ریل بجٹ میں نظر آئی ڈجیٹل انڈیا کی جھلک

RR Tiwari

راجیو رنجن تیواری

ریلوے ہندوستانی اقتصادیات کی ریڑھ مانی جاتی ہے۔ لمبے عرصے سے ریل بجٹ کا فوکس لبھاؤنے اعلانات پر رہا ہے۔ وزیر ریل سریش پربھو نے اس سلسلے کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ پورے ریل بجٹ کے تجزیہ سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ پربھو نے ڈجیٹل انڈیا پر فوکس کیا ہے۔ یوں کہیں کہ بجٹ میں ڈجیٹل انڈیا کی جھلک صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ وزیر ریل نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ مسافروں کو سہولیات پہنچائی جائیں گی۔ ابھی مسافر سوشل میڈیا کے ذریعہ جو شکایت کرتے ہیں، ان پر فوری کارروائی کی جا رہی ہے۔ ۴۰۰ ریلوے اسٹیشنوں کو وائی فائی سے لیس کیا جائے گا اور اس سال ۱۰۰ اسٹیشنوں پر یہ سہولت دستیاب ہوگی۔ ۴۰۰ اسٹیشنوں کی پبلک ۔ پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعہ جدید کاری کی جائے گی۔ ہر سال فروری میں ملک کے عوام ٹی وی اور اخباروں کے ذریعہ وزیر ریل کے نئے اعلانات کو جانتے اور حساب لگاتے ہیں کہ ان کے گاؤں یا شہر تک جانے کے لیے کتنا کرایہ بڑھا ہے، کتنا کم ہوا ہے، کتنی نئی ٹرینیں شروع ہوئی ہیں اور کس شہر یا ریاست پر وزارتِ ریل کی مہربانی نہیں ہوئی ہے۔ انڈین ریلوے کی بابت خاص بات یہ ہے کہ ہندوستان اُن چنندہ ملکوں میں سے سے ہے، جہاں الگ سے ایک وزارتِ ریل ہے اور جہاں عام بجٹ سے الگ ہٹ کر ریل بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔ لمبے عرصے سے تنقید نگار یہ بحث کرتے آئے ہیں کہ ملک میں ریل بجٹ کو ہٹاکر اسے عام بجٹ میں شامل کر دینا چاہیے۔ اس کے جواب میں انڈین ریلوے کو دنیا کے سب سے بڑے نیٹ ورک میں سے ایک بتاکر ۱۹۲۴ میں شروع ہوئی انڈین ریل بجٹ کی روایت کی اہمیت کو سمجھایا جاتا رہا ہے۔ ہندوستان کے علاوہ چین، پاکستان اور شمالی کوریا میں الگ سے وزارتِ ریل ہے، وہیں امریکہ، آسٹریلیا جیسے کئی ملکوں میں محکمہ ریل، ٹرانسپورٹ منسٹری کے ہی ماتحت آتا ہے۔ خارجہ، دفاع، مالیات، یہ کچھ ایسی وزارتیں ہیں، جو تقریباً ہر ملک میں ہوتی ہیں، لیکن اس کے علاوہ مملکت اپنی ضرورتوں کے حساب سے وزارتوں کی تعمیر کرتے ہیں۔ جس طرح ہندوستان کی وسیع و عریض جغرافیائی حالت اور اتنے ہی بڑے ریل نیٹ ورک کو دھیان میں رکھتے ہوئے برطانوی سلطنت کے دوران ہی وزارتِ ریل بنا دی گئی تھی، اسی طرح کئی ملکوں میں ایسے محکمے ہیں، جو ہندوستان میں نہیں پائی جاتی ہیں۔ پربھو نے ریل کی رفتار بڑھانے کا خاکہ پیش کیا۔ ہندوستان ریل دنیا میں سب سے دھیمی چلتی ہے۔

وزیر ریل نے لوک سبھا میں ۲۰۱۶۔۱۷ کا ریل بجٹ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد ریل کو اقتصادی ترقی کا انجن بنانا، روزگار پیدا کرنا اور صارفین کو بہتر سہولیات عطا کرنا ہے۔ کہا کہ ٹیکس ریونیو کے علاوہ مالیت کے نئے ذرائع کا استعمال کریں گے۔ امید جتائی کہ آپریشنل تناسب سالِ رواں کے ۹۰ فیصد کے مقابلے ۹۲ فیصد ہوگا۔ مالی سال ۲۰۱۵۔۱۶ کے بجٹ میں بجلی سمیت ایندھن لاگت میں ۸،۷۲۰ کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔ ۲۰۲۰ تک عام آدمی کی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکے گا۔ ساتھ ہی مالی سال ۲۰۱۶۔۱۷ میں ریلوے پوری طرح سے کاغذ سے آزاد نظام کو اپنا لے گا۔ بڑے پیمانے پر زیر التوا پرانے کاموں کو پورا کرنے اور مستقبل کی ضرورتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے سرمایے کے اخراجات کو مضبوط بنایا ہے اور سرمائے کے اخراجات کی شرح بڑھائی ہے۔ مال سال ۲۰۱۶۔۱۷ کے لیے اس سال ہماری سرمایہ کاری ۱ء۲۱ لاکھ کروڑ روپے رہے گی۔ اگلے سال ۲،۸۰۰ کلومیٹر کے نئے ٹریک کا آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ریلوے بجلی کاری پر خرچ میں ۵۰ فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ اگلے مالی سال میں ۲۰۰۰ کلومیٹر ریلوے لائن کی بجلی کاری کی جائے گی۔ ریلوے کو سرکار سے ۴۰،۰۰۰ کروڑ روپے کے بجٹ کی امداد ملے گی۔ ریلوے مالی سال ۲۰۱۷۔۱۸ میں نو کروڑ اور مالی ۲۰۱۸۔۱۹ میں ۱۴ کروڑ انسانوں کو سہولیات فراہم کرے گا۔ مسافروں کے کرایے میں سبسڈی کی وجہ سے ریلوے کو ۳۰ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ وزیر سریش پربھو نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے وژن کو شرمندۂ تعبیر کرنا ہے اور بجٹ کا حوصلہ وزیر اعظم مودی سے ملا ہے۔ ریلوے نے ٹیرف بڑھا کر آمدنی بڑھائی ہے اور ہر ایک روپے کا حساب رکھا گیا ہے۔ یہ بڑی چنوتیوں کا وقت ہے، لیکن ریلوے کو بین الاقوامی درجے کا بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ساتویں پے کمیشن کی سفارشوں کو نافذ کرنے سے ریلوے پر بوجھ بڑھے گا۔

Rail Budget_2016-17

مال سال ۲۰۱۷ میں آپریٹنگ ریشیو ۹۲ فیصد کے مقابلے ۹۰ فیصد رہنے کا امکان ہے۔ لاگت کم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور آمدنی ۱۰ فیصد بڑھانے کا ہدف ہے۔ اس سال ریلوے کو ۸۷۲۰ کروڑ روپے کے بچت کی امید ہے۔ مالی سال ۲۰۱۷ میں ۱ء۲۱ لاکھ کروڑ روپے کا خرچ کریں گے، جو سالانہ بنیاد سے ۲۱ فیصد زیادہ ہے۔ وہیں مالی سال ۲۰۱۷ میں آمدنی کا ہدف ۱ء۸۵ لاکھ کروڑ روپے ہے۔ ریلوے میں پچھلے سال کے مقابلے دو گنا سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ مال سال ۲۰۱۷ میں مسافر کرایے سے ۵۱۰۱۲ کروڑ روپے جٹانے کا ہدف ہے، جو سالانہ بنیاد پر ۱۲ء۴ فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال ۲۰۱۷ میں ڈھلائی سے ۱ء۱۸ لاکھ کروڑ روپے کا ہدف ہے۔ ایل آئی سی نے اگلے ۵ سال میں ۱ء۵ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔ مالی سال ۲۰۱۷ میں پنشن پر ۴۵۴۰۰ کروڑ روپے خرچ ہوگا۔ ریلوے کی میک اِن انڈیا سے ۴۰،۰۰۰ کروڑ روپے جٹانے کا منصوبہ ہے۔ مالی سال ۲۰۱۷ میں پی پی پی کے ذریعہ مڑگاؤں اور ہزیرہ میں بندرگاہ بنائیں گے۔ مالی سال ۲۰۱۷ میں سرکار سے ۴۰۰۰۰ کروڑ ر وپے کی بجٹ امداد کی ضرورت ہے۔ ۴۰۰۰۰ کروڑ روپے سے ۲ ڈیزل انجن فیکٹری لگائیں گے۔ ریلوے میں پی پی پی ماڈل پر زور ہوگا اور سیکورٹی انتظامات پر توجہ دی جائے گی۔ ریلوے کا ٹوائلیٹ سدھار پر فوکس رہے گا اور چوڑے ریل ٹریک لگانے کا منصوبہ ہے۔ بجلی سے چلنے والی ٹرینوں پر فوکس رہے گا۔ مالی سال ۲۰۱۸ میں ہر دن ۹ کلومیٹر براڈ گیج لائن کی تعمیر کی جائے گی، جبکہ مالی سال ۲۰۱۹ میں ہر دن ۱۳ کلومیٹر براڈ گیج لائن کی تعمیر کی جائے گی۔ مالی سال ۲۰۱۷ میں۲۰۰ کلومیٹر لائن کی بجلی کاری کریں گے،۲ لوکوموٹیو فیکٹری لگانے کا منصوبہ ہے، ۳ نئے فریٹ کوریڈور بنائے جائیں گے۔ ریلوے میں آن لائن بھرتیاں ہوں گی اور زیادہ سے زیادہ کمپیوٹر کا استعمال ہوگا۔ ۲۰۲۰ تک ہر مسافر کو کنفرم ٹکٹ دینے کا منصوبہ ہے۔ جنرل کوچ میں موبائل چارج کی سہولت دیں گے۔۱۷۰۰ آٹو وینڈنگ مشین اور۲۵۰۰ واٹر وینڈنگ مشین لگانے کا منصوبہ ہے۔ ریلوے میں سیکورٹی ہیلپ لائن نمبر۱۸۲ ہوگا اور موجودہ ۳۱۱ اسٹیشن سی سی ٹی وی سے لیس ہوں گے۔ ۴۰۰ اسٹیشنوں کی جدید کاری کا منصوبہ ہے اور۲ سال میں۴۰۰ اسٹیشن وائی فائی سہولت سے لیس ہوں گے۔ ۱۷۰۰۰ بایو ٹوائلیٹ بنانے کا منصوبہ ہے۔ بزرگ شہریوں کے لیے کوٹہ۵۰ فیصد بڑھایا گیا ہے۔ ہر ٹرین میں ۱۲۰ سیٹیں بزرگوں کے لیے ریزروڈ ہوں گی۔

وزیر ریل سریش پربھو نے ہم سفر، تیجس اور اُدے نام سے ۳ نئی ٹرینوں کا اعلان کیا ہے۔ ہم سفر ۳ اے سی ٹرین ہوگی، جب کہ اُدے ڈبل ڈیکر اے سی ٹرین ہوگی۔ تیجس کی رفتار ۱۳۰ کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔ ساتھ ہی لمبی دوری کے لیے سبھی اَن ریزروڈ سیٹوں والی انتیودے ایکسپریس ٹرین شروع کی جائے گی۔ ملک کے مذہبی مقامات کو جوڑنے کے لیے آستھا ٹرین شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ وزیر ریل نے نیا ریل فنڈ بنانے کے منصوبہ کا اعلان کیا ہے اور ریل سفر کا بیمہ کرانے کا منصوبہ ہے۔ معذوروں کے لیے وہیل چیئر کی آن لائن بکنگ اور سبھی سواری ڈبے بریل اِن بلڈ کیے جائیں گے۔ ممبئی میٹرو کو ریلوے سے جوڑنے کا منصوبہ ہے اور ٹرینوں میں ایف ایم ریڈیو کی سہولت کی تجویز ہے۔ مال ڈھلائی کے کرائے پر غور کیا جائے گا اور ابھی یہ کرایہ نہیں بڑھے گا۔ ریلوے بورڈ کی تشکیل سب سے اہم اصلاح ہے، اس کے لیے پی پی پی سیل بنے گا۔ پربھو کا مشن اپروچ اچھا ہے۔ نئی ٹرانسپورٹ لاجسٹکس کمپنی کو ریلوے کی از سر نو تشکیل کی شروعات مان سکتے ہیں۔ ریلوے کرایے کاروبار کو مسافر سے الگ کرنے کی شروعات کر رہے ہیں۔ ریلوے مسافروں کے ڈاٹا کا کمرشیل استعمال کرے گا۔ پربھو نے شفافیت پر زور دیا ہے۔ کئی علاقوں میں تھرڈ پارٹی آڈٹ کی شروعات۔ کیٹرنگ کے لیے آئی آر سی ٹی سی کی از سر نو تشکیل سہولیات کو بہتر کرے گی۔ ای آرڈر سروسز پر زور دیا گیا ہے۔ ہائی اسپی کوریڈور کے لیے اسپیشل پرپز ویہکل سے نئی سرمایہ کاری کا امکان بڑھے گا۔ ریلوے نے پچھلے سال ۲۴ ہزار کروڑ روپے کے ٹھیکے جاری کیے تھے۔ اس سال ان میں رفتار آنے کی امید ہے۔ ایم پی لیڈ کو ریلوے سے جوڑنے کی پہل اچھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *