جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے اسکولوں کو سی بی ایس ای سے ملحق نہیں کرے گی

نئی دہلی: دہلی اقلیتی کمیشن کے نوٹس کے جواب میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار اے ۔پی صدیقی( آئی پی ایس) نے کمیشن کو مطلع کیا ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے کہ جامعہ کے اسکولوں کو سی بی ایس ای نظام سے ملحق کردیا جائے۔انہوں نے کمیشن کو یہ یقین دلایا ہے کہ جامعہ لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں بہت سنجیدہ ہے۔ انہوں نے اپنے جواب میں مزید بتایا کہ بچیوں کے ایک اسکول کو، جو کہ مالی مشکلات کی وجہ سے بند ہونے کے کگار پر تھا، جامعہ اپنی تحویل میں لے کر چلا رہی ہے۔ رجسٹرار جامعہ ملیہ نے اپنے جواب میں مزید کہا کہ ’’جامعہ ملیہ کے ذمہ داران ہمیشہ بچیوں کی تعلیم کے حقوق کی حفاظت کرنے کے لئے فکر مند رہے ہیں اور پرائیویٹ طور پر امتحان دینے والے طلبہ ہمیشہ سے جامعہ کی شمولی پالیسی کا حصہ رہے ہیں‘‘۔

یاد رہے کہ بعض اخباری اطلاعات کے مطابق جامعہ ملیہ اپنے تاریخی اسکولوں کو سی بی ایس ای سسٹم سے ملحق کرنے کی سوچ رہی ہے جس سے ان اسکولوں کا تاریخی اور تعلیمی کردار مجروح ہوتا اور باہر کی بچیوں کو پرائیویٹ امتحان دینے کا حق بھی ختم ہوجاتا۔ اسی بناء پر دہلی اقلیتی کمیشن نے جامعہ ملیہ کو نوٹس جاری کیا تھا۔ صدر اقلیتی کمیشن ڈ اکٹر ظفرالاسلام خان نے کہا کہ جامعہ کی انتظامیہ نے تسلی بخش جواب دے دیا ہے اور اب جامعہ کے ہمدردوں کی تشویش ختم ہوجانی چاہئے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *