سعودی عرب، ایران اور ہم ہندوستانی

Asfar Faridyاسفرفریدی
سعودی عرب میں شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے ایک معروف عالم دین آیت اللہ نمر باقر النمر کی سزائے موت پر دوجنوری کو عمل آوری ہوگئی۔ سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کرکے بتایا کہ ملک میں ۴۷؍ افراد کو سزائے موت دی گئی جن میں شیخ نمر باقر النمر بھی شامل ہیں۔ اس خبر کے پھیلتے ہی سعودی عرب کے مشرقی صوبہ قطیف سمیت دنیا کے مختلف ملکوں بالخصوص ایران اور عراق میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ وطن عزیز ہندوستان میں بھی اس کا اثر دیکھا گیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اس دوران بہت سے لوگوں نے

خاموش رہ کر سعودی عرب کے اقدام کی حمایت کی تو چند ایک نے اپنی تحریروں اور تقریروں کا سہارا لیا۔ لیکن جس طرح ہندوستان میں سعودی عرب اور ایران کی سیاست کے تناظر میں سیاست کرنے کی کوشش ہورہی ہے، وہ ملک کے لیے خطرناک ہو یا نہ ہو، یہاں کے مسلمانوں کے لیے ضرور خطرناک ہے۔
سعودی عرب میں شیخ النمر کو قانون کے مطابق سزا دی گئی، یا انہیں حکومت مخالف آواز اور تحریک کو دبانے کے لیے موت کے گھاٹ اتاردیا گیا، اس پر بحث و مباحثے کی گنجائش ہے۔ جن لوگوں کو لگتا ہے کہ شیخ النمربے گناہ تھے، انہیں سعودی عرب کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کرنے کا پورا حق ہے۔ خاص طور سے ہندوستان میں تو جمہوری نظام رائج ہے، اور یہاں سبھی کو اپنی بات کہنے کی آزادی ہے۔ یہ آزادی دنیا کے بہت سے ملکوں میں لوگوں کو نصیب نہیں ہے۔ لیکن جس طرح شیخ النمر کو سزائے موت دیے جانے کے خلاف مظاہروں اور سعودی عرب کے فیصلے کو درست و قانونی ٹھہرانے کی کوششوں کے عمل میں نعروں اور الفاظ کا استعمال کیا جارہا ہے، اس سے ہندوستان میں مسلمانوں کا سماجی تانا بانا بگڑسکتا ہے۔

جہاں تک شیخ النمر کو سزائے موت دیے جانے کی بات ہے، اس کو عام طور پر سعودی عرب کا غیردانشمندانہ فیصلہ مانا جارہا ہے۔ اس اقدام سے عالم اسلام میں جس طرح کا منفی اثر پڑا ہے، دنیا اس کے مزے لے رہی ہے۔ ایک طویل عرصے کی محنت کے بعد سعودی عرب اور ایران کے درمیان جو سیاسی تعلقات ہموار ہورہے تھے، وہ ایک بار پھر ماضی کے اندھیروں کی طرف لوٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کرلیے ہیں۔ اس کے بعد بحرین اور کویت نے بھی تہران سے اپنے سفراء کو واپس بلوا لیا۔ ادھر عمان اور عراق کے وزیر خارجہ کے تہران پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ اس طرح مغربی ایشیا میں مسلم ممالک ایک بار پھر دو خانوں میں واضح طور پر منقسم ہوچکے ہیں۔ یہ سب اس وقت ہوا ہے جب اسلامی ملکوں کے درمیان آپسی اتحاد پیدا کرنے کی شدید ضرورت تھی۔ عراق اور شام کے بڑے حصے پر قابض داعش کے خلاف لڑنے کے لیے جہاں سبھی مسلم ملکّوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا تھا، جہاں اسرائیل کی بڑھتی طاقت کو روکنے اور فلسطینیوں کو ان کا حق دلانے کے لیے آگے آنا تھا، وہاں اب سبھی مسلم ممالک ایک دوسرے سے دست و گریباں نظر آئیں گے۔ اس صورتحال کو مزید بگڑنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے، اس کی طرف مسلم دنیا سے تو کوئی کوشش نظر نہیں آرہی ہے البتہ عالمی سیاست میں اپنی پرانی پہچان قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف روس نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات میں کمی لانے کے مقصد سے ثالث بننے پر آمادہ ہونے کی بات کہی ہے۔ اگرچہ ترکی نے بھی خطے میں پیدا شدہ نئے حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل برتنے کی اپیل کی ہے، مگر رجب طیب اردوغان کی قیادت والے ترکی کا ایک مسئلہ یہ ہے ایران کے ساتھ اس کے تعلقات بہت زیادہ بہتر نہیں ہیں۔ خاص طور پر شام کے تعلق سے تو دونوں میں شمال و جنوب کی دوری ہے۔

عالم اسلام میں پھیلی عدم اطمینان کی اس کیفیت سے ہندوستان کے عوام و خواص اور بالخصوص مسلمان صرفنظر نہیں کرسکتے۔ اس لیے انہیں حالات پر اپنی آراء کے اظہار اور اپنی صداؤں کو مطلوب ومقصود تک پہنچانے کا پورا حق ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں یہ بھی معلوم رہنا چاہیے کہ سعودی عرب میں شیخ النمر کی گردن سے نکلے خون کے چھینٹے اور تہران میں سعودی عرب کے سفارتخانہ کے ایک حصے میں لگنے والی آگ کے شعلے کہیں ان کے گھروں تک نہیں پہنچ جائیں ۔ ہندوستان میں شیعہ سنی کے درمیان موجودہ اتحاد اور آپسی یگانگت آسانی سے ہاتھ نہیں آئی ہے۔ اس کے لیے بزرگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ امن پسند لوگوں نے بہت انتھک محنت کی ہے۔ اس لیے اس کی حفاظت کرنا سب کے لیے ضروری ہے۔ مذہبی یا فرقہ وارانہ جوش میں بہت سے لوگ ہوش کھو دیتے ہیں۔ اس کا فائدہ فریقین سے زیادہ دورکھڑا رہ کر تماشہ دیکھنے والا تیسرا کھلاڑی اٹھاتا ہے۔ ہندوستان میں اس کی کوشش ایک عرصے سے ہورہی ہے۔ یہاں پاکستان اور دوسرے ملکوں میں ہونے والے حادثات و سانحات کو ایک دوسرے کے درمیان نفرت پھیلانے اور بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کام میں کبھی کبھی سرکاری مشنریوں کا بھی استعمال ہوتاہے۔ ساتھ ہی بہت سے ایسے افراد بھی اس کام پر مامور ہیں جو بظاہر دونوں طرف ’اپنوں‘ کے بھیس میں گھومتے ہیں۔

ہندوستان اور ہندوستانی عوام دونوں کے لیے سعودی عرب اور ایران کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ دونوں ہمارے بہت ہی اہم دوست ممالک ہیں۔ شیخ النمر سعودی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں سرفہرست تھے۔ انہوں نے بارہا سعودی عرب کے حکمرانوں کو عوام اور بالخصوص شیعہ اقلیت کے حقوق کو تلف کرنے کا ملزم ٹھہرایا۔ انہیں مختلف الزامات میں کئی بار گرفتار کیا گیا۔ اس سب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خلاف فیصلہ سیاست سے پرے نہیں تھا۔ اس لیے اس سیاست کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان دونوں ملکوں کا قریبی دوست ملک ہونے کے ناطے حالات کو قابو میں لانے کے لیے اپنے طور پر اقدام کرسکتا ہے۔ یہ مغربی ایشیا میں ہندوستان کو اپنا سیاسی اثر ورسوخ بڑھانے کا اہم موقع ہے۔ عام طور پر ہندوستان کی خارجہ پالیسی’ دیکھو اور انتظار کرو‘ کے اصول پر طے ہوتی ہے۔ اس بار یہاں کے ارباب اقتدار اگر کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہونگے۔ ہاں، ان کے سامنے فی الحال پٹھان کوٹ میں دہشت گردانہ حملوں اور پھر افغانستان کے مزار شریف میں ہندوستان کے قونصل خانہ کو نشانہ بنائے جانے سے پیدا ہوئے حالات میں پاکستان کے ساتھ پتنگ لڑانے کا مسئلہ اہم ہے۔ اس ضمن میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب تک نئی دہلی نے اسلام آباد سے اپنے تار کو جوڑے رکھا

ہے جو بہت ہی قابل ستائش ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ بحرین اور کویت بھی ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو بنائے رکھ سکتے تھے۔ حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک گھر بنانے میں بہت وقت لگتا ہے، اسے توڑنے اور مسمار کرنے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔ ہندوستان اپنے یہاں سرحد پارسے آئے دہشت گردوں کے حملے کے بعد اگر پاکستان سے سفارتی تعلقات توڑ لیتا تو شاید اسے حق بجانب قرار دیا جاتا کیونکہ کسی بہانے ہی سہی نئی دہلی نے گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران پاکستان کے ساتھ ہاتھ ملاکر آگے بڑھنے کی کئی بار کوشش کی ہے۔
(بشکریہ روزنامہ انقلاب)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *