نفرت کو نفرت سے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے… مولانا ابو طالب رحمانی

حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب 🖕

سہرسہ…( وجیہ احمد تصور) نفرت کو نفرت سے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے، جنگ کو ہتھیاروں ختم نہیں کر سکتے ہیں، دشمنان اسلام نیوزی لینڈ میں مسجدوں میں قتل عام کرتا ہے اور خلافت عثمانیہ کے بدلہ لینے کی بات کرتا ہے مگر ہم معافی کی بات کریں، مسلمانوں کو شہد کی مکھیوں والی خوبی پیدا کرنی پڑیگی کیونکہ ہم اس آقا کے غلام ہیں جو معافی کو پسند کرتا ہے، امن کو پسند کرتا ہے، محبت کو پسند کرتا ہے. اگر ہم جینا چاہتے ہیں تو نبی کے اوصاف کو زندگی میں اتارنا پڑیگا ورنہ اسلام تو قائم رہیگا مگر ہم ختم ہو جائیں گے کیونکہ اسلام کسی مولوی کا ادارہ نہیں اللہ کا دین ہے اور اس کی حفاظت وہ خود کرتا ہے. ابوجہل اور فرعون جیسے دشمنان اسلام مر کر چلا گیا کیا بگاڑ لیا اسلام کا اسی طرح آج کا بوجہل و فرعون مر جائیگا مگر اسلام کا کچھ بگاڑ نہیں پائیگا.

مولانا عبداللہ سالم قمر چترویدی🖕

 درج بالا خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر اور مشہور عالم دین حضرت مولانا ابو طالب رحمانی صاحب نے جامعہ دار غنیمت تقویت الایمان ،تیلیاہاٹ کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ دستار فضیلت و اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا. مولانا رحمانی نے اوراق پارینہ پلٹتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا شاندار ماضی ہمارے سامنے ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی سے سبق حاصل کریں جو ہمیں آواز دے رہا ہے کہ مسلمانوں! تم کسی مسلک کے ماننے والے ہو، کسی چٹائ پر بیٹھنے والے ہو، کسی بھی پیر کے مرید بنو، کسی بھی جماعت کے مولانا کے مقتدی بنو لیکن یاد رکھو تمہیں ایک بات پر اپنا مسلک طے کرنا ہے کہ تم سب کچھ ہونے سے پہلے ایک مسلمان ہو. مجھے مسجدوں کی فکر نہیں ہے، مجھے مدرسوں کی فکر نہیں ہے فکر ہے کہ اگر مسلمان ہوش میں نہیں آئے تو پچیس پچاس سال بعد ہماری اولادیں مسلمان رہینگی بھی یا نہیں؟ مسلمانو! متحد ہو جاؤ تبھی تم مضبوط ہو پاؤگے اور جس دن تم مضبوط ہو جاؤگے اس دن فرقہ پرست طاقتیں بھی سیکولر ہو جائیں گی لیکن اگر بذدل بنے رہے، انتشار میں بکھرے رہے، کمزور ہوتے گئے تو یاد رکھو آج کی سیکولر قوتیں بھی فرقہ پرست ہو جائیں گی. اسلئے ہمیں مضبوط ہونے کے لئے ایک لیڈر کی بات ماننی پڑیگی اور اس روئے زمین پر محمد صل اللہ علیہ و سلم سے بڑا ہمارا کوئی لیڈر نہیں ہے اور قیامت تک کے لئے وہ ہمارے لیڈر ہیں، رہنما ہیں. زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جہاں آقا صل اللہ علیہ و سلم نے ہماری رہنمائی نہ کی ہو تو پھر ہمیں بھٹکنے کی ضرورت کیا ہے.

🖕قاری باطن فیضی نعت شریف پیش کرتے ہوئے
سید قسیم اشرف صاحب کی صدارت اور حبیب احمد صاحب مہتمم جامعہ فیضان القرآن احمد آباد کے زیر سرپرستی منعقدہ اس پروگرام کی نظامت کے فرائض مولانا محبوب الرحمن قاسمی نے ادا کئے جبکہ پروگرام کا آغاز جئے پور سے تشریف لائے قاری محمد یوسف کے تلاوت قرآن پاک سے ہوا. اس کے بعد ہندوستان کے معروف شاعر و نعت خواں قاری باطن فیضی کی نعتیہ کلام نے محفل کے حسن میں چار چاند لگا دیا. اس موقع پر مولانا محمد طالب رحمانی و دیگر علمائے کرام کے ہاتھوں مدرسہ ہذا کے ایک درجن فارغ حفاظ کرام کے سروں پر دستار فضیلت باندھی گئی.
            اس موقع پر اپنے خطاب میں کئ زبانوں کے ماہر مولانا عبداللہ سالم قمر چترویدی نے وید اور پرانے مذہبی کتابوں سے اسلام کے حقانیت کو ثابت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن اللہ کا آخری قانون اور آئین ہے. یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جس کو بچے بڑے ہر عمر کے لوگ تین ماہ سے لیکر تین سال تک میں یاد کر لیتے ہیں جو قرآن کی فضیلت اور قرآن کا کھلا معجزہ ہے. انہون نے تاریخ کے حوالے سے بتایا کہ ہندوستان کی پہلی مسجد کیرالہ کے کالی کٹ میں ہندو راجا چیرانند نے مسلمانوں کو نماز پڑھنے میں سہولت ہو اسکے لئے بنوائی تھی. کسی بھی راجا نے چاہے ہندو ہو یا مسلمان اپنے دھرم کے پرچار کے لئے نہیں بلکہ طاقت اور اقتدار کے لئے حکومت کی اسلئے کسی بادشاہ کے بہانے لوگوں کے جذبات سے کھیلنا غلط حرکت ہے. اس پروگرام میں شاعر مزمل حیات، اویس احمد معصوم کے کلام اور مفتی دانش انور اور مولانا فیاض احمد کی تقریر کو بھی لوگوں نے کافی پسند کیا. پروگرام کو کامیاب بنانے میں مدرسہ کے روح رواں حافظ محمد شکیل، قاری عبدالناصر، محمد ابو بکر، رفیع الزماں، سہیل احمد وغیرہ نے سرگرم رول ادا کیا. اس موقع پر مولانا مظاہر عالم مظاہری، مولانا انظر عالم، عبدالباسط، جاوید عالم، مسعود اختر، عبدالرحمن،  مقیت حسین، عیسی رحمانی، شبیر عالم، سہیل احمد، نظام الدین، محمد تعظیم ، محمد یونس، حافظ عرفان، محمد طیب ، محمد شکیل،  عرفان الحق ، عبدالودود، راغب حسن، محمد مسلم، اشرف علی، طاہر حسین، ہاشم، نسیم، ابو سعید، عباس، ظہیر، قاری رضوان، مقیت عالم، نفیس، مفتی نوشاد، سرور عالم، افسر عالم، مرتضی، تاج الدین،قاری جابر، محمد انس، محمد مظلوم، شفیع، تنویر، تصور، محمد ایوب، محمد ادریس، عبدالستار، ذکی انور شریف، اسلام، محمد اکرم وغیرہ موجود تھے.
Facebook Comments
Spread the love
  • 17
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    17
    Shares

Leave a Reply