جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا ایک گروپ بھوک ہڑتال پر

Jamia Hunger strike
نئی دہلی، ۲؍ مئی (نامہ نگار)
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فیس میں اضافہ کے خلاف طالب علموں کا ایک گروپ شدید ناراض ہے۔ اس مرکزی یونیورسٹی کے شعبۂ بی ای سول کے طلباء اپنی ناراضگی کے اظہار اور اضافہ شدہ فیس کوواپس کرنے کے مطالبہ کے ساتھ یہاں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔

طلباء کے اس گروپ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انتظامیہ سے چند تیکھے سوال کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ جب ’بی ای سول‘ کے لیے فنڈ کی فراہمی ہوچکی ہے، اس کے بعد اس میں اضافہ کیوں کیا گیا ہے؟ اس کے ساتھ ہی ناراض طلباء یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ فیس میں جو کم وبیش ۳۷۰؍ فیصد اضافہ کیا گیا ہے، اس کے عوض میں کون سی اضافی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں؟ ناراض طالب علموں نے انتظامیہ سے یہ بھی سوال کیا ہے کہ آخر اچانک اتنے بڑے پیمانے پر فیس میں اضافہ کی ضرورت کیوں آن پڑی کیونکہ جب سے انجینئرنگ کا سول شعبہ قائم ہوا ہے، تب سے کبھی فیس میں اتنا زیادہ اضافہ ایک ساتھ نہیں کیا گیا ہے۔

بھوک ہڑتال پر بیٹھے طالب علموں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں انتظامیہ نے پراسپکٹس کو آن لائن کیا، لیکن امسال جنوری تک اسے اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ حکومت سول انجینئرنگ شعبہ کے لیے فنڈ فراہم کراتی ہے، اس فنڈ کو دوسرے شعبوں پر خرچ کرکے سول کی فیس میں بے لگام اضام کیا گیا ہے۔
واضح ہوکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’بی ای سول‘ کی سالانہ فیس میں تقریباً ۳۷۰؍ فیصد اضافہ کردیا ہے۔ تعلیمی سال ۱۶۔۲۰۱۵کے لیے فیس ۳۷۶۰۰؍ روپے کردی گئی ہے جبکہ گذشتہ سال یہ رقم محض ۸۰۰۰؍ روپے تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *