اسلامیہ ہائی اسکول…. مسئلے کے درمیاں حوصلے کا سفر

وجیہ احمد تصور کے قلم سے ✍️

🌸 انہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا…
اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے..🌸
گذشتہ دنوں کوسی کمشنری کا واحد اقلیتی 2+ ہائی اسکول “اسلامیہ 2+ ہائی اسکول سمری بختیار پور کے نئے آفس کے افتتاح اور ڈی ایل ایڈ کے کامیاب اساتذہ کو سرٹیفکیٹ دینے کے لئے اسکول کیمپس میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں اسکول کے پرنسپل محمد تنویر عالم صاحب کی دعوت پر مجھے بھی پروگرام میں شرکت اور سامعین کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کا موقع ملا. اس موقع پر سبھی مقررین نے اسلامیہ ہائی اسکول کی دین پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے موجودہ حالات میں مزید بہتری لانے کے لئے کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا ساتھ ہی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے ذریعے اسکول کیمپس میں الگ سے کلاس 6 سے 8 تک شروع کرنے کی کوششوں کو سراہا اور تعاون کی یقین دہانی کرائی.
🌸تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب…
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے…🌸


پروگرام کے بعد استاد محترم سید ظہیر الدین صاحب ، جناب مصلح الدین صاحب، کمیٹی کے سرگرم رکن جناب عتیق الزماں صاحب، اسکول کے پرنسپل جناب محمد تنویر عالم صاحب، سماجی کارکن محمد منور عالم اور برادر علی امام صاحب کے ساتھ اسکول کے ترقی اور تعلیمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا. پہلے کے بنسبت تعلیمی صورتحال بہتر ہوئی ہے لیکن ٹیچر کی کمی تعلیمی معیار کو بلند کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے. اگرچہ اقلیتی ادارہ ہونے کی وجہ سے اسکول انتظامیہ کمیٹی نے دو تین مرتبہ اساتذہ کی تقرری کے لئے اخبارات کے ذریعہ وگیاپن نکالا مگر سائنس، حساب اور انگریزی جیسے آہم سبجیکٹ کے ٹیچر نہیں مل پائے. اور نہیں ملنے کی وجہ پر ماتھاپچی کی گئی تو یہ بات نکل کر سامنے آئی کہ نئے تعلیمی قانون کے مطابق ہائی اسکول کے ٹیچر کے لئے ٹرینڈ کے ساتھ ساتھ اہلیتی ٹسٹ (ایس ٹی ای ٹی) پاس ہونا بھی ضروری ہے. اس وجہ سے جب سرکاری ہائی اسکولوں میں ان اہم سبجیکٹوں کے اساتذہ نہیں مل رہے ہیں جس کی وجہ سے گیسٹ ٹیچر کی بحالی کو حکومت مجبور ہوئی تو پھر اقلیتی اداروں میں کہاں سے اساتذہ آئینگے.

اسلئے سیاسی جماعتوں، قائدین اور اعلیٰ افسران کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اقلیتی اداروں کے ٹیچر بحالی کی شرطوں سے ایس ٹی ای ٹی کی شرط کو ہذف کر دینے پر ہی ان اداروں میں اساتذہ مل پائیں گے. اس لئے اس مسئلہ پر آواز بلند کرنے اور ارباب اقتدار کے کانوں تک یہ بات پہنچا نے کی ضرورت ہے. اس موقع پر اسکول میں ہاسٹل کی سہولت اور لائبریری کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس کی سخت ضرورت محسوس کی گئی. اس موقع پر پرنسپل تنویر عالم نے کہا کہ اگر ان کو سہولیات فراہم کرائ جائے تو وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کروانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر علاقے کے غریب اور نادار بچوں کے اونچی اڑان کو پنکھ دینے کی کوشش کر سکتے ہیں.

چونکہ ادارہ فی الحال ایک ایماندار، فرض شناس اور اعلی تعلیم یافتہ شخصیت پروفیسر سید قسیم اشرف صاحب کے ہاتھوں محفوظ ہے اس لئے یہ امید کی جانی چاہیے کہ ادارہ ایک بار پھر اپنے پرانے وقار کو نہ صرف حاصل کرے گی بلکہ وقت سے قدم سے قدم ملا کر نئے نئے تعلیمی سرگرمیوں سے یہ ادارہ کامیابی کی بلندی پر بھی پہنچے گی…. انشاءاللہ…
🌷 جو طوفان میں پلتے جا رہے ہیں…
وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں…. 🌷
میں مبارک باد دیتا ہوں اسلامیہ اولڈ بوائز کو جنہوں نے وقت کی ضرورت کو محسوس کیا اور بچوں کی تعلیم کو معیاری بنانے کے لئے پھر سے اسکول میں درجہ 6 سے تعلیمی سیشن شروع کرنے کا نہ صرف ارادہ کیا بلکہ کافی دلچسپی کے ساتھ اب اس کو شروعات کی منزل پر پہنچا دیا ہے اور جلد ہی درجہ 6 سے پڑھائی شروع ہو جائے گی.
🌺 اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل….
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا… 🌺

Facebook Comments
Spread the love
  • 76
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    76
    Shares

Leave a Reply