جب چڑیا چگ گئی کھیت

مدثر احمد

پچھلے کئی دنوں سے ریاست کرناٹک سمیت مختلف مقامات پر دہشت گردوں کے نام پر مسلم نوجوانوں و علماء کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ چل رہاہے ۔ ان گرفتاریوں کے بعد ملک بھر میں ایک طرح سے بوال کھڑا ہوتاہے کہ دیکھو دیکھو مسلمانوں کو گرفتار کیا جارہاہے ، سازش کا شکار کیا جارہاہے ، مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کی جارہی ہے ۔ اس سمت میں اخباری بیانات جاری ہورہے ہیں، کہیں دھر نے تو کہیں خطابات کیے جارہے ہیں ،گرفتاریوں کے بعد ہمارا رد عمل بالکل ایسا ہے جیسا کہ پیٹ میں درد ہونے کے بعد دوا لی جاتی ہو۔ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کی قیادت کے نام پر بنی ہوئی بڑی بڑی تنظیمیں گرفتار شدہ افراد سے ہمدردی جتانے کے لیے ان کے گھروں کا رخ کررہی ہیں ،کوئی ان کے گھروں کو مالی امداد دینے کی پیشکش کررہاہے تو کوئی گرفتار شدگان کو قانونی راحت دینے کے لیے پہل کررہاہے ۔ اسی طرح کچھ تنظیمیں حالات حاضرہ پر سختی سے مخالفت کرنے کی بجائے حکمت و تدبیر کا حوالہ دے کراپنے منھ میاں مٹھو بنے گھوم رہے ہیں ۔ بیانات دیے جارہے ہیں ، یقین دہانیاں کرائی جارہی ہیں ، امن و سکون برقرار رکھنے کے لیے اپیلیں کی جارہی ہیں لیکن حالات جوں کے توں ہیں ۔ نہ گرفتاریاں رک رہی ہیں نہ ہی دلاسے پورے ہورہے ہیں۔
آخر مسلمانوں کا اس طرح کااستحصال کب تک ہوتا رہے گا؟ ایک محاورہ ہے کہ’’ اب پچھتاوے ہوت کیا جب چڑیا چگ گئی کھیت ‘‘ ۔ ہماری قوم کا طریقۂ کار بھی بالکل ایسا ہی ہے جب نوجوانوں اور علماء کی گرفتاریاں ہوچکی ہوں ، انہیں دہشت گرد قرار دیا جاچکا ہواور میڈیا میں ان کے خلاف زہر اگلا جاچکاہو تب ہماری تنظیموں کی آنکھیں کھلتی ہیں ۔ آخر کیوں ایسا کیا جارہاہے؟ کیا ہماری قیادت ایوان اقتدار کے ارباب سے اپنی مخالفت درج نہیں کرواسکتی ؟ کیا عدالتوں کے دروازے ہم مسلمانوں کے لیے بند ہوچکے ہیں جہاں پر ایسی گرفتاریوں کے تعلق سے انصاف کا مطالبہ کیا جائے؟ کیا ہم میں اتنی سکت بھی نہیں رہی کہ موجودہ حالات کوبدلنے کے لیے تحریکیں شروع کی جائیں ؟ کہاں گئے وہ ریشمی رومال کی تحریک کے متوالے ، کہاں گئے وہ امت کے نام پر مر مٹنے والے دیوانے ، کہاں گئے وہ
اسلامی تحریک کے پروانے ، کہاں گئے وہ اسلام کو مسلط کرنے والے غازی ، کہاں گئے وہ شہداء میں شامل ہونے والے مجاہد ؟ کیا عدالتوں کی دہلیز سے ہی ان کے حوصلے پست ہوگئے ؟ کیا پولیس کی لاٹھیاں ان کے جذبات کو توڑ چکی ہیں ؟ کیا حکمرانوں کی متعصبانہ نظریں ان کے جذبات کو پست کرچکی ہیں یا پھر اقتدار و مفادات کی آڑ میں وہ اپنا مقصد حیات بھول چکے ہیں ؟ کیا وہ عارضی خواہشات و آرائشوں کی خاطر قوم کو لاچار کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو نہیں چاہیے ایسی رہبر ی ، ایسے رہبر وں سے تو وہ رہزن بہتر ہیں جو رہزنی کے نام پر زندگیاں تو ختم کردیتے ہیں لیکن دوغلے پن کا کھلواڑ نہیں کرتے ۔
دراصل ہماری تنظیمیں و ادارے اپنے مقاصد کی آڑ میں اپنے مفادات و شہر ت کے لیے کام کررہے ہیں ۔ انہیں تو گرفتار شدہ نوجوانوں کو رہا کروانے کے لیے چندے چاہیے ، انہیں گرفتارشدہ افراد کے پسماندگان کو راحت دینے کے لیے لوگوں سے عطیہ چاہیے ۔ جب کہ ان کی ذمہ داری تھی کہ حادثہ ہونے سے پہلے احتیاطی تدبیر اختیار کرتے ۔ انگریز ی میں ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے احتیاط علاج سے بہتر ہے ۔ لیکن ہمارے ذمہ دار زخم لگنے کے بعد تو کیا مرنے کا وقت آنے تک بھی نہیں جاگتے بلکہ جب مرنے کا وقت آتاہے تو دفنانے کے لیے پہل کرتے ہیں ۔ ایسا کب تک ہوتارہے گا؟ مانا کہ ملک پر حکمرانی فرقہ پرستوں کی ہے لیکن یہ فرقہ پرست انگریز وں سے خطرناک نہیں ہیں ۔ مانا کہ ان کے ساتھ بھی غدار شامل ہیں لیکن انگریزوں کے دور کے غداروں سے بڑھ کرنہیں ہیں، تو پھر کیوں کوئی تحریک نہیں چلائی جارہی ہے۔ آواز دے کر تو دیکھیں، ملک کے ۲۰؍ کروڑ مسلمانوں کے ساتھ۵۰؍ کروڑ سیکولر غیر مسلم بھی جڑ جائیں گے اور ان میں سے کچھ لوگ خاموش رہنا چاہیں گے تو کم از کم۴۰؍ کروڑ لوگ تحریک سے جڑیں گے اور اگر ان میں سے بھی پانچ دس کر وڑ غدار نکل آئیں گے تو۳۰؍ کروڑ لوگ تو ملک کے نقشے کو بدل سکتے ہیں۔
اس ملک پر آج بھی ہم مسلمانوں کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ آزادی سے پہلے تھا۔ آج بھی ہم مسلمانوں میں جائزباپوں کا ہی خون دوڑ رہاہے اور جو ناجائزہیں وہ قوم وملت کے خلاف رہیں گے ، ملت کو سماجی انصاف دلانے سے گریز کریں گے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ ہندوستان بھر میں مسلمانوں کی گرفتاریاں ہورہی ہیں۔ ان گرفتاریوں کے خلاف میڈیا میں منفی خبریں پیش ہورہی ہیں۔ ایسے میں کچھ سیاسی پارٹیوں کے مسلم لیڈران اور ملّی ادارے گرفتارہونے والے نوجوانوں اور علماء کے تعلق سے کھلے الفاظ میں یہ بیانات جاری کررہے ہیں کہ وہ فلاں پارٹی کا ہے ، وہ فلاں مسلک کا ہے اور فلاں گروہ سے تعلق رکھنے والے ہیں ۔ غور کیجیے کہ ہماری حالت کتنی بدتر ہوگئی ہے ؟ ہم اس بات کو بھی جان چکے ہیں کہ مسلمانوں کے حالات بدلنے کے لیے اب کوئی آسمانی طاقت نہیں اترے گی بلکہ اب زمین پر موجود ہم ہندوستانی مسلمانوں کو ہی آگے بڑھنا ہوگا، اسی لیے تو قرآن پاک میں یہ کہہ دیا گیا ہے کہ ’’ اللہ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب اللہ کسی قوم کی برائی چاہتا ہے تو پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا اور اس کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوسکتا ‘‘۔ اس آیت کریمہ کے تنا ظر میں ہی ہم اپنی ذمہ داری جان لیں اور اس کے نتیجے کو سمجھ لیں تو یقیناًبہت بڑا کام ہوسکتاہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے مذہبی ، ملّی و سماجی قائدین مسلمانوں کو مشکلات آنے سے پہلے ہی ایسی تدبیریں بنائیں جو بعد میں بڑی پریشانی نہ بن جائے ۔ حکومتوں اور پولیس یا جانچ ایجنسیوں پر قانونی شکنجے کسیں تاکہ وہ کسی بے قصور مسلمان کو گرفتار کرنے سے قبل سو بار سوچیں ۔ ایسا ممکن ہے اور قانون میں اس کی گنجائش ہے ۔ جب ہندوستان کا آئین سماجی حقوق اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ہمیں موقع دے رہاہے تو پھرمسلمان کیوں پس و پیش میں رہیں ؟۔
(مضمون نگار روزنامہ آج کاانقلاب کے ایڈیٹر ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *