کی تیاری کرنا ہماری تصاویر اکٹھے کرنے والی ٹیم کے لئے محبت اور خوشی دونوں کا موقع تھا اور اس نمائش کے توسط سے امریکہ بھارت دوستی کا جو اظہار ہو رہا ہے، وہ ہمارے لئے باعث فخر ہے۔‘‘

’’ڈانسنگ اسٹوریز فرام دی ایسٹ اینڈ ویسٹ‘‘ معاصر امریکی رقاصہ پروفیسر میکارتھی برائون اور ہندوستانی کلاسیکی رقاصہ تانیہ سکسینہ کے بیچ اشتراک عمل کا نتیجہ ہے جن کے رقص مختلف تعلیمی روایات سے ابھرے ہیں لیکن اُن کے اظہار میں یکسانیت پائی گئی ہے۔ سولو یعنی تنہا پیشکش کے علاوہ، میکارتھی براؤن اور سکسینہ نے بین ثقافتی رقص بھی پیش کئے ہیں جو ان کے ملکوں میں رقص کے جداگانہ اسلوب میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ رقص پیش کرنے سے پہلے میکارتھی برائون اور تانیہ سکسینہ نے حاضرین پروگرام سے اپنے فن کے اسلوب کے بارے میں گفتگو کی اور یہ بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنے فن پاروں کو تکمیل تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے اور ناظرین کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن کے ذریعہ بھی رقص کا اک نمونہ پیش کیا۔

جیسا کہ امریکی رقاصہ نیاما میکارتھی براؤن نے کہا، ’’اشتراک و تعاون نے دو بہت ہی جداگانہ ثقافتوں کی مالامال رقص روایات کو روشن کیا اور دونوں میں سے کوئی ایک کی سالمیت کو نقصان پہنچائے بغیر اُنہیں ہم آہنگی سے باہم مربوط کر دیا۔ بلا شبہ رقص کا ہر اسلوب پیشکش میں قابل تحسین اور دوسرے کے برابر تھا۔ یہ کاوش ایک تعاون اور ہر لحاظ سے مجسم ثقافت کے بیچ ایک حقیقی شراکت داری تھی۔‘‘

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *