جمعیۃ کے کانفرنس میں قومی یکجہتی کے تحفظ کا دہرایا گیا عزم

جمعیۃ علماء ہند کی کانفرنس میں امڈا ہندوستانی مسلمانوں کا سیلاب

عرصہ بعد ایک ساتھ اسٹیج پر نظر آئے مولانا ارشد مدنی، مولانا محمود مدنی اور قاری عثمان منصورپوری

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی خود نہیں آئیں، اپنا پیغام بھیجا، راہل گاندھی کے بھی آنے کی خبر جھوٹی ثابت ہوئی ، سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری بھی تھے مدعو، مگر غائب رہے، کانگریس اور سی پی ایم نے اپنے مسلم چہروں کو کانفرنس میں بھیجا، اچاریہ پرمود کرشنم نے وزیر اعظم نریندر مودی پر کیا تیکھا حملہ،جان دیال نے بے قصوروں کو جیل سے رہا کرنے کا کیا مطالبہ

(قومی یکجہتی کانفرنس میں سامعین کا ایک منظر، تصویر : نیوز ان خبر)
(قومی یکجہتی کانفرنس میں سامعین کا ایک منظر، تصویر : نیوز ان خبر)

نئی دہلی، ۱۲؍ مارچ، (نامہ نگار) : جمعیۃ علماء ہند کے پرچم تلے منعقدہ قومی یکجہتی کانفرنس میں آج مختلف مذہب و ملت کے رہنماؤں نے ایک آواز ہوکر ملک پر فرقہ پرستی کے منڈلارہے خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم دہرایا ۔ قومی راجدھانی دہلی کے اندرا گاندھی انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ اس کانفرنس میں صدارتی تقریر کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور یہاں سب کو اپنی مذہبی شناخت اور علامتوں کے ساتھ آزادی سے رہنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو ہندوستان کے اس تشخص سے کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی اسے ہندو راشٹر بننے دیا جائے گا۔ انہوں نے فرقہ پرست طاقتوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ کوئی مائی کا لال ایسا نہیں ہے جو ہندوستان کے سیکولر کردار کو مٹانے میں کامیاب ہوجائے۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ کشمیر سے کنیاکماری تک ملک میں ہر چہار طرف خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ ملک میں فرقہ پرستوں کی ٹولی گھوم گھوم کر نفرت پھیلا رہی ہے ، یہاں تک کہ حکمراں جماعت کے ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ سے لے کر وزراء تک اشتعال انگیزی میں مصروف ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے حکومت نے نفرت پھیلانے والوں کو صرف چھوٹ ہی نہیں دے رکھی ہے بلکہ اس کی پشت پناہی بھی کررہی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے دہشت گردی کے نام پر بے قصور مسلم نوجوانوں کو پھنسانے پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بے گناہ عدالتوں کے حکم پر بری ہوتے ہیں تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بے قصوروں کو پھنساکر ان کی زندگی تباہ کرنے کے قصوروار پولس اور سیکورٹی ایجنسیوں کے افسروں کو سزا تو دور ان کی باز پر س بھی نہیں کی جاتی۔ مولانا ارشد مدنی نے ملک کی موجودہ صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیکولرازم میں یقین رکھنے والے سبھی مذہب و ملت لوگوں سے متحد ہوکر اس لڑائی شامل ہونے کی اپیل کی۔
اس سے پہلے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ہم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ قومی یکجہتی کے لیے مسلمان ہی کیوں فکر مند ہوتے ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس ملک کی آزادی کے لیے مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ایسے وقت میں جبکہ ملک کی یکجہتی اور سالمیت پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں،ہم خاموش تماشائی نہیں بنے رہ سکتے ہیں۔

قومی یکجہتی کانفرنس میں کانگریس کے بڑے لیڈروں اور خاص طور سے پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی کے بھی آنے کی خبر تھی ، لیکن راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کو چھوڑ کر اس کی طرف سے اور کوئی بڑا چہرہ اسٹیج پر نظر نہیں آیا۔ البتہ کانگریس کی صدر محترمہ سونیا گاندھی نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کے نام ایک پیغام ضرور بھیجا جسے غلام نبی آزاد نے پڑھ کر سنا یا۔
اپنے پیغام میں سونیا گاندھی نے کہا کہ ملک فی الحال بہت ہی نازک دور سے گذررہا ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں ہر طرف سراٹھائے گھوم رہی ہیں ۔ ایسے وقت میں جمعیۃ علماء ہند نے قومی یکجہتی کانفرنس کا انعقاد کیا ہے ، جو ایک بہت ہی اچھا قدم ہے۔ انہوں نے اس کانفرنس کے لیے انعقاد کے لیے جمعیۃ علماء ہند کو مبارکباد دینے کے ساتھ ہی اس کی کامیابی کے لیے دعا بھی کی۔ اس پیغام کے حوالے سے مولانا ارشد مدنی نے بہت ہی پرجوش انداز میں سامعین کو بتایا کہ محترمہ سونیا گاندھی نے اردو میں اپنا دستخط کرکے اسے بھیجا ہے۔
اس کانفرنس سے اچاریہ پرمود کرشنن نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک حالیہ بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے کل ہی ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا ان کا کنبہ ہے ، لیکن میں کہتا ہوں کہ مودی جی آپ پوری دنیا کو تو اپنا کنبہ بتاتے ہو مگر اپنے گھر میں اپنے کنبہ کو اپناتے ہوئے شرماتے ہو۔


اچاریہ پرمود کرشنن نے وزیر اعظم مودی کے دورۂ پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جو لوگ مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی بات کررہے تھے وہ مسلمانوں کو تو پاکستان نہیں بھیج سکے ، خود ہی چلے گئے اور بغیر بلائے چلے گئے اور اتنا ہی نہیں بغیر بتائے چلے گئے۔
ملک میں فرقہ پرستی کے بڑھتے زور کو توڑنے کی اپیل کرتے ہوئے اچاریہ پرمود کرشنن نے کہا کہ نفرت کی دیوار اٹھنا شروع ہوگئی ہے ، اس لیے اس کو گرانے کے لیے فوری اقدام کرنا ضروری ہے ورنہ کہیں ایسا نہ ہوکہ دیر ہوجائے۔
قومی یکجہتی کانفرنس میں بایاں محاذ کی نمائندگی کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ اور سی پی آئی ایم کے سینئر رہنما محمد سلیم نے کہا کہ حکومت کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ طے کرے کہ لوگ کیا کھائیں گے اور کیا نہیں بلکہ حکومت کا فریضہ یہ ہے کہ جن گھروں میں کھانا نہیں بنتا ہے ان گھروں میں کھانا بنانے کے بندوبست کو یقینی بنائے ۔ انہوں نے حب الوطنی کے نام پر ملک میں نفرت کی ہوا بنانے کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں محب وطن وہی ہے جو سبھی مذاہب کے ماننے والوں اور سبھی زبانوں کے بولنے والوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتے ہیں، جو کثرت میں وحدت کی بات کرتے ہیں ، وہی وطن دوست ہیں اور جو فرقہ وارانہ منافرت پھیلاتے ہیں ، سماج کو توڑتے ہیں وہ ملک کے دشمن ہیں۔

vlcsnap-2016-03-13-03h43m39s383قومی یکجہتی کانفرنس سے جن دیگراہم شخصیات نے خطاب کیا ان میں جان دیال، ڈاکٹر ظفرالاسلام خان، نوید حامد اور قاری عثمان منصورپوری کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
اندراگاندھی انڈور اسٹیڈیم میں بیٹھنے کے لیے کم وبیش ۱۵؍ہزارکرسیاں ہیں۔ لیکن قومی یکجہتی کانفرنس کے لیے آئے لوگ ہر طرف فرش پر بھی بیٹھے نظر آئے ۔ اس سے بعض لوگوں کا اندازہ ہے کہ کانفرنس میں آنے والوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہوگی۔ یہ تعداد کم بیش تو ہوسکتی ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ اسٹیڈیم کے اندر مجمع کھچاکھچ بھرا ہوا تھا اور بہت سے لوگ باہر بھی تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *