مسلمانوں سے حب الوطنی کی سند مانگنا بڑا جرم ہے : منی شنکر ایئر

Yunusنئی دہلی ،۳؍اپریل (نامہ نگار)
کانگریس کے سینئر لیڈر منی شنکر ایئر نے’بھارت ماتا کی جے‘ کے نام پر ملک میں کشیدگی پھیلانے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں سے حب الوطنی کا سرٹی فکٹ مانگنے سے بڑا جرم بھلا اور کیا ہوسکتا ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ جو لوگ ’بھارت ماتا کی جے‘ کہنے کے لیے لوگوں پر زور زبردستی کررہے ہیں، ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ انہیں یہ حق کس نے دیا ہے ۔اپنی سیکولر شبیہ کے لیے مشہور منی شنکر ایئر نے مزید کہا کہ ہندوستاسن میں مسلمانوں کا اتنا ہی حق ہے جنتا کہ اکثریتی فرقہ کے لوگوں کا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوتواکوئی دھرم نہیں ہے اس کو ۱۹۲۵ء میں ویرساورکر نے بنایا تھا جو خود ہندو نہیں تھابلکہ ایک ناستک تھا ۔انہوں نے کہا کہ جہاں پر سیکولزم ہے وہاں ہندوستان ہے، اگر سیکولرزم نہیں رہا تو ہندوستان بھی نہیں رہے گا ۔اسی کے ساتھ انہوں نے اعتراف کیا کہ آج تک مسلمانوں کو وہ حق نہیں ملا جس کے وہ حقدار ہیں یا تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال سے پارلیمانی سیٹوں میں مسلمانوں کو کم ازکم چودہ فیصد حصہ ملنا چاہیے ۔منی شنکر ایئر آج یہاں بہار کے پہلے وزیر اعلیٰ بیرسٹر محمد یونس کی یاد میں کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔بیرسٹر محمد یونس میموریل کمیٹی کے زیر اہتما م ’’جمہوری ہندوستان میں ہندوستانی مسلمان‘‘کے عنوان سے منعقدہ اس کانفرنس کا آغاز الیاس انجم انصاری کے تعارفی کلمات سے ہوا ۔ کانفرنس کے منتظم اوربیرسٹر محمد یونس میموریل کمیٹی کے چیئر مین محمد کاشف یونس نے نظامت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا اوربیرسٹر محمد یونس کے بارے میں تعارفی کلمات پیش کیے۔ ا نہوں نے کہا کہ محمد یونس کے ذریعہ ڈیموکریسی سب سے پہلے بہار میں قائم ہوئی ا ور بہار میں راشٹریہ جنتادل کے رہنما لالو پرساد اور ریاست کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار بیرسٹر محمد یونس کے حوالہ سے پروگرام منعقد کرتے رہے ہیں تاہم دہلی میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے ۔

اس موقع پر مشہور وکیل اور عآم آدمی پارٹی کے بانیوں میں سے ایک و سوراج ابھیان کے سربراہ پرشانت بھوشن نے کہا کہ سچر کمیٹی کے ذریعہ مسلمانوں کی جو خراب حالت سامنے آئی اس سے کہیں زیادہ آج ان کے حالات بدترہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج مختلف بہانوں سے مسلمانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے اور ان کو پولس مشینری کے ذریعہ بھی دہشت گردی کے فرضی معاملات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ میں بحیثیت وکیل بھی یہ سب دیکھ ہا ہوں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سنگھ پریوار کی یہ سوچ ہے کہ کالج اوریونیورسٹیوں میں صرف ایسے لوگ ہوں جوصرف تعلیم حاصل کریں اور خاموش رہیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر برائے اقلیتی لسانیات، حکومت ہند، پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ میں حب الوطنی کا سرٹیفکٹ چاہتا ہوں اور نہ دفاعی وکیل بننا چاہتا ہوں، ہندوستان ہمار اہے اور ہمارا ہی رہے گا ۔انہوں نے کہا سیکولرزم صرف یہ نہیں ہے کہ ہم پر جب برا وقت پڑے تو غیر مسلم ہمارے دفاع میں آئیں بلکہ ان پر برا وقت آئے تو ہمیں بھی ان کے دفاع میں آنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کے لیے ہمارے بزرگوں کا مؤقف ہے کہ ہندوستان نہ دارلحرب ہے اور نہ دار الہجرت ہے بلکہ دار الامن ہے اور اس پر ہم آج بھی قائم ہیں ۔انہوں نے کہا جب بھی ملک کی حفاظت کی بات آتی ہے تو ہم سب سے پہلے سر پر کفن باندھ کر سینہ سپر ہو جاتے ہیں، یہ حب الوطنی نہیں ہے تو اور کیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ملک میں یکساں سول کوڈ کا تصور ہی غلط ہے کیونکہ یہاں درجنوں مذاہب کے لوگ آباد ہیں ۔انہوں نے کہا اگر ہندوستان کو عظیم طاقت بن کر ابھرنا ہے تو سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، اس کے بغیر عظیم ہندوستان کا خواب دیکھنا بیکار ہے ۔انہوں نے کہا ہم ہندوستان کے مالک ہیں اس لیے ہم بھیک نہیں بلکہ حصہ داری چاہتے ہیں ۔

اس موقع پرکانگریس رہنما اور حکومت بہار کے سابق وزیر شکیل الزماں انصاری نے کہا کہ بہار کے سب سے پہلے وزیراعلیٰ بیرسٹر محمد یونس تھے۔ ہم نے ان کو بھلا دیا ۔ہم نے مولانا مظہر الحق ،سید محمود اور عبد القیوم انصاری کو بھی بھلادیا۔انہوں نے کہا کہ مولانا مظہر الحق نے اپنے تمام اثاثہ کو ملک کی آزادی کے لیے وقف کر دیا تھا لیکن انہیں بھی وقت نے بھلا دیا جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا ۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو جذبات میں نہیں آنا چاہیے بلکہ ہوش وحواس سے کام لینا چاہیے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہندوتوا مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کر کے ان کو تقسیم کر رہے ہیں ۔

بیرسٹر محمد یونس کی یاد میں منعقدہ اس جلسہ سے معروف دانشور اور سماجی کارکن ڈاکٹر جان دیال نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ہمارے جذباتی تعلقات ہیں۔ ہم پاکستان کو اپنا بھائی مانتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب ملک میں مسلمان محفوظ نہیں ہیں توعیسائی، دلت، یہودی و دیگر اقوام کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں ؟انہوں نے کہا ایک مذہب یا ایک فرقہ کی ترقی سے پورا ملک ترقی نہیں کرسکتا بلکہ پورے ملک کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا ۔
معروف شاعر اسرار جامعی نے حاضرین کو بتایا کہ انہیں نہ صرف بیرسٹر محمد یونس کو دیکھنا نصیب ہوا بلکہ ان سے شرف ملاقات بھی حاصل رہی ۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے والد صاحب اور بیرسٹر محمد یونس کے آپس میں اچھے مراسم تھے۔‘

اس کے علاوہ یادگاری کانفرنس میں محمد انتخاب، شیام جی ترپاٹھی ،ابھے مشرا ، عارف حسین ،یوتھ کانگریس کی رابعہ قدوائی اور ڈاکٹر شاداب تبسم نے بھی بیرسٹر محمد یونس کے حوالہ سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *