ماحولیات کا تحفظ ضروری: اسلامی فقہ اکیڈمی

سماج کو گندگی اور آلودگی سے بچانا شور پیدا کرنے والے آلات کے استعمال سے بچنا یہ نہ صرف ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے بلکہ مسلمانوں کے لیے ایک اہم مذہبی فریضہ بھی ہے۔

اسلامک فقہ کے اکیڈمی کے سہ روزہ سمینار کا اہم فیصلہ

اجین، پریس ریلیز:

ہندوستان کے باوقار اور معتبر فقہی ادارہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے۴ تا ۶ مارچ ۲۰۱۷ کو تاریخی شہر اجین میں سہ روزہ سمنیار منعقد کیا، جس میں ملک بھر سے تقریبا چار سو اسلامی اسکالرس جمع ہوئے اور بعض اہم علمی شخصیتیں بیرون ملک سے بھی شریک رہیں۔ اس سمینار میں چار اہم انسانی اور سماجی مسائل پر اسلامی نقطہ نظر سے غور کیا گیا۔ سب سے اہم مسئلہ ماحولیات کے تحفظ کا تھا۔ سمینار کی قرارداد میں یہ بات کہی گئی ہے کہ حتی الامکان کم آلودگی پھیلانے والے ایندھن کا استعمال ہونا چاہیے، خواہ اس کا استعمال پکوان کے لیے ہو، گاڑی کے لیے ہو یا روشنی کے لیے اور اس کے بارے میں جو حکومت کے قوانین ہیں اس پر پورا عمل ہونا چاہیے۔ خاص کر یہ بات کہی گئی کہ کارخانوں اور فیکٹریوں کی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سرکار نے جو قوانین بنائے ہیں ان کی پابندی ضروری ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ جہاں تک ممکن ہو پلاسٹک تھیلیوں کے استعمال سے گریز کیا جائے اور ایسے وسائل کا استعمال کیا جائے جو آسانی سے تحلیل ہوجاتے ہیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ عوامی مقامات پر تمباکو اور اس سے بنی ہوئی چیزیں نہ کھائی جائیں، کھلی نالیوں میں گندگی نہ ڈالی جائے اور عوامی جگہ پر پیشاب پاخا نہ نہ کیا جائے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اسلام میں شجرکاری کو بڑی اہمیت حاصل ہے، اس لیے بلا ضرورت جنگلات اور ہرے بھرے درخت کا کاٹنا درست نہیں ہے۔ اس بات کو بھی نوٹ کیا گیا کہ غیرضروی اور تیز آواز صحت کو بہت نقصان پہنچانے والی چیز ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے ملک میں بہرا پن کا مرض بڑھ رہاہے، اس لیے ضرورت سے زیادہ لائوڈ اسپیکر کے استعمال اور ڈی جے وغیرہ پر گانا بجانا درست نہیں ہے۔ اس کے علاوہ پرشور مشینوں کے سلسلے میں حکومت کے جو قوانین ہیں، ان پر عمل کرنا اسلامی نقطہ نظر سے بھی ضروری ہے۔

سمینار کا دوسرا موضوع سرکاری اسکمیوں سے استفادہ کے متعلق تھا، بحیثیت مجموعی یہ بات کہی گئی ہے کہ تعلیمی پسماندگی اور غربت کو دور کرنے کے لیے حکومت کی جو اسکیمیں ہیں، مسلمانوں کے لیے ان سے فائدہ اٹھانا درست ہے، بشرطیکہ اس میں سود نہ دینا پڑتا ہو۔ اسی طرح حکومت اگر ان مقاصد کے لیے قرضے دے اور اس پر کچھ زائد رقم سروس چارج کے طور پر لے تو اس سے بھی فائدہ اٹھانا درست ہے۔ یہ بات بھی کہی گئی کہ سرکاری اداروں اور ملی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ عام مسلمانوں کو سرکاری اسکمیوں سے واقف کرائے تاکہ ملک کے تمام طبقوں تک اس کا فائدہ پہنچ سکے۔

آج کل زمین کی خرید و فروخت میں جو طریقہ کا ر اختیار کیا جاتا ہے ان میں سے بعض باتیں اسلامی اور اخلاقی نقطہ نظر سے غلط ہیں، اس لیے ریئل اسٹیٹ کے بزنس پر بھی تفصیل سے غور کیا گیا اور جو فیصلے ہوئے ان میں اہم نکات یہ ہیں کہ حکومت نے عوامی ضرورتوں کے لیے جو زمین متعین کی ہے اور جس سے عوام کا مفاد متعلق ہے ان کی پلاٹنگ کرنا اور ان کو بیچ دینا جائزنہیں ہے۔ اسی طرح نہ اوقاف کی زمینوں کو بیچنا درست ہے اور نہ ایسے غاصبین سے ان زمینوں کا خریدنا جائز ہے۔ یہ بات بھی کہی گئی کہ کالونی بسانے کے لیے جو لے آئوٹ منظور کرایا جاتا ہے اس کی خلاف ورزی کرنا درست نہیں ہے۔ مسلمان تاجروں سے اس بات کی خواہش کی گئی کہ وہ کالونی بناتے وقت اس میں دوسری عوامی ضرورتوں کے ساتھ مسجد کا بھی خیال رکھیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ کالونی بنانے والے جو اپنے مالی فائدے کے لیے پارک اور کھیل کے میدان وغیرہ کو ختم کر دیتے ہیں یا راستوں کو چھوٹا کردیتے ہیں یا ایسا عمل کرتے ہیں جس سے لوگوں کو دشواری پیدا ہوتی ہے، یہ غیر اخلاقی رویہ ہے اور اسلام اس سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔

سمینار کا چوتھا موضوع سونے چاندی کی تجارت تھا، جس میں یہ بات خاص طور پر کہی گئی کہ اسمگلنگ غیرقانونی عمل ہے۔ آج کل کموڈیٹیز ایکسچینج میں سونے چاندی کی جو اس طرح خرید و فروخت کی جاتی ہے، جس میں خریدنا اور بیچنا مقصود نہیں ہوتا ہے بلکہ خریداری اور ادائیگی کے وقت قیمت میں جو کمی بیشی ہوتی ہے، اس کا لین دین کرلیا جاتاہے، یہ صورت اسلا م میں جائز نہیں ہے۔

سمینار کے اختتامی سیشن میں سکریٹری برائے سمینار مولانا عبید اللہ اسعدی نے تجاویز پیش کیں۔ اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے شکریہ ادا کیا اور حسب ضرورت تجاویزکی وضاحت کی۔ معروف عالم دین قاضی مولانا محمد قاسم مظفرپوری نے صدارت کی اور مولانا منیر احمد مظاہری (کالینا ممبئی) کی دعاء پراختتام ہوا۔

سمینار میں ملک بھر کے کم و بیش چار سو فقہاء، علماء اور مفتیان کرام نے شرکت کی جس میں مندرجہ ذیل شخصیات سرفہرست ہیں۔ مولانا نعمت اللہ اعظمی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند، مولانا برہان الدین سنبھلی استاذ ندوۃ العلماء لکھنو، حضرت مولانا اشرف علی باقوی امیر شریعت کرناٹک، مفتی شبیر احمد قاسمی استاذ مدرسہ شاہی مرادآباد، مولانا عبد اللہ معروفی قاسمی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند، شیخ عبدالقادر عارفی زاہدان (ایران)، مولانا محمد یونس فلاحی موریشس، مولانا محمد سفیان قاسمی مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند، مولانا صادق محی الدین جامعہ نظامیہ حیدرآباد، مولانا عتیق احمد بستوی استاذ حدیث وفقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو، قاضی عبدالجلیل قاسمی قاضی امارت شرعیہ پٹنہ، مفتی محبوب علی وجیہی رامپور، مفتی احمد یعقوب دیولوی مہتمم جامعۃ علوم القرآن جمبوسر (گجرات)، ڈاکٹر عبد اللہ جولم عمرآباد، مفتی سلمان منصورپوری، مولانا محمد اسلم مدنی رکن دارالافتاء جامعہ سلفیہ بنارس، مولانا محفوظ الرحمن شاہین جمالی، مولانا ندیم الواجدی دیوبند، مفتی نذیر احمد کشمیری، اس کے علاوہ کشمیر سے لے کر آسام تک سے تمام ریاستوں کے علماء کرام نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا یہ۲۶واں سمینار شہر اجین کے ہوٹل پریسیڈنٹ میں یہاں کی معروف تنظیم مجلس تحاد امت کے زیر اہتمام ۴ تا ۶ مارچ کل چھ نشستوں میں منعقد ہوا۔ اجین، اندور، بھوپال سمیت پورے مدھیہ پردیش کے مسلمانوں نے اس پروگرام کی میزبانی میں دل کھول کر حصہ لیا اور میزبانی و ضیافت کا عظیم نمونہ پیش کیا۔ مسلمانوں  کے ساتھ شہر کے ہندئووں نے بھی اس سمینار میں ہر ممکن اپنا تعاون پیش کیا اور اپنے عمل سے انہوں نے ہندومسلم یکجہتی کا عملی نمونہ پیش کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *