​تقسیم وراثت پر عمل کرنا بھی فرض ہے: مفتی سہیل احمد قاسمی

نئی دہلی، ۱۹؍نومبر:اسلام بیٹی کے حق میں عدل و انصاف کا حامل ہے ۔اسے وراثت کا حق دیا گیا اور جہیز کا تصور نہیں رکھا گیا ۔لیکن مسلم سماج نے اسلام کی بات الٹ دی اللہ کے حکم کو پیچھے ڈال دیا اور جہیز کی مشرکانہ رسم کو گلے لگا لیا ۔

Sohail-qasmiہمارے واعظ علماء و مصلح حضرات عموماً اس حقیقت سے مسلم سماج کو واقف کرانے کا فریضہ چھوڑ بیٹھے کیوں کہ وہ خود اللہ کا یہ حکم توڑتے رہے ہیں ۔وہ جہیز کو لعنت بھی کہتے رہے اور اس لعنت کی پرورش بھی کرتے رہے ۔جہیز کی حقیقت ،وراثت کی فرضیت ،ترکہ نہ دینے پر اللہ کی سخت تنبیہ جہنم کی سزا قرآن کی آیات ۴:۱۴کو کھل کر پر زور انداز میں بیان کرنے سے بچتے رہے یہاں تک کہ جہیز کے آکٹوپس کے سخت و ظالم بازوؤں نے مسلم سماج کو بری طرح جکڑ لیا ۔اس کے بغیر شادی کا تصور ہی نہیں رہ گیا ۔ان خیالا ت کا اظہار مفتی سہیل احمد قاسمی نے جماعت اسلامی ہند کی مہم’ تقسیم وراثت ‘پروگرام کے تحت قومی راجدھانی دہلی کے روہنی علاقے میں اپنے صدارتی خطاب میں کیا ۔

انہوں نے علماء کرام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم میں تعاون کریں اور اپنے جمعہ کے خطبات میں تقسیم وراثت پرخطاب کریں تاکہ مسلمانوں کو اس کی فرضیت سے واقف کرایا جائے اور اس پر عمل کرنے کی تلقین کی جائے ۔مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ دیگر عبادات کی طرح تقسیم وراثت پر عمل کرنا بھی فرض ہے ۔انہوں نے کہا اسلام کے تقسیم وراثت کو اتنا عام کیا جائے کہ ہر شخص کا موضوع بحث بن جائے ۔اس پروگرام میں حافظ بلال ،مفتی نظام الدین ،مولانا احسان قاسمی ،مولانا فیضان قاسمی ،مولانا ثناء اللہ قاسمی نے بھی شرکت کی۔​

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *