پیلی بھیت سکھ انکاونٹر فیصلے پر جماعت اسلامی ہند کا اظہار اطمینان

نئی دہلی، ۵؍ اپریل: ریاست اترپردیش کے پیلی بھیت میں۲۵؍سال قبل پولس کے ذریعہ دس سکھ مسافروں کے بے رحمانہ فرضی انکاونٹر کیس میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے ذریعہ ۴۷؍پولیس اہلکاروں کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزا دیے جانے کو جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل انجینئر محمد سلیم نے بہت تاخیر سے کیا جانے والا انصاف بتایا ہے مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ۔engineer-mohammad-saleem
جماعت کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ اس فیصلے سے جہاں انکاونٹر میں سفاکانہ طریقے پر ہلاک کیے گئے مظلومین کے وابستگان کو کسی قدر اطمینان ہوگا کہ ان کے عزیزوں کے قاتلوں کو تاخیر سے ہی سہی بہر حال سزا ملی،وہیں ملک کے محکمۂ پولیس کو یہ عبرت بھی حاصل ہوگی کہ اس کے ذریعہ ملکی عوام کے خلاف اکثر و بیشتر کی جانے والی غیر قانونی و غیر انسانی کارروائیاں ہمیشہ ہی قانون و عدالت کی نگاہ سے اوجھل نہیں رہ سکتی ہیں۔لہذا انہیں عوام کے تحفظ اور ان کی خدمت کے اصل فریضے سے روگردانی کر کے دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔
انجینئر محمد سلیم نے اس موقع پر اس احساس کا بھی اظہار کیا کہ پولیس کے ذریعہ کی جانے والی انکاونٹرکی کارروائیاں اکثر و بیشتر شک و شبہ کے گھیرے میں رہتی ہیں اور انہیں عام طور پر سرکاری دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے جس سے اندرون و بیرون ملک ہندوستان کی تصویر خراب ہوتی ہے۔ لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ محکمۂ پولیس میں تعلیم و تربیت کے ذریعہ ملک کا خادم اورد ستور و قانون کا محافظ ہونے کا احساس پیدا کرے اور اس کو قانون شکن،عوام مخالف گروہ کا کردار ادا کرنے سے محفوظ رکھے،تاکہ پیلی بھیت،عشرت جہاں اور بٹلہ ہاؤس جیسے انکاونٹروں کا جگہ جگہ اور بار بار اعادہ نہ ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *