اسلامیہ ہائی اسکول کے تعلیمی معیار کو بلند کرنا میری اولین ترجیحات میں شامل… پروفیسر سید قسیم اشرف

 

اسلامیہ ہائی اسکول…..  

وجیہ احمد تصور  ✍️

سہرسہ……. اسلامیہ ہائی اسکول  کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لئے کمیٹی کوشاں ہے  مگر افسوس ہے کہ اساتذہ کی کمی کی وجہ سے فی الحال پریشانی ہے. اساتذہ کی بحالی کے لئے ویکنسی بھی نکالی گئی  مگر اردو اور سوشل اسٹڈیز کے ہی ٹیچر کی بحالی ہو پائی کیونکہ ایس ٹی ای ٹی کی شرط کی وجہ سے سائنس اور حساب جیسے اہم سبجیکٹ کے لئے امیدوار ہی نہیں مل رہے ہیں.

درج بالا خیالات کا اظہار اسلامیہ +2 ہائی اسکول کے سکریٹری جناب  پروفیسر سید قسیم اشرف نے اس نمائندہ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا. انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے اسکول کے خستہ حال کمروں اور دیواروں کی مرمت کروا نے کے  ساتھ رنگ و روغن کے ذریعے اسکول کو صاف ستھرا ماحول دینے کی کوشش کی ہے مگر سب سے زیادہ ضروری ہے اسکول کے اس تعلیمی معیار کو پھر سے بحال کرنا جو اس ادارہ کی پہچان رہی ہے. انہوں نے بتایا کہ ٹیچر کی کمی کو دور کرنے اور تعلیمی سلسلہ کو قائم کرنے کے لئے فی الحال انگریزی اور حساب کے  دو پرائیویٹ  اساتذہ  کی  خدمات حاصل کر لی گئی ہے تاکہ بچوں کا تعلیمی نقصان نہ ہو. انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی اداروں میں اساتذہ کی بحالی کے شرائط سے ایس ٹی ای ٹی کو ختم کر دینی چاہئے تاکہ سارے سبجیکٹ کے ٹیچر آسانی سے مہیا ہو سکیں. انہوں نے کہا کہ جب سرکاری اسکولوں میں سائنس، حساب اور انگریزی کے ٹیچر ایس ٹی ای ٹی کے شرط کی وجہ سے نہیں مل رہے ہیں تو اقلیتی اداروں کو کہاں سے مل جائیں گے. پروفیسر قسیم اشرف نے بتایا کہ ادارے کے سارے کاغذات اور حساب کتاب کو ترجیحی بنیاد ٹھیک کر لئے گئے ہیں. ادھر اسکول احاطہ میں دنیش چندر یادو اور محبوب علی قیصر کے ذریعے مہیا کرائے گئے فنڈ سے کئی سال قبل تعمیر شدہ ادھورے بلڈنگ کو مکمل کرانے کے لئے بھی کوشش جاری ہے. ادھر ممبر پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو نے بھی اپنے فنڈ سے اسکول کو بلڈنگ دینے کا اعلان کیا تھا اور کسمی مشاعرہ میں انہوں نے بلڈنگ  تعمیر  شروع کردینے  کا بھی اعلان کر دیا تھا مگر کام ابھی تک شروع نہیں ہوا ہے اس لئے ان سے بھی جلد کام شروع کروا دینے کی گزارش کرینگے. انہوں نے ایک بار پھر دہرایا کہ انکی پہلی کوشش اسکول کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کی ہے اور اس کے لئے وہ لگا تار کوشش کر رہے ہیں.

کمیٹی کے صدر مائک پر اور بغل میں بیٹھے سکریٹری عوامی اجلاس کے دوران **
واضح رہے کہ اسلامیہ ہائی اسکول کا قیام 1945 میں عمل میں آیا تھا  اور تبھی سے یہ ادارہ اپنے تعلیمی معیار کے لئے پورے کوسی کمشنری میں اپنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب رہا. اس ادارہ کا کوسی کمشنری کے مسلمانوں کے ترقی میں وہی رول رہا ہے جو قومی سطح پر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا ہے. زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جہاں اس ادارے سے فارغ طلباء اپنی خدمات سرانجام نہیں دئے یا دے رہے ہیں. سابق وزیر اور موجودہ ممبر اسمبلی پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور اور سابق ممبر اسمبلی نعیم اختر اسی ادارے کے پروڈکٹ رہے ہیں تو ریٹائرڈ آئی اے ایس سعودالحسن نے بھی اسی ادارے سے تعلیمی سفر کا آغاز کیا تھا. اس ادارے کے بانی ہیڈ ماسٹر اور مصلح امت حضرت مولانا  سید شاہ  ابوالقاسم اشرف صاحب رحمہ اللہ جو ایم اے، بی ٹی(علیگ) بھی تھے  کی کوششوں اور علاقائی مسلمانوں کے تعاون سے یہ ادارہ مختصر مدت میں ہی اپنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہوگیا لیکن ادھر  چند  سالوں سے   سیاست کا شکار ہو کر اپنی شناخت کو ہی کھو دیا. اس لئے گزشتہ سال علاقائی مسلمانوں کے  ہنگامی اجلاس میں اتفاق رائے سے سنٹرل حج کمیٹی کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ چودھری محبوب علی قیصر کو صدر اور بانی ہیڈماسٹر کے لائق فرزند اور ماہر تعلیم پروفیسر سید قسیم اشرف کو سکریٹری منتخب کر لیا گیا تھا اور انکے کاندھوں پر ہی اب ادارے کے مستقبل کا بوجھ ہے. دیکھنا ہے کہ نئی کمیٹی کب تک اسکول کے تعلیمی معیار کو دوبارہ نئ بلندی پر پہنچا نے میں کامیاب ہوتی ہے. 
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *