عالمی یوم خواتین مناکر کیا ملا؟

فوزیہ رحمن خان حیدر گنج کڑاہ، نالندہ ،بہار
فوزیہ رحمن خان
حیدر گنج کڑاہ، نالندہ ،بہار

لوک سبھا کی اسپیکر سُمترا مہاجن کی دعوت پر دہلی میں خاتون عوامی نمائندگان کی دوروزہ کانفرنس کا افتتاح صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے کرتے ہوئے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو ۳۳ فیصد ریزرویشن کی وکالت کی تھی جب کہ مذکورہ کانفرنس میں دوسرے دن ملک کے وزیر اعظم نے کہا کہ ’’خواتین کو بااختیار بنانے کی بات اب پُرانی ہوچکی ہے۔ خواتین پہلے ہی بااختیار ہوچکی ہیں، ایسے میں ان کی ترقی کے بجائے ان کی قیادت میں ملک کی ترقی کی بات ہونی چاہئے‘‘۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم جو خود کو عظیم خدمت گار ہندی زبان میںمہاسیوک کہتے ہوئے نہیں تھکتے ان کو ابھی تک ملک کی خواتین کی حالتِ زار کی خبر ہی نہیں ہے اور ہو بھی تو کیسے ان کا ایک قدم ہوائی جہاز پر تو دوسرا قدم چمکتے دمکتے شہروں کی مخملی قالین پر جو ہوتا ہے۔ حالانکہ ستر فیصد ہندوستان آج بھی گاﺅں میں ہی بستا ہے، جس کی کہانی وہ ہندوستان کے باہر سنا کر تو ضرور آجاتے ہیں لیکن جب اپنے ملک میں خواتین نمائندگان کے سامنے ہوتے ہیں تو انھیں محسوس ہوتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی بات قدیم ہوچکی ہے۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس ملک میں آج بھی خواتین کا واضح انداز میں استحصال جاری ہے جس کی مثال سیاحتی و مذہبی نقشہ پر اپنی شناخت قائم کرنے والے ریاست بہار کے شہر راجگیر سے محض سات کلومیٹر اور قدیم زمانہ میں عالمی سطح پر تعلیمی میدان میں اپنی شناخت قائم کرنے والی نالندہ یونیورسٹی سے صرف چار کلومیٹر کی مسافت پر مسلم اور دیگر پسماندہ اقلیتوں کی کثیر آبادی والے قصبہ حیدر گنج کڑاہ واقع ہے،جہاں کی آبادی تقریباً دس ہزار سے زیادہ ہے، یہاں کے ہر گھر میں بیڑی بنا کرلوگ اپنے لیل ونہار گزار رہے ہیں، یہاں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں بیڑی نہ بنائی جاتی ہو۔ مقامی بیڑی مزدور ایک خاتون کہتی ہیں کہ ’’جب ہم بڑاگودام کی بیڑی بناتے ہیں تو ہمیں ایک ہزار بیڑی بنانے پر محض ۱۰۰ روپئے ملتے ہیں جب کہ مردوں کو ایک ہزار بیڑی بنانے کا معاوضہ ۱۱۰ روپئے ہے۔ وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ ۱۵۰۰ بیڑی سے زیادہ نہیں بناسکتے۔ اسی طرح مقامی دکانداروں کی جب بیڑی بناتے ہیں تو ہم خواتین کو محض ۶۵ روپئے ملتے ہیں جبکہ مردوں کو ایک ہزار بیڑی کے لئے ۹۰ روپئے ملتے ہیں‘‘۔

بیڑی بناتی ہوئی خواتین
بیڑی بناتی ہوئی خواتین

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم سے کم مزدوری سے بھی یہ لوگ بیگانے ہیں ،اس مہنگائی کے دور میں کوئی خاتون محض ۶۵ روپئے میں اپنا گھر کیسے چلاسکتی ہے؟ یہ کوئی پارلیمنٹ کی کینٹین نہیں ہے جہاں سب سیڈی مل جاتی ہے یہ تو اس کے گھر کا بارچی خانہ ہے، جس کی فکر صرف اور صرف اس خاتون کو ہی ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ بیڑی بنانے کی وجہ سے مختلف اقسام کی مہلک بیماریاں ہوتی ہیں، جس کے علاج کے لئے گاﺅں میں سرکاری سطح پر کوئی ڈسپنسری تک موجود نہیں ہے۔ بنیادی سہولیات کی تو بات ہی بے سود نظر آتی ہے، مرکزی حکومت صفائی پر توجہ دے رہی ہے یا اُگاہی پر! اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 0.5 فیصد کا ٹیکس تو ضرور لگادیا گیا ہے مگر اس گاﺅں میں صفائی کا نام ونشان تک نہیں ہے، اسکول اور مدرسہ کے درمیان خالی جگہ کو گاﺅں کے لوگ اپنے گھروں کے کوڑے دان کے طورپر استعمال کررہے ہیں۔ جس کا سیدھا اثر خواتین کی صحت اور بچوں کی تندرستی پر پڑرہا ہے ۔یہاں ماہرین تعلیم و نفسیات کی ضروت نہیں کوئی بھی عام سا انسان اس بات کا اندازہ بخوبی لگا سکتا ہے کہ کوڑادان کے برابر میں واقع ہونے والے یہ تعلیمی ادارے کتنی صاف وشفاف آب وہوا کے درمیان اپنے ملک کے مستقبل کو سنوار رہے ہیں ۔

پوری دنیا کی طرح ہمارے ملک میں بھی ہر سال ۸ مارچ کوعالمی یومِ خواتین صرف رسمی طورپر ہی منایا جاتا ہے، دراصل یہ دن عالمی یوم ورکنگ خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے، کیونکہ جو خواتین کام کاج میں مصروف رہا کرتی تھیں ان کے لئے کوئی قاعدہ قانون نہیں تھا جب خواتین نے اس کے خلاف آواز بلند کی تو دوسرے لوگوں نے بھی ان کی آواز میں آواز ملا ئی اور اس طرح خواتین کے لئے اس دن کو مخصوص کردیا گیا۔ مگر انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں غیر منظم خواتین مزدوروں کا حال آج بھی بہتر نہیں ہے روزانہ مزدوری کرنے والی، بیڑی،سگریٹ، اگربتی، موم بتی، پٹاخوں، چوڑیوں، اینٹ بھٹوں،کھیتوں وغیرہ کے علاوہ چھوٹے کارخانوں میں کام کرنے والی خواتین کو آج بھی مردوں کے مقابلے مزدوری کم دی جاتی ہے اورکام پورا لیا جاتا ہے ۔ جس کا اندازہ درج بالا ایک بیڑی مزدور خاتون کی گفتگو سے لگایا جاسکتا ہے۔ ان حالات میں عالمی یومِ خواتین ہندوستانی ناخواندہ اور مزدور خواتین کے لئے کیا معنی رکھتا ہے؟ ان حالات میں ملک کے وزیر اعظم کا یہ جملہ کہ ’’خواتین کو بااختیار بنانے کی بات اب پُرانی ہوچکی ہے۔خواتین پہلے ہی با اختیار ہوچکی ہیں،ایسے میں ان کی ترقی کے بجائے ان کی قیادت میں ملک کی ترقی کی بات ہونی چاہئے‘‘۔ زخم پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہی معلوم ہوتا ہے، قارئین اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

Fauziahasan91@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *