بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ھاشم فیروز آبادی سے وجیہ احمد تصور کا بیباک انٹرویو

وجیہ احمد تصور ✍️
             وجیہ احمد تصور  ✍️
🎤 ہندوستان کے مقبول عام شاعر جناب ھاشم فیروز آبادی سے وجیہ احمد تصور کی خاص بات چیت✍️
اردو زبان کی ترقی میں شاعروں کا اہم رول رہا ہے. اردو عوامی زبان کہلاتی ہے اور یہ اس زبان کی مٹھاس اور دلکشی کی طاقت ہی ہے کہ تمام تر مخالفت اور ناانصافی کے باوجود آج بھی اردو لوگوں کے دلوں پر راج کر رہی ہے. آج بھی  اردو کی غزلیں اور نغمے چلتے قدموں کو روکنے پر مجبور کر دیتی ہیں. اردو شاعری ہمیشہ دلوں پر راج کیا ہے. یہی وجہ ہے کہ شاعروں کی عزت ہمیشہ کی جاتی رہی ہے اور اردو دنیا نے انہیں سر آنکھوں پر  بیٹھا یا بھی ہے. اور جب بات اردو ادب کی ہو تو بغیر مشاعرے کے تذکرہ کے بات مکمل نہیں ہوسکتی ہے. اسی مشاعرے کے ایک مقبول شاعر ہیں جناب ہاشم فیروز آبادی.
      گذشتہ 22 نومبر کو سمری بختیار پور کے ایک مشاعرے میں شرکت کی غرض سے اپنی شریک حیات اور اردو کی مشہور شاعرہ صبا بلرام پوری کے ہمراہ تشریف لائے تو مشاعرہ کے اسٹیج پر ہی انہوں نے اردو کے حالات پر اس نمائندہ سے بات کی. ھاشم فیروز آبادی 02 نومبر 1981 کو پیدا ہوئے. ان کے والد جناب شفیق احمد شفیق اردو کے اچھے جانکار اور شاعر تھے. ہاشم فیروز آبادی کا تعلیمی سفر لکھنو سے شروع ہوا اور وہاں سے انٹر کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری حاصل کیا. ان کی شادی اردو کی شاعرہ اور لکھنو کرشچن کالج میں اردو کی لکچرر محترمہ صبا بلرام پوری سے ہوئی.  مشاعروں و کوی سمیلن میں اپنی الگ پہچان بنانے والے ھاشم فیروز آبادی نے انور شمیم انور سے شاعری کے نکات کو سمجھا اور پھر شاعری کے میدان میں قدم رکھا جہاں محترمہ ترنم کانپوری، ڈاکٹر امیت چوہان اور منظر بھوپالی نے ان کی شاعری کو اردو ہندی دنیا سے مترادف کرانے میں اہم کردار ادا کیا.
      ھاشم فیروز آبادی ہندوستان ہی نہیں غیر ممالک میں بھی اپنی شاعری کی دھاک جما چکے ہیں اور اب تک درجنوں ممالک میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ چکے ہیں جن میں شارجہ، دوبئی، مسقط، قطر، بحرین، جدہ، پاکستان، سنگاپور، ابودھابی اور ریاض شامل ہے.
       ھاشم فیروز آبادی کو ان کی شاندار ادب نوازی اور انقلابی شاعری کے لیے نئی روشنی ایوارڈ، امیر خسرو ایوارڈ، آبروئے غزل ایوارڈ، قومی ایکتا کا پرتیک وغیرہ ایوارڈ دیکر انکے شاعری کی عزت افزائی کی گئ.
     موجودہ وقت میں اردو کے حالت زار پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے وقت میں اردو کی جو حالت ہے اس کے لیے ہم سب حکومت کو کوس کر سمجھ لیتے ہیں کہ اب ہماری ذمہ داری ختم ہوگئی ہے لیکن جو سچائی ہے اسے قبول کر اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے. ہم لوگ اپنے بچوں کو تو انگریزی پڑھانا چاہتے ہیں مگر کتنے لوگ ہیں جو اپنے بچوں کو اردو میں تعلیم دلوا رہے ہیں. انہوں نے ایک سوال  کے جواب میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ آج لگ بھگ تمام نئے شعراء اردو غزل ہندی میں لکھ کر لاتے ہیں اور خود کو اردو کے شاعر کہلاتے ہیں جبکہ مشاعرہ ایک ایسا ایونٹ ہے جسے اردو کے اسکول کی حیثیت حاصل ہے. اس وجہ سے پہلے جب کبھی مشاعرے ہوتے تھے تو والدین اپنے بچوں کو اس مشاعرہ میں اس لئے بھیجا کرتے تھے کہ ہمارا بچہ ادب سیکھے گا مگر اب وہ ماحول نہیں رہا.
     ھاشم فیروز آبادی نے کہا کہ ہم اردو کے حالت زار کے لئے صرف حکومت کو کوس رہے ہیں مگر حکومت اردو کے فروغ کے لئے کافی پیسے خرچ کر رہی ہے لیکن اردو والے ہی اس میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں. اب دیکھئے سہرسہ میں چار پانچ لاکھ مسلمانوں کی آبادی ہے مگر ایگ ہزار کے آس پاس اردو کا اخبار آتا ہے تو یہ اردو آبادی کے لئے ہی قابل فکر لمحہ ہے کیونکہ کوئی شرما جی یا دوبے جی تو اردو اخبار خریدیں گے نہیں. اس لئے اردو کی ترویج و ترقی کے لئے اردو آبادی کو بھی غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے اور اپنی ذمہ داری کو سمجھنے اور ذمہ داری کے ساتھ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی ضرورت ہے ورنہ کسی کانفرنس اور مشاعرے کی محفل میں دو چار بوند آنسو بہا دینے سے مسئلہ کا حل نہیں ہو نے والا ہے.
   پیش ہے موجودہ حالات پر ان کے خوبصورت اور توجہ طلب اشعار…….
     اب نہ ہو ملک میں کوئی دنگا کبھی
     اور میلی نہ ہو اب یہ گنگا کبھی
     آیئے آج ہم مل کے کھائیں قسم
    جھکنے دینگے نہ ہاشم ترنگا کبھی
                                    ⚙️⚙️⚙️⚙️
اور کیا چاہئے ایک بدن کے لئے
یہ ترنگا بہت ہیں کفن کے لئے
سرحدوں پر ہمیں بھیج کر دیکھئے
جان دے دیں گے ہم بھی وطن کے لئے
☸️☸️☸️☸️☸️☸️
دیوبندی، شیعہ، سنی، بریلوی میں بنٹ گئے
اپنے اپنے مقصدوں سے اس لئے ہٹ گئے.
اپنی اپنی مسجدیں ہیں اپنے اپنے پیر ہیں،
ترکشوں میں زنگ کھائے سارے ٹوٹے تیر ہیں
سینکڑوں خدا ہیں جن کے ایک جگہ کھڑے ہیں
ایک خدا والے سارے بکھڑے ہوئے پڑے ہیں.
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *