اسلام دنیامیں امن اور آشتی کا پیغامبر ہے: مولانا وحیدالدین خان

?

نئی دہلی، حامد رضا:

شعبۂ عربی جواہر لال نہرو یونیورسیٹی کی طرف سے آج اسکول آف لینگویجز کے کمیٹی روم میں تیسرا شاہ ولی اللہ یادگاری خطبہ بعنوان “متنوع تہذہب کی دنیا میں امن اور ہم آہنگی کی زندگی” منعقد ہوا۔ اس میں مہمان مقرر کے طور پر مشہور اسلامی اسکالر اور سیکڑوں کتابوں کے مصنف مولانا وحیدالدین خان شریک ہوئے۔ جلسہ کی صدارت اسکول آف لینگویجز کے سابق ڈین پروفیسرمحمد اسلم اصلاحی نے کی۔
تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے صدر شعبۂ عربی پروفیسر مجیب الرحمن نے کہا کہ شعبۂ عربی جے این یو کا یہ تیسرا سالانہ شاہ ولی اللہ لیکچر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے مسلسل تین سالوں سے حالات حاضرہ کے مد نظر مختلف موضوعات پر یہ لیکچر منعقد ہورہا ہے۔ اس لیکچر کو شاہ ولی اللہ کی طرف منسوب کرنے کا مقصد ان کے علمی اور تحقیقی کارنامے کا اعتراف ہے۔ انہوں نے مہمان مقرر کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ مولانا کی تقریبا دو سو کتابیں اسلام اور امن و امان جیسے مختلف موضوعات پر آچکی ہیں۔ دنیا میں امن وامان کے پیغامات کو پھیلانے کے لیے انہیں کئی قومی اور بین الاقوامی انعامات سے سرفراز کیا جاچکا ہے۔
یادگاری خطبہ پیش کرتے ہوئے مولانا وحید الدین خان نے کہا کہ شاہ ولی اللہ دہلوی میرے نزدیک دنیائے اسلام کے سب سے بڑے مفکر ہیں، کیونکہ اسلام اور قرآن کے تعلق سے ان کا اسلوب اور انداز اقدامی تھا۔ مختلف تہذہب والی دنیا میں امن کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ اسلام دنیا میں امن وآشتی کا پیغامبر ہے۔ اس نے جو امن اور ہم آہنگی کا تصور دیا ہے وہ ایک مثالی اور ممتاز نظریہ ہے۔ اس میں ہر ایک کے لیے اپنے اپنے دائرے میں اس طرح آزادی ہے کہ دوسروں کی حق تلفی نہ ہو۔ امن کے اس مفہوم کو زندگی کے ہر میدان میں بروئے کار لایا جاسکتاہے۔
مولانا وحیدالدین خان نے مسلمانوں کے موجودہ حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امن کے سائے میں ہی اسلام کی تعلیمات پھیل سکتی ہیں، تشدد سے کسی مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام دور جدید کا خالق ہے اور موجودہ ساری مادی ترقیات اس کی تعلیمات کی مرہون منت ہیں، کیونکہ اسلام نے فطرت پرستی کے نظریات اور عقائد کو ختم کرکے اسے ثانوی درجہ دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تصوف نے دنیا میں امن کی شمع ایک زمانہ تک جلائی ہے اور صوفیائے کرام اس کے علمبردار تھے۔ آج کی تشدد والی دنیا میں ضرورت ہے کہ ہم بقائے باہمی کے اصول پر زندگی بسر کریں۔
اس پروگرام میں شعبۂ عربی کے طلبہ واساتذہ کے علاوہ جے این یو کے دیگر شعبوں و اسکولوں کے ساتھ ہی دہلی یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مسلم وغیرمسلم اساتذہ اور طلبہ بھی موجود تھے۔ پروگرام کے اخیر میں صدر جلسہ پروفیسر اسلم اصلاحی نے مہمان مقرر اور سامعین کا شکریہ اداکیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *