بھوپال انکاؤنٹر مشکوک، سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ ہو: جماعت اسلامی

نئی دہلی: مدھیہ پردیش پولیس کے ذریعہ زیر سماعت آٹھ قیدیوں کا بھوپال میں ہلاک کیا جانا انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔ میڈیا میں جس طرح کی خبریں آئی ہیں اور اس تعلق سے جو ویڈیوز سامنے آئے ہیں، وہ اسے انتہائی مشکوک بناتے ہیں۔ اس سے متعدد سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں جس کا حکومت اور پولیس کو جواب دینا چاہیے۔ مذکورہ باتیں جماعت اسلامی ہند کے ذمہ داران نے آج یہاں مرکز میں منعقد پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو خبریں سامنے آ رہی ہیں،

محمد سلیم انجینئر
محمد سلیم انجینئر

اس کے تحت چند سوالات ہمیں پریشان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قیدیوں کے پاس ہتھیار کہاں سے آئے؟ پولس اور وزیر داخلہ کے بیانات میں اتنا تضاد کیوں ہے؟ انہیں نئے کپڑے، گھڑیاں اور جوتے کہاں سے ملے؟ اگر جیل کے باہر کسی نے انہیں اسلحہ فراہم کیا تو انہیں فرار ہونے کے لیے گاڑیوں کا انتظام کیوں نہیں کیا کہ وہ شہر کی طرف جانے کے بجائے پہاڑیوں کی طرف جا نکلے؟ جو پولس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، وہ تیز دھار والے ہتھیاروں سے زخمی ہوئے، جب ان کے پاس بندوقیں تھیں تو انہوں نے گولیاں کیوں نہیں چلائیں؟ تمام ملزمین ایک ساتھ ہی کیوں تھے۔ علیحدہ فرار ہونے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ جیل کے الگ الگ سیلوں سے ایک ہی وقت پر نکل پانے میں کیسے کامیاب ہوگئے؟ پولیس نے انہیں زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی جبکہ وہ خودسپردگی کے لیے تیار تھے؟ ان کے وکیل کا بیان ہے کہ ان کے خلاف پولیس اب تک کچھ بھی ثابت نہیں کر پائی ہے اور وہ رہائی کے قریب تھے تو پھر انہوں نے جیل بریک کی کوشش کیوں کی؟ مسٹر سلیم انجینئر نے کہا کہ انکاؤنٹر کے تعلق سے متعدد سوالات ہیں جن کا جواب اب تک نہیں دیا گیا اور سوال کرنے والوں پر ہی شبہ کیا جا رہا ہے؟
سکریٹری جنرل نے کہا کہ یہ واقعہ گذشتہ واقعات کے سلسلے کی کڑی نظر آرہی ہے۔ اس سے قبل خالد مجاہد، قتیل صدیقی اور محمد وقاص کو حراست کے دوران قتل کر دیا گیا۔ جو افراد اس طرح کے واقعہ پر سوالات کھڑے کرتے ہیں، انہیں یہ کہہ کر خاموش کرنے کی کوشش کرنا کہ اس سے پولیس کے حوصلے پست ہوتے ہیں، جماعت اسلامی اس بات کو درست نہیں سمجھتی ہے اور اسے جمہوری قدروں کے خلاف تصور کرتی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی اپنے سابقہ فیصلے میں کہا ہے کہ ’’پولیس انکاؤنٹر کے نام پر کی گئی ہلاکتوں کی آزادانہ اور منصفانہ جانچ کی جانی چاہیے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مہلوک ایک عام شہری تھا، دہشت گرد تھا یا سخت گیر خیالات کا حامل تھا۔ مزید یہ کہ انکاؤنٹر جیسی کارروائی کسی ایجنسی کے ذریعہ کی گئی ہو یا ریاست کے ذریعہ اس کی تفتیش کی جانی چاہیے۔ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور یہ جمہوریت کی روح ہے‘‘۔ اس لیے جماعت اس انکاؤنٹر کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ جیل بریک سے لے کر انکاؤنٹر تک کا سارا معاملہ سامنے آسکے اور حقیقت سے پردہ اٹھایا جائے نیز خاطیوں کو سخت اور عبرتناک سزائیں دی جائیں اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
سکریٹری جنرل سلیم انجینئر نے جھارکھنڈ کے جام تاڑا میں پولیس حراست میں تشدد کی وجہ سے مسلم نوجوان منہاج انصاری کے سفاکانہ قتل کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’اس کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں، یہ نشانات جسم کے اوپری سطح پر بھی اور اندرون میں بھی پائے گئے ہیں۔ پولیس کی بربریت کا شکار ہونے والے نوجوان کے جسم سے اتنا زیادہ خون ضائع ہوگیا کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کا مطالبہ ہے کہ اس طرح کی سفاکی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور مقتول کے اہل خانہ کو انصاف دلایا جائے۔
موصوف نے جواہر لعل یونیورسٹی کے ایم ایس سی (بایو ٹکنالوجی) کے سال اول کے طالب علم نجیب احمد کی طویل گمشدگی پر بھی انتہائی تشویش کا اظہار کیا۔ نامہ نگاروں سے انہوں نے کہا کہ اس کی گمشدگی سے ایک روز قبل اے بی وی پی سے منسلک طلبہ کے ساتھ اس کا تنازع ہوا تھا۔ ان طلبہ نے اجتماعی طور پرنجیب کی پٹائی کی تھی۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند جے این یو انتظامیہ کی سرد مہری اور غیرسنجیدگی کی بھی مذمت کرتی ہے اور اسے حیرت ہے کہ مظلوم طالب علم کی حمایت کے برخلاف ظالموں کی حمایت کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ کی سرد مہری کی وجہ سے اب بھی یہ معاملہ معمہ بنا ہوا ہے اور نجیب کا سراغ اب تک نہیں مل سکا ہے۔ سکریٹری جنرل سلیم انجینئر نے کہا کہ جماعت کا خیال ہے کہ اگر اے بی وی پی سے منسلک ان طلبہ سے تفتیش کی جاتی تو ممکن تھا کہ اب تک کوئی نکتہ سامنے آجاتا اور اس کی تلاش میں پیشرفت ہوتی۔ اس پورے معاملے میں جے این یو وائس چانسلر کی نہ صرف جانبداری کا پتہ چلتا ہے بلکہ اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اے بی وی پی سے منسلک ان طلبہ کو بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں جو طلبہ کے مفاد کے برخلاف ہے۔ جماعت دہلی پولیس کی کارکردگی کی بھی سخت مذمت کرتی ہے کہ اس نے جانچ کے نام پر صرف کاغذی خانہ پری کی اور ان طلبہ سے تفتیش بھی نہیں کی گئی جنہوں نے مجمع عام میں نجیب کو زد و کوب کیا تھا۔
ملک کی سرکردہ جماعت کے سکریٹری جنرل سلیم انجینئر نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کو ملک پر زبردستی تھوپنے کی حکومتی کوشش کی جماعت اسلامی ہند پر زور مخالفت کرتی ہے اور اسے ملک کی سالمیت، تنوع اور ہر کسی کو اپنی تہذیب و ثقافت اختیار کرنے کے حق نیز اپنے رسوم و رواج پر عمل کرنے کے دستوری حق کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ جماعت یہ محسوس کرتی ہے کہ موجودہ حکومت پرسنل لاء کی آڑ میں آر ایس ایس کی نظریات کو ملک پر تھوپنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان تنوع سے پر ملک ہے۔ یہاں سیکڑوں قبائل آباد ہیں جن کے اپنے رسوم و رواج ہیں، مختلف تہذیب و ثقافت، مختلف ادیان اور الگ الگ زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہر فرقے کی اپنی الگ روایات ہیں جن کے تحت وہ اپنے عائلی نظام پر عمل کرتے ہیں۔ شادی، بیاہ، طلاق، تعدد ازواج و وراثت کے الگ الگ قوانین ان کے درمیان رائج ہیں اور وہ صدیوں سے اس پر عمل کرتے آ رہے ہیں۔ حکومت ان کی شناخت ان سے نہیں چھین سکتی اور ان پر زبردستی کسی بھی طرح کا قانون نافذ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان تمام ادیان و ملل پر ایک طرح کا قانون کیسے نافذ کرسکتی ہے؟ انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ اس ملک میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ ممکن ہی نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاء کمیشن کا سوالنامہ ملک کو گمراہ کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔جماعت اسلامی ہند پوری طرح سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ ہے اور وہ اس کے ہر فیصلے کی حمایت کرتی ہے جس میں لاء کمیشن کے سوالنامے کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی شامل ہے۔ موصوف نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کی آڑ میں حکومت ملک کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنا چاہتی ہے جو ملک کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئین کی آرٹیکل ۴۴ میں ریاست کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے سلسلے میں مختلف فرقوں کی رضامندی کو ملحوظ رکھے گی وہ ان پر زبردستی اس کا نفاذ نہیں کرسکتی اور موجودہ حکومت آئین کی روح کے برخلاف کام کرنے پر آمادہ ہے جس کی اجازت کسی بھی صورت میں نہیں دی جا سکتی۔
ایک اہم معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری جنرل سلیم انجینئر نے کہا کہ این ڈی ٹی وی کی نشریات پر یک روزہ پابندی عائد کرنے کے بین وزارتی کمیٹی کے فیصلے کی جماعت اسلامی ہند پرزور مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ پریس کو ملنے والی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے اور ایمرجنسی کے تاریک دنوں کی یاد تازہ کرنے والی ہے۔ اس دوران میڈیا پر غیرمنطقی اور تادیبی کاروائیاں کی گئی تھیں۔ جماعت حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس فیصلے کو فورا واپس لیا جائے کیوں کہ جمہوریت کا تحفظ ملک کے ہر شہری پر لازم ہے۔ پابندی عائد کرنے سے آزادی رائے اور انصاف کا عمل متاثر ہوتا ہے اور حکومت کو اس سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس فیصلے کو بلاتاخیر واپس لے۔
پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی ہند کے شعبہ ملی و ملکی امورکے سکریٹری محمد احمد، میڈیا شعبے کے انچارج ارشد شیخ، کوآرڈینیشن کمیٹی آف انڈین مسلم کے ذمہ دار جاوید اختر(بھوپال)نے بھی شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *