آئین،جمہوریت اور گنگا جمنی تہذیب کی حفاظت کیلئے متحد ہوں: ڈاکٹر اجیت چودھری


دربھنگہ (پریس ریلیز)انصاف منچ ، دربھنگہ کا پہلایومِ تاسیس کانفرنس کا انعقاد مومن ہال میں کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت انصاف منچ کے ریاستی نائب صدر نیاز احمد نے کیا۔ کانفرنس کا افتتاح ڈاکٹراجیت کمار چودھری نے کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر چودھری نے کہا کہ ملک بہت ہی نازک دور سے گذر رہا ہے۔ ہندوستان کو لنچستان بنایا جارہا ہے اور جمہوریت کو بھیڑتنتر میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ اقلیتوں، دلتوں، آدیباسیوں اور خواتین کو آئین سے حاصل آزادی اور برابری کا حق اور کثیرطبقاتی سماج کے بنیادی حقوق پر روز بروز حملے کئے جارہے ہیں۔آگے انہوں نے کہا کہ بھاجپا کے وزیر عصمت دری کے ملزموں کی حمایت میں جلسہ بلاکر اور کشمیربند کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں رہنے والے سبھی سماج کے لوگ برابر ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت 2014 سے ہی آئین اور جمہوریت کا قتل کررہی ہے۔ اس کا خاتمہ ہونا بیحد ضروری ہے۔ آگے انہوں نے یہ بھی کہا کہ محبت کرنے والے ہی جنگ لڑ سکتے ہیں۔
وہیں کانفرنس میں مہمان خصوصی کے طور پر بھاکپا (مالے ) ضلع سکریٹری بیدھ ناتھ یادو نے کہا کہ موجودہ مودی حکومت اور ان کی پارٹی بھاجپا ملک سے لے لیکر دربھنگہ تک سماج کو لڑانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا کے لوگ سریا رتن پورا سے لیکر مورو، بھادوا، حاوی بھوار سمیت کئی گاؤں میں دنگا فساد کی سیاست کی ہے جس کا منھ توڑ جواب انصاف منچ دے گا اور آگے کہا کہ دنگا کی شامل لوگوں کو سزا دلانے تک انصاف منچ لڑائی جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بھاجپا بھگاؤ۔ آئین بچاؤ آندولن کو تیز کرنا ہوگا اور 27 ستمبر کو پٹنہ میں منعقد ہونے والا بھاجپا بھگاؤ۔ آئین بچاؤ ریلی کو کامیاب بنانا ہوگا۔وہیں اس کانفرنس میں بطور مہمان اعزازی شامل ہوئے آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے کہا کہ مرکز کی بھاجپا حکومت نے نعرہ دیا تھا کہ بیٹی بچاؤ۔ بیٹی پڑھاؤ۔ لیکن جن لوگوں نے یہ نعرہ دیا اُنہیں لوگوں کے ہاتھوں ہماری بیٹیوں کی عزت لوٹی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ افسوس کہا کا مقام ہے کہ پورے ملک میں بیٹیاں کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ مرکزی حکومت کا یہ نعرہ پوری طرح سے فرضی ہے۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ ’’بھاجپا بھگاؤ۔ بیٹی بچاؤ‘‘ کا نعرہ دے کر مرکز کی مودی حکومت کو کرسی سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔ آگے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے بھاجپا کی حکومت میں بیٹی محفوظ نہیں ہے ٹھیک اُسی طرح سوشاسن بابو کی حکومت میں بھی ہماری بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں جس کا تازہ معاملہ مظفرپور کے شیلٹر کا ہے۔ وہیں سی ایم لاء کالج کے سابق پرنسپل پروفیسر بدرعالم خان نے کہا کہ ہندوستان کو لنچستان بنایا جارہا ہے۔ اقلیتوں، دلتوں، آدیباسیوں اور خواتین کے آئینی اختیارات روندے جارہے ہیں۔ جدید تعلیم، سائنس اور ایجوکیشن کی جگہ بھگوا دہشت سماج پر تھوپا جارہا ہے۔ مذہب کو سیاست کا ہتھیار بناکر اقلیتوں پر منظم اور منصوبہ بند حملے ہورہے ہیں۔ ترقی اور سماج کی بھلائی کی جگہ سماجی تانے بانے کو تباہ کرنے کی منفی سوچ کا کھیل چل رہا ہے۔ کانفرنس میں بھوشن منڈل، مرتضیٰ راعین، غلام انصاری، ارتضیٰ حسین، لکچھمن پاسوان، شاہ عمادالدین سرور، یوسف کمال، محمدبدر، صدیق بھارتی، منوج پاسوان، گیان چندر پاسوان، ابھیشیک کمار، گجیندر نارائن شرما، امتیاز احمد، ڈاکٹر راحت علی، صباحت افتخار، زاہدحسین، مطیع الرحمن موتی، اشرف علی، راجا پاسوان، محمد طالب، سنیچری دیوی، راشدہ خاتون، ریتا شاہ، پروفیسر امیش شاہ، پرنس کمار کرن، دیویندر کمار، راجو رنجن، کیسری یادو، روشن کمار دیپک، راجا یادو، محمد شہاب الدین، محمد ساجد سمیت سیکڑوں لوگ شامل ہوئے۔ کانفرنس میں گیارہ رکنی ضلع کمیٹی بھی بنائی گئی جس کے صدر ارتضیٰ حسین، نائب صدر غلام انصاری، مرتضیٰ راعین، سکریٹری لچھمن پاسوان، منوج پاسوان، گیان چندر پاسوان، محمد طالب، محمد امتیاز، آلِ نبی، محمد بدو وغیرہ کا انتخاب کیا گیا۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *