ایران نے کیا میزائل تجربہ، امریکہ و اسرائیل پریشان

’اقتدارِ ولایت‘ کے تحت ہونے والی فوجی مشق کا مقصد طاقت کا مظاہرہ

نئی دہلی، ۱۰ مارچ (ایجنسیاں): ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نیوز نے خبر دی ہے کہ ایران کے اسلامک ریوولیوشن گارڈس کور (آئی آر جی سی) نے کل، یعنی بدھ کے روز مشرقی البرز پہاڑوں سے گھریلو ساخت کے ۲ ’قدر ایچ‘ بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، جو ۱۴۰۰ کلومیٹر دور جنوبی مکران کے سمندر میں جا کر گرا۔ ان میں سے ایک میزائل پر عبرانی زبان میں لکھا ہوا تھا ’’اسرائیل کو کرۂ ارض سے ختم کردینا چاہیے‘‘۔

بشکریہ: فارس نیوز
بشکریہ: فارس نیوز

ایران اور اسرائیل طویل عرصے سے ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں۔ ایران کی طرف سے اکثر اسرائیل کو ختم کرنے کی دھمکی دی جاتی رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایران سے اسرائیل کی دوری تقریباً ایک ہزار کلومیٹر ہے، جب کہ ایران نے کل جن میزائلوں کا تجربہ کیا ہے، ان کی رینج ۱۴۰۰ کلومیٹر ہے۔ اس تجربہ کے بعد اسرائیل نواز امریکہ کی بھنویں تو تنی ہیں، تاہم اس نے کہا ہے کہ یہ تجربہ اس کے ذریعہ دو ماہ قبل ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدہ کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ ساتھ ہی امریکہ نے آنے والے دنوں میں اس واقعہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزیدار بات یہ ہے کہ ان دنوں امریکی نائب صدر جو بائیڈن اسرائیل کے دورے پر ہیں، جہاں انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے۔ اسرائیل نے اس واقعہ پر ابھی تک اپنا کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر ایران جوہری معاہدہ کی خلاف ورزی کرتا ہوا پایا گیا، تو اس کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے گی۔

عیاں رہے کہ منگل کے روز سے ہی ایران نے آئی آر جی سی کمانڈر، میجر جنرل محمد علی جعفری اور آئی آر جی سی ایرواسپیس فورس کے کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل عامر علی حاجی زادہ کی نگرانی میں ’اقتدارِ ولایت‘ کے نام سے بڑی فوجی مشق شروع کی ہے۔ اس کا مقصد جہاں ایک طرف اپنے جدید میزائل دفاعی نظام کا تجربہ کرنا ہے، وہیں دوسری طرف دنیا پر یہ واضح بھی کرنا ہے کہ ایران فوجی طاقت کے معاملے میں کسی سے کم نہیں ہے۔ میزائل تجربے کے بعد محمد علی جعفری نے فارس نیوز کو بتایا کہ ’’ہمارے دشمنوں کو یہ معلوم ہوگیا ہوگا کہ بڑے پیمانے پر پابندیوں اور سیکورٹی دباؤ کا ہماری صلاحیتوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ اسی لیے اب وہ اقتصادی پابندیوں کے ذریعہ ہمیں میزائل کے میدان میں محدود کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ایران کی سیکورٹی اس خطہ کی سیکورٹی ہے اور ہم اپنی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *