دارالعلوم فیضان وارث ہریوا میں عرس عالم پناہ و جلسہء دستار بندی،

دارالعلوم فیضان وارث ہریوا میں عرس عالم پناہ و جلسہء دستار بندی،
سرکار وارث پاک محسن انسانیت صلی اللہ و علیہہ وسلم کی شریعت و سنت کے وارث ہیں: سید شہنواز عالم شہبازی
—————————————-
سہرسہ (رضا )/:—سرکار وارث عالم پناہ و جلسہ دستار بندی کے موقع پر دارالعلوم فیضان وارث ہریوا سلکھوا سہرسہ بہار کے صحن میں ایک عظیم الشان جلسے کا اہتمام کیا گیا جس میں علاقہ کے مخلتف گاوءں سے کثیر تعداد میں عوام شریک ہوئ۔
خانقاہ شہبازیہ سے تشریف لائے ہوئے مقرر خصوصی حضرت سید شہنواز عالم صاحب شہبازی نے سرکار وارث عالم پناہ سے منسوب ادارہ دارلعلوم فیضان وارث میں ایک تاریخی خطاب فرمایا ۔ آپ نے سرکار وارث پاک کی روحانی شخصیت کو بلا تفریق مذہب و ملت ہر ایک کیلئے حصول فیض کا مرجع بتایا ۔ آپ نے یہاں سے دستار بندی حاصل کرنے والے طلبا کیلئے خصوصی دعائیں کی ۔آپ نے اس ضمن میں لوگوں کو یہ پیغام دیاکہ دینی مدارس امن و شانتی اور اخوت و محبت کے مضبوط پلیٹ فارم ہیں جہاں سے لوگوں کے دلوں میں اپنے اسلاف کی خدمات کے روشن چراغوں سے ظلمت و جہالت کو درر کیاجاتا ہے ، اور انہیں محبت کی لڑیوں سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ لہذا تمام لوگوں کا یہ فرض بنتا ہیکہ ایسے مضبوط قلعوں کی حفاظت کی جائے اور علم کے ان گلشنوں کو ہمیشہ شاداب رکھنے کیلئے ہر ممکن کو شش کی جائے۔
حضرت علامہ مفتی محمد فاروق عالم اشرفی جامعہ شہبازیہ بھاگلپور نے اپنے خطاب میں علم کی اہمیت و فضیلت کو مختلف زاویہ سے اجاگر کرتے ہوئے فرمایاکہ علم بے مایاکہ سلطان بنا دیتا ہے اور طالبان علوم نبویہ علم دین کے پاسبان و نگہبان ہوتے ہیں۔ اور علم اسی وقت مفید اور ثمر آور ہوسکتا ہے جب اسکے ساتھ حسن تربیت و اعلی کردار کی آمیزش ہو ۔ ورنہ یہی علم انسان کو شیطان بھی بنا دیتا ہے ابلیس کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ معلم ملائکہ ہونے کے باوجود مردود بارگاہ ہوگیا اس سے ثابت ہوتا ہیکہ علم کے بغیر ادب کے خسارہ کے سودا ہے۔
اخیر میں آپ نے بانی ادارہ حضرت مولانا غلام یسین وارثی علیہہ الرحمہ اور انکے جانشین حضرت مولانا غلام وارث علیہ الرحمہ کی تاریخی خدمات کو یاد کرتے ہوئے لوگوں کو انکی راہ پر چلنے کی تلقین فرمائ۔
شہنشاہ ترنم جاوید وارثی اپنی خوبصورت دلکش آواز سے سامعین کو مسحور کن کیا۔
شعراء حضرات میں غلام نور مجسم وارثی، ابوالکلام ہمدم ، حافظ طارق بھاگلپوری نے نعت و منقبت پیش کیا۔
جلسہ کی صدارت حضرت علامہ و مولانا ابو سفیان وارثی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا رفیق وارث مصباحی اور مولانا شمشیر عالم نے مشترکہ طور پر بحسن و خوبی انجام دیا۔
وہیں مدرسہ کے 4 طلبہ عبد الواحد، مولانا محبوب اصغر ، ثاقب رضا، غلام وارث نے مولیت کی دستار حاصل کی ، یہ سبھی پورنیہ ضلع کے ہیں۔
اس جلسہ کے اہم شرکاء میں مولانا رضوان عالم مصباحی، مولانا خورشید عالم مصباحی، مولانا سلیم القادری، مولانا رضوان احمد مصباحی، مولانا قیصر جمال نوری، حافظ و قاری نقی احمد، مفتی طارق انور مصباحی ، مولانا فضل وارث ، مولانا عبد اللہ اشرفی ، اہم شرکاء میں الحاج محمد شوکت علی صدر دارالعلوم فیضان وارث، ، اسفر فریدی (انقلاب اردو اخبار پٹنہ کے بیوروچیف )
محمد انعام وارث، انجنئر نقیب عالم ، رقیب عالم ، الحاج ماسٹر عبد السلام ، جاوید اقبال عرف گڈو، صفی احمد، خبیر احمد، ثوبان احمد، فیاض احمد کاری بابو، ذو القرنین صدیقی، تقی احمد، صوفی، ماسٹر نفیس احمد، ابو نصر عرف گڈو، اختر، احرار وارث، فیروز عالم ، تنویر عالم، ابوتراب ، منتظر وارثی، راغب حسن، ممتاز وارثی ، شہباز عالم ، محمد اسرار ، احمد، منتظمین میں الحاج شفیق وارث ، گلزار وارث، نوشیر احمد ، محمد مدثر نظر، شفاعت حسین ، غلام جیلانی وارثی ، صفدر ، انیس الرحمن، نصرل ، جاوید اختر ، فردوس اقبال ، نور العین وارثی ، گلزار احمد، ایاز ، مولانا حسنین وارث، حیات وارث ، شہنواز وارث، نوشیر عرف اجالا۔ اصغر علی، پیش پیش رہے۔ صلوت و سلام اور دعا کے ساتھ ہی ساتھ ہندوستان کے امن و سلامتی اور گاوءں کے ساتھ علاقہ کی ترقی کیلئے دعائیں کی گئ۔
ا

Facebook Comments
Spread the love
  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    9
    Shares

Leave a Reply