اردو میں ہندوستانی تہذیب سانس لیتی ہے :ڈاکٹردنیش کھٹر

کروڑی مل کالج میں ’اپنے فنکار سے ملیے‘ کے عنوان کے تحت پروگرام کا انعقاد

?

نئی دہلی، ۱۲؍ اپریل:’بزمِ ادب‘،شعبۂ اردو،کروڑی مل کالج،دہلی یونیورسٹی میں پروگرام ’’اپنے فنکار سے ملیے‘‘ کے تحت آج صدرِ شعبۂ اردو دہلی یونیورسٹی اور معروف فکشن نگار پروفیسر ابنِ کنول کے ساتھ ایک ادبی نشست کا انعقاد عمل میں آیا،جس میں شعبے کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات کے علاوہ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر دنیش کھٹر،شعبۂ تاریخ سے ڈاکٹر سنجے ورما، علمِ طبیعات سے ڈاکٹر راکیش کمار پانڈے،شعبۂ ہندی سے ڈاکٹر رسال سنگھ وغیرہ نے شرکت کی اورمہمان فنکار کا خیر مقدم کیا۔پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے پروگرام انچارج ڈاکٹر محمد محسن نے خیر مقدمی کلمات کے لیے شعبے کے استاد ڈاکٹر یحیٰ صبا کو مدعو کیا۔ڈاکٹر موصوف نے شرکاءِ مجلس کا خیر مقدم کرتے ہوئے پروفیسر ابنِ کنول سے اپنے تعلقِ خاطر کا اظہارکیا اور انہیں اردو کی قابلِ قدر شخصیت بتایا۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر ابن کنول ہمہ جہت شحصیت کے مالک ہیں وہ بیک وقت تنقید نگار، محقق، استاد، داستان گو اور تخلیق کار ہیں۔ وہ ایسے فنکار ہیں جنہوں نے دنیا کے مختلف ملکوں کا سفر کیا ہے، اس لیے آج بجا طور پر ہندوستان کے ادبی سفیر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔وہیں ڈاکٹرمجیب احمد خان نے اپنے پیغام میں پروفیسر موصوف کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی ہمہ جہت شخصیت کے ابعاد کا خلاصہ کیااور کلاسیکی نثر کے ساتھ فکشن سے ان کے گہرے رشتے کے سیاق میں ان کی فنکارانہ حیثیت پر روشنی ڈالی ۔

افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کالج کے پرنسپل ڈاکٹر کھٹر نے کہا کہ اردو ہندوستان کی مٹی کی پیداوار ہے۔اردو کی خوشبو سے نہ صرف ہمارا معاشرہ مہک رہا ہے بلکہ اردو اپنی خوشبو پوری دنیا میں بکھیر رہی ہے ۔اس زبان میں ہندوستانی تہذیب سانس لیتی ہے ۔یہ آپسی بھائی چارہ اور احترام کی زبان ہے۔کروڑی مل کالج میں اردو اپنی حقیقی روح کے ساتھ موجود ہے۔اسی کے ساتھ انہوں نے کالج میں پروفیسر موصوف کی آمد کا خیر مقدم کیا اور اردو سے متعلق سرگرمیوں کو قابل تعریف بتایا۔ڈاکٹر راکش پانڈے نے اردو کو دل تک پہنچنے والی زبان سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہا کہ اس زبان کا خمیر ہندوستانیت سے تیار ہوا ہے۔یہ ہماری اپنی زبان ہے۔ ڈاکٹر سنجے ورما نے اردو کو عوامی زبان بنانے کی طرف اشارہ کیا اور اردو سے اپنے ذوق اور میلان کی بات کی۔انہوں نے تاریخ اور ادب کے گہرے رشتے پر بھی بات کی اور عوامی زبان کی افادیت پر اظہارِ خیال کیا۔ڈاکٹر عارف اشتیاق نے کہا کہ اردو ایک ایسی زبان ہے جس کی شاعری کو دوسری زبانوں کے مقابلہ میں موسیقی سے بآسانی سجایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر راکیش پانڈے کی مادری زبان اردو نہیں ہے مگر جس خوبصورتی کے ساتھ غزلوں کو وہ گاتے ہیں اس سے اردو کی مقبولیت اور اس کی سلاست کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر محمد مرتضی نے کہا کہ اردو آج ایک عالمی زبان کی حیثیت سے اپنا مقام بنا چکی ہے۔ اردو کی نئی بستیاں اسکی دلیل ہیں۔ ستیہ وتی کالج شعبۂ اردو سے ڈاکٹر قمر الحسن نے کہا کہ شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی پورے ہندوستان میں اردو کا سب سے بڑا شعبہ ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ پوری دنیا میں درس وتدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
مہمان فنکار پروفیسر ابنِ کنول نے اپنے تخلیقی سفر پر روشنی ڈالی اور طلبہ کو افسانہ نگاری کے گر سکھائے ۔ انہوں نے جذباتی لہجے میں کہا کہ جس زبان کا تعلق عوام سے ہو ااس زبان کا مستقبل کبھی تاریک نہیں ہوسکتا۔بچوں سے مخاطب ہوتے ہوے انہوں نے کہا کہ یہ زبان یہاں کی تہذیب آپ کو سنبھالنا ہے۔مادری زبان سے ہمارا رشتہ ماں کی طرح مقدس ہونا چاہیے۔

اردو میں افسانوی ادب پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر موصوف نے اردو زبان کے پس منظر پرروشنی ڈالی کہ اردو گیارہوں اور بارہویں صدی میں اس وقت شروع ہوئی جب سنٹرل ایشیا سے لوگ یہاں حکومت کرنے کے ارادے سے آئے ۔یہ زبان نووارد حکمراں اور عوام کے ارتباطِ باہم کے نتیجے میں وجود میں آئی۔تیرہویں صدی میں امیر خسرو نے اسے شاعری کا وسیلہ بنایا اور پھر یہ سترہوں صدی میں سب رس کی شکل میں نثری فن پاروں کی صورت میں سامنے آئی۔ اس موقع سے موصوف نے افسانوی نثر کی مختلف صورتوں۔۔۔داستان،ناول،مختصر افسانہ،افسانچہ نویسی وغیرہ پر پرمغز گفتگو کی اور ان کے ارتقائی مراحل میں درپیش کئی اہم اور قابل اعتنا پہلوؤں کا جائزہ لیا۔اسی تناظر میں اردو ادب کے فروغ میں انہوں نے اٹھارہ سو عیسوی میں فورٹ ولیم کالج میں معرضِ وجود میں آنی والی داستانوں،تراجم اور دیگر صرفی و نحوی ضابطوں کو یاد کیااور بتایا کہ نثر کے فروغ میں اس کالج نے سنگ میل کا کام کیوں کر انجام ددیا۔ انہوں نے سادہ سلیس اور مرصع نثر کے مابین لطیف فرق و امتیاز کی جانب اشارہ بھی کیا۔موضوع،رویہ اور تکنیک کے اعتبار سے انہوں نے بطورِ فن کار اس امر کا اقرار کیا کہ سب رس سے لے کر آج تک فکشن کی کائنات غیر معمولی تبدیلیوں سے گذرتی رہی ہے۔کلچرل تاریخ کے لیے ہمیں داستانوں سے رجوع کرنا ہوگا۔انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ ایک پروگرام خالص اس نوعیت کا رکھیں جس میں صرف طلبہ و طالبات ہی اپنی نثری اور منظوم تخلیقات پیش کریں۔ اخیر میں ڈاکٹر امتیاز وحید نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع سے ڈاکٹر راکیش کمار پانڈے نے غالب کی ایک غزل پیش کی ۔ڈاکٹر سچدیو نے بھی ترنم میں ایک غزل پڑھی اور محفل کو خوشگوار بنایا۔اس موقع پر محمد امتیاز عالم،رفیع الدین،دانش ،نور، شاداب، فروغ احمد،یسریٰ عامل، رافعہ،طوبیٰ وغیرہ نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *