اسلامیہ ہائی اسکول میں 6-8 کی پڑھائی شروع کرنے کی طرف پہلا قدم

 

 

وجیہ احمد تصور کے قلم سے ✍️

🌸دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار…

رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ 🌺

آج مشہور زمانہ ادارہ اسلامیہ 2+ ہائی اسکول سمری بختیار پور کے احاطے میں نوجوانوں کی چہل پہل تھی ایک جوش کے ساتھ ایک امنگ کے ساتھ. آج اسلامیہ ہائی اسکول کے اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک نیا مگر شاندار کام کا پہلا مرحلہ مکمل ہو نا تھا. اسلامیہ ہائی اسکول میں درجہ 6-8 کی پڑھائی پھر سے شروع کرنے کے لئے ٹیچرز کے سلیکشن کے لئے انٹرویو تھا. بہت سارے جوش و جذبہ سے بھرے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا جلوہ دکھانے کے لئے تیار تھے اور اسی محنت اور جان فشانی کے ساتھ بہتر سے بہتر کی تلاش میں عقابی نظروں سے جائزہ لینے میں سرگرم عمل تھے اسلامیہ مڈل اسکول کے روح رواں معروف صحافی اسفر فریدی صاحب، ڈاکٹر محمد زاہد صاحب، ماسٹرطاہر الحسن صاحب، ماسٹر محمد انور صاحب، محمد اسد جاوید صاحب اور سب سے زیادہ سرگرم اور دلچسپی رکھنے والے برادر عزیز مسیح الزماں جو دہلی سے اس پروگرام میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں کے ساتھ ساتھ اسلامیہ ہائی اسکول کے سارے اساتذہ، پٹنہ سے تشریف لائے ماہر تعلیم جناب عبدالجبار صاحب، جناب اسلم صاحب، جناب جاوید عالم صاحب، محترمہ فطرت خاتون کے ساتھ ساتھ ناچیز وجیہ احمد تصور.
امیدواروں کو امتحانات کے تین مرحلے سے گزرنا پڑا اور پھر ان کے سارے کاغذات جمع کر آج کے کام کا اختتام کیا گیا.
سمری بختیار پور کا علاقہ بڑی مسلم آبادی کے ساتھ ساتھ اردو تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے مگر آج ایک بات جب سامنے آئی تو افسوس بھی ہوا اور تشویش بھی. دراصل اردو زبان کے لئے صرف ایک امیدوار نے ہی اپلائ کیا تھا. اب اس معاملے میں دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں……
1… اردو زبان سے تعلق رکھنے والے سارے باصلاحیت نوجوان برسر روزگار ہو چکے ہیں یا
2… اردو زبان وادب کے با صلاحیت افراد اب آنٹے میں نمک کے برابر ہیں..
ظاہر ہے پہلی بات تو ممکن ہے نہیں…. ہاں دوسری بات حقیقت کے قریب لگتی ہے جو نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ تشویشناک بھی…. سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر ہم اردو سے دور ہوتے جائیں گے تو پھر اپنے تہذیب و تمدن کی حفاظت کس طرح کر پائیں گے. کیا ہم دنیاوی چمک دھمک میں اس طرح کھو گئے ہیں کہ اپنے مذہب، تہذیب و تمدن کی بھی پرواہ نہیں رہی اگر یہ حقیقت ہے تو پھر ہمیں مسجد و مدرسوں کے حفاظت کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کی حفاظت اللہ جل شانہ کریگا ہی مگر 25 – 50 سال بعد ہماری نسلیں مسلمان بھی رہ پائیں گی کی نہیں فکر تو اس کی کرنی ہے. خوشی ہے اس فکر کو اوڑھ کر اسلامیہ ہائی اسکول کے اولڈ بوائز نے ایک نئ تحریک شروع کی ہے جس کو ہر ممکن تعاون اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے تاکہ ایک بار پھر علم و ہنر کا سر چشمہ یہاں سے جاری ہوسکے….
🌞 جلانے والے جلاتے ہیں چراغ آخر
یہ کیا کہا کہ ہوا تیز ہے زمانے کی 🌞


مبارکباد اور نیک خواہشات با حوصلہ نوجوانوں کے ساتھ…… اللہ نیک مقاصد میں کامیاب کرے آمین ثم آمین…. #وجیہ_احمد_تصور

Facebook Comments
Spread the love
  • 101
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    101
    Shares

Leave a Reply