بہار میں انٹرنیٹ کا برا حال

پٹنہ، ۲۸؍ اکتوبر: بہار میں جہاں ان دنوں اسمبلی انتخابات کی گہماگہمی ہے، وہیں انٹرنیٹ کی خدمات فراہم کرانے والی کمپنیاں صارفین کو خوب چونا لگارہی ہیں۔انتخابات کی ہلچل ہونے کے سبب بہار میں بہت سے لوگ ان دنوں انٹرنیٹ کی خدمات حاصل کرنے کے لییخوب پیسے خرچ کر رہے ہیں، لیکن اس کے عوض میں انہیں سردردی کے علاوہ کچھ اور نہیں مل رہا ہے۔
no-internetپٹنہ میں مقیم اور مختلف سیاسی جماعتوں کو اپنی خدمات دینے والی ایک ویب سائٹ کمپنی کے سینئر اہلکار دھرم ویر نے نیوز ان خبر ڈاٹ کام کو بتایا:’’ہمارے پاس پانچ کمپنیوں کے انٹرنیٹ کنکشن ہیں ۔ ان میں سے دو کیبل سے لے رکھا ہے جبکہ ایک کا ڈونگل ہے اور دو موبائل پر ہے۔ ڈونگل اور موبائل کا استعمال ہم لوگ ایمرجنسی کے وقت کرتے ہیں۔ مگر ہماری مشکل یہ ہے کہ کوئی بھی کنکشن ٹھیک سے کام نہیں کرتاہے۔‘‘
اسی طرح کی شکایت منوج کمار نے کی جو ایک ضروری کام کے لیے دھرم ویر سے اس کا ڈونگل مانگنے آئے تھے۔ انہوں نے کہا : ’’سب کمپنی گاہکوں کو ٹھگ رہی ہے۔ ایک تو کال ڈراپ کی پریشانی ہے ، دوسرے انٹرنیٹ ڈاٹا محدود مدت کے لیے دیا جاتا ہے۔ وہ اتنا مہنگا ہوتا ہے کہ سر گھوم جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ کے زمانے میں آپ کے پاس اس کی سہولت نہیں ہوگی تو بہت سا کام بگڑجائے گا لیکن ہمارا کام تو اسی انٹرنیت کی وجہ سے بگڑ رہا ہے۔ انٹرنیٹ نہیں ہوتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ہمارے پاس اس کی سہولت نہیں ہے۔ مگر آپ کس کو سمجھانے جائیں گے کہ انٹرنیٹ پر اتنا پیسہ خرچ کرنے کے بعد بھی آپ کو اس کی ٹھیک سے سہولت نہیں مل رہی ہے۔ حکومت بھی کبھی کبھی عوام کے غصہ کو شانت کرنے کے لیے انٹرنیٹ کی خدمات فراہم کرانے والی کمپنیوں کو کچھ ڈرا دھمکا دیتی ہے۔ لیکن سب جانتے ہیں کہ یہ ڈرامہ ہوتا ہے۔ پبلک کی کسی کو فکر نہیں۔‘‘

no-dns
بہار کی راجدھانی پٹنہ میں جب انٹرنیٹ خدمات کی یہ حالت ہے تو ریاست کے دیہی علاقوں میں اس کی صورت حال کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس سے گاؤں گاؤں کو انٹرنیٹ سے جوڑنے اور ڈیجیٹل انڈیا جیسے منصوبوں پر عمل آوری کا انجام کیا ہوگا ، اس کے بارے میں مرکزی حکومت ہی بتا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *