پاکستانی ایجنٹ کے خلاف مسلم خواتین کا شدید احتجاج

deo

عارف عثمانی
عارف عثمانی

دیوبند:
علم و روحانیت کی اس بستی میں آج سیکڑوں خواتین ناموس رسول ﷺ کے دفاع میں سڑکوں پر نکل آئیں۔ اسلامی آداب و تہذیب کا پر وقار مظاہرہ کرتے ہوئے ہاتھوں میں احتجاجی نعرے والے پلے کارڈز لیے یہ دختران ملت خاموشی کے ساتھ معہد عائشہ صدیقہ قاسم العلوم للبنات محلہ ابوالبرکات سے خانقاہ پولیس چوکی تک گئیں جہاں انہوں نے ایس ڈی کو صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم ہند کے نام ایک چار نکاتی میمورنڈم ییش کیا۔ پلے کارڈز پر مختلف نعرے درج تھے۔ ان میں سے کچھ اس طرح کے نعرے تھے: ’’طارق فتح پاکستانی ایجنٹ ہے‘‘؛ ’’طارق فتح مردہ باد‘‘؛ ’’طارق فتح واپس جاؤ‘‘؛ ’’طارق فتح ملعون ہے‘‘؛ ’’طارق فتح کو گرفتار کرو‘‘؛ ’’زی نیوز چینل کا بائیکاٹ ضروری ہے‘‘؛ ’’فرقہ واریت بند کرو‘‘ اور ’’گنگا جمنی تہذیب زندہ باد‘‘۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے: ’’ہندوستان ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے، اس ملک کی آزادی، تعمیر و ترقی میں ہر ہندوستانی چاہے کسی بھی مذہب کو ماننے والا ہو، سبھی نے ہر طرح کی قربانیاں دی ہیں، آج اس ملک کے اکثر لوگ پیار محبت کے ساتھ رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشی و غم میں شریک رہتے ہیں۔ یہی ہمارے ملک کی پہچان ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک پاکستان کو ہندوستا ن کے لوگوں کا پیار محبت سے رہنا اور ہمارے ملک کی ترقی و خوشحالی پسند نہیں آتی۔ اس لیے وہ ہندوستان کے امن و امان کو فساد میں بدلنے کا، ہندوستانیوں میں نفرت پیدا کرنے کا کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے کچھ لوگ اس سازش کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔‘‘

میمورنڈم میں کہا گیا ہے:’’ہم سبھی مسلمان بحیثیت سچے ہندوستانی آں جناب کے علم میں لانا چاہتے ہیں کہ گذشتہ چند ماہ سے ملک کے ٹی وی چینل زی نیوز پر ایک یاکستانی شخص طارق فتح کا ’فتح کا فتویٰ‘ نامی شو چل رہا ہے جس میں مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے طارق فتح اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط بیانی کرتا ہے، اسلام کی غلط تصویر پیش کرتا ہے، یو ٹیوب پر اس کی بہت سی کلپس ہیں جس میں وہ اﷲ تعالیٰ کے بارے میں، حضرت محمدﷺ کے بارے میں اور قرآن کریم کے بارے میں غلط خیالات کا اظہار کرتا ہے جو کہ کسی بھی مسلمان کے لیے نا قابل برداشت ہے۔ طارق فتح ایک پاکستانی ہے اور ہو سکتا ہے وہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہو اور ہندوستان میں فتنہ و فساد کرانے کے لیے بھیجا گیا ہو‘‘۔ میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’’(1) طارق فتح کے ویزا کو رد کر کے اس کو فوراً ملک بدرکیا جائے (2) آئندہ اس کے ہندوستان آنے پر پابندی لگائی جائے(3) زی نیوز چینل کے ذمہ داران پر ملک میں نفرت پھیلانے والے پروگرام کی ریکارڈنگ کرنے، ٹی وی چینل پر دکھانے کی وجہ سے مقدمہ قائم کیاجائے (4) فوراً اس پروگرام پر پابندی لگا کر اس کے پورے پروگرام کی ریکارڈنگ کو ضبط کر کے ضائع کرایا جائے تاکہ آئندہ کسی طارق فتح جیسے پاکستانی کو اور کسی بھی چینل کے ذمہ دار کو ہندوستان میں نفرت پھیلانے کی ہمت نہ ہو‘‘۔

احتجاجی مظاہرے میں شامل خواتین تحصیل دار کو میمورنڈم دیتے ہوئے
احتجاجی مظاہرے میں شامل خواتین تحصیل دار کو میمورنڈم دیتے ہوئے

یہ احتجاج معہد عائشہ صدیقہ قاسم العلوم للبنات دیوبند کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا جس میں قصبے کی سیکڑوں خواتین نے شرکت کی۔ اس کی قیادت معہد عائشہ صدیقہ قاسم العلوم للبنات کی پرنسپل محترمہ عفت ندیم نے کی۔ ایک علیحدہ بیان میں محترمہ عفت نے کہا : ’’جس شخص کو زی نیوز سیلبریٹی کا مقام دے رہا ہے اور جسے حکومت خاموش تماشائی بنے برداشت کر رہی ہے، یو ٹیوب پر اس کی وہ کلپ موجود ہے جس میں اس نے ہندوستان کو ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کو اپنی دیرینہ خواہش بتایا ہے۔ آخر ایسے شخص کے خلاف کوئی کارروائی نہ کیا جانا اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا اس کی سب بڑی نیکی سمجھا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’کیا اس شخص کے لیے ہندوستا ن کے تمام قوانین کالعدم قرار دیے جاچکے ہیں کہ وہ شخص دیدہ دلیری کے ساتھ ٹی وی چینلوں پہ آ کر الزام لگا رہا ہے کہ جمعہ کے روز مساجد میں جمع ہو کر مسلمان ہندوستان کی تباہی کی دعائیں کرتے ہیں‘۔ محترمہ عفت نے یہ بھی کہا کہ ’مسلمان قانون کا پاس رکھتے ہوئے ملک مے مختلف حصوں میں اس ملعون کے خلاف ایف آئی آر رجسٹر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر مختلف بہانوں سے ان کو قانون کا سہارا لینے سے روکا جا رہا ہے۔ آخر اس کا مطلب کیا ہے؟ کیا قانون صرف مسلمانوں کو ان کے نا کردہ گناہوں کی سزا کے لیے ہے نہ کہ حق کا مطالبہ کرنے کے لیے؟‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے شخص کو فوراً گرفتار کیا جائے یا اس کو ملک سے باہر نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سالمیت کے لیے اس شخص کا ناپاک وجود زہر ہلاہل کا درجہ رکھتا ہے۔ ہمیں اپنے ملک کا امن وامان پیارا ہے اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کو ملک بدر کیا جائے۔

احتجاجی مظاہرے میں شیبا اعجاز، گلفشاں راؤ، زینت عبدالصمد، فرحین، فرحہ، فیضیہ، صائمہ، زینت عبدالصمد، ثنا شاہد، طیبہ، فرحین زاہد، عذری، زینب، صدف، فاطمہ، شمع، ترنم، شہزادی، شمیلہ عظمت، ہمنشیں غفران، عمرانہ شاہد، تحسین طاہر، ناہد شاہد، واعظہ خان، طیبہ امان اللہ، نغمہ فرقان، ستارہ وغیرہ کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں دیگرخواتین نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *