جماعت اسلامی ہند کے وفد کی وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سے ملاقات

Jamaat-e-Islami-Hind-delegation-meets-Delhi-Cm-Kejriwalنئی دہلی، ۲۳؍ اپریل : امیرجماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری کی قیادت میں جماعت اسلامی ہند کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سے ملاقات کی اور انہیں دہلی کے باشندگان، بالخصوص مسلمانوں کے مسائل سے باخبر کرایا۔ اس موقع پر اوکھلا کے ایم ایل اے اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ بھی موجود تھے۔

امیرجماعت اسلامی ہند نے جفت وطاق (آڈایون) کے فارمولے کے کامیاب انعقاد ، بجلی و پانی کے سلسلے میں باشندگان دہلی کو راحت دینے اور فرقہ پرستی کے خلاف سخت موقف اپنانے پر وزیر اعلیٰ کو مبارک باد دی۔ وفد نے وزیر اعلیٰ کو یاد دلایا کہ آج بھی دہلی میں مسلم علاقے بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ صفائی ستھرائی اور دیگر سہولتوں کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔ اردو اسکولوں میں بڑی تعداد میں اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ اسی طرح اوقاف کے معاملات بھی بہت زیادہ توجہ کے طالب ہیں۔ وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ اوقاف کی ایسی جائیدادیں جو سرکاری یا غیرسرکاری قبضے میں ہیں،ان پر سے ناجائز قبضوں کو ہٹانے کے لیے حکومت پیش قدمی کرے۔ امیرجماعت نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اوقاف کے معاملے میں ریاست دہلی ملک کے سامنے ایک نمونہ پیش کرے۔ وقف کی ۱۲۳؍ جائیدادیں جو سرکاری قبضے میں ہیں جن کو یوپی اے حکومت نے دہلی وقف بورڈ کو واپس کرنے کا فیصلہ کردیا تھا اور جن پر موجودہ این ڈے حکومت نے پھر پابندی لگا دی ہے، حکومت دہلی ان کی واگذاری کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔

امیرجماعت نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ اورنگ زیب روڈکا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ صحیح نہیں تھا۔ اس سے کوئی اچھا پیغام نہیں گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ویسے تو یہ فیصلہ این ڈی ایم سی نے لیا ہے، لیکن اپنی عدم معلومات پر ہم نے نادانستگی میں تائید کردی تھی، اس کا ہمیں احساس ہے۔ لیکن اب کسی روڈ کا نام تبدیل کرنے کی ہم تائید نہیں کریں گے۔ وزیر اعلیٰ کو لازمی نکاح رجسٹریشن کے دہلی حکومت کے ضابطے میں مسلمانوں کے لیے مسلم پرسنل لاء کے تحت رجسٹریشن کے بجائے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کی بات پر توجہ دلائی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنی گفتگو میں ان تمام مسائل پر مثبت پیش قدمی کی وفد کو یقین دہانی کرائی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح تعلیم اور صحت ہے۔ آپ ہمیں زمین کی نشاند ہی کریں، ہم فوری طور پر اسکول، ڈسپنسری اور اسپتال کھول دیں گے۔ امیرجماعت نے کہا ہماری خواہش ہے کہ بہار کے طرز پر دہلی میں بھی شراب بندی کا حکومت فیصلہ کرے۔ اس پر وزیر اعلیٰ نے کہا ایسا کرنے میں کئی مشکلات ہیں۔ البتہ شراب کے خلاف سماجی سطح پر کوئی مہم چلائی جائے تو ہم اسے پورا تعاون کریں گے۔ امیر جماعت نے کہا کہ فرقہ پرستی پر آپ بول تو رہے ہیں لیکن موجودہ حالات میں اسے اور زیادہ زور سے اٹھانے کی ضرورت ہے۔امیر جماعت نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بارے میں حکومت نے اقلیتی اداروں کی حیثیت سے اعلان کیا تھا، اس کی پر زور تائید کرنی چاہیے،یہ پورے ملک کے مسلمانوں کا جذباتی مسئلہ ہے۔وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اس کی تائید کی اور حسب موقع اس کے حق میں آواز اٹھانے کا وعدہ کیا۔ وفد میں جماعت کے نائب امراء نصرت علی، سید سعادت اللہ حسینی، قیم جماعت محمد سلیم انجینئر، سکریٹری محمد احمد، اسسٹنٹ سکریٹری اطہر کریم قدوائی اور ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس شامل تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *