کیا ہلاکت خیز مسلکی اختلافات سے بچا نہیں جا سکتا؟

حامد رضا

عید میلاد النبی (صلی اللہ وعلیہ وسلم) منانا ایک مستحب کام ہے، جس کی مرضی ہو کرے تو ثواب ملے گا، اور جس کی مرضی نہ ہو وہ نہ کرے تو ثواب نہیں ملے گا۔ لیکن اسی میں پوری طاقت جھونک دینا اور امت مسلمہ سے متعلق دوسرے اہم مسائل سے چشم پوشی کرنا یا اس طرف بالکل دھیان نہ دینا بھی تو صحیح نہیں ہے؟ یہ اسلامی حکمت عملی کی خلاف ورزی ہے
اب جمعہ یعنی ۲۴ نومبر کی ایک خبر دیکھیے۔ مصر کے سینا علاقے میں ایک مسجد کو دہشت گردوں نے اس طرح نشانہ بنایا کہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اب تک ۲۵۳بے گناہ افراد کی جانیں گئی ہیں، جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ سب اس وقت ہوا جب لوگ نماز جمعہ پڑھ رہے تھے۔ اس سے بھی زیادہ دل دہلانے والی بات یہ ہے کہ مسلح دہشت گردوں نے مسجد کو بم اور گاڑیوں سے گھیر لیا تھا، جس نے بچنے کی کوشش کی اسے روند دیا۔ (جانور بھی یہ گھناونی حرکت نہیں کریں گے)
الامان یا اللہ !
یہ مسجد صوفیوں یعنی سنیوں (بریلویوں) کی بتائی جارہی ہے۔ شک کی سوئی ایک بار پھر داعش کی طرف ۔ گھوم رہی ہے
داعش کون سی تنظیم ہے، کس طرح کا ایجنڈا لے کر چل رہی ہے، وہ کیا کرنا چاہتی ہے، اس میں کون لوگ ہیں؟ صحیح سے ہمیں کچھ نہیں پتہ!
لیکن اس دل دوز سانحہ کو دیکھ کر جو اپنی نوعیت کا پہلا نہیں ہے، اتنا تو یہاں کہہ سکتے ہیں کہ آخر اسلام ہی کے ماننے والے ایک دوسرے کو اس طرح حیوانیت کے ساتھ مارنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟ کون ان کے ذہن میں یہ زہر گھول رہا ہے کہ تم ہی برحق ہو، باقی سب جہنمی ہیں؟ اور ان کا قتل جائز ہے؟ آخر مسلک کے نام پر ہمارے اندر اتنی دراڑ کیوں آگئی کہ مخالفین کے خون بہانے سے ہی ہمیں دینی سکون مل رہا ہے؟ مسلکی اختلافات پہلے بھی رہے ہیں اور رہیں گے بھی لیکن ہمارے اسلاف اختلافات رہتے ہوئے بھی ساتھ ساتھ امن وسکون سے سب کو لے کر چلے ہیں۔ بات یہاں صوفیوں کی ایک مسجد پر گھناؤنے حملہ کی نہیں ہے، بلکہ ہر اس حملہ کی ہے جسے مسلک یا مذہب کا سہارا لے کر انجام دیاجاتا ہے، چاہے وہ شیعوں کی مسجد پر ہو یا سنیوں کی مسجد پر ۔
مجھے لگتا ہے کہ گولی یا بم وغیرہ کے ذریعہ باہر حملہ کرنے سے پہلے ایک انسان (مسلم) کے ذہن کے اندر ہی وہ حملہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ خارجی حملہ تو بس اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لیے یہ بہت اہم ہے کہ ہم اپنے ذہنوں میں کیا ڈال رہے ہیں؟ کون سی کتابیں پڑھ رہے ہیں، کن کو سن رہے ہیں اور کس طرح کی محفلوں میں حاضر ہورہے ہیں؟
ہمارے بیچ آئے دن بڑھتی ہوئی اس مسلکی خلیج کا اندازہ دشمنان اسلام کو اچھی طرح ہوگیا ہے۔ اسی کا سہارا لے کر استعماری قوت امریکہ آج یکے بعد دیگرے مسلم ممالک کو کھنڈرات میں تبدیل کررہا ہے۔ چاہے وہ عراق کا مسئلہ ہو یا شام کا یا پھر یمن کا۔ سارے مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے شیعہ سنی کی لڑائی میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک خیمہ میں سعودی حکومت ہے تو دوسرے کی قیادت ایران کر رہا ہے، اور دونوں ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال آج ہمارا بھی ہے۔ ذرا اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیجیے۔ صبح و شام ایک دوسرے پر کتنی ساری گولیاں اور بم و بارود برسا رہے ہیں۔ صرف اس لیے کیونکہ مسلک الگ الگ ہے ۔
ہم اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی تباہی اس لیے برداشت کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ ابھی ہمارے دشمن کا گھر جل رہا ہے، ہم محفوظ ہیں؟

کیا مسلکی لڑائی کو ہم اسی طرح نہیں ختم کر سکتے، جس طرح صوفیائے کرام نے کیا؟ مجھے نہیں لگتا ہے کہ وہ صلح کلی تھے؟ یا اسی طرح جیسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے کیا تھا؟

وہ بھی سنی ہی تھے، مگر  ہزاروں سال سے حکومت کرنے والی مصر کی ایک کمزور شیعہ بادشاہت کو کچھ اس طرح ختم کیا کہ خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہا۔

شیعہ کو تو جانے دیجیے وہ تو اپنے تھے۔ صلاح الدین ایوبی دشمن نصرانیوں پر بھی بہت مہربان تھے۔ ان کی تعریف میں عیسائی مورخین آج بھی رطب اللسان ہیں ۔

مضمون نگار جے این یو میں ریسرچ اسکالر ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *