جمعیۃ علماء ہند کا اجمیرشریف میں اجلاس

اجمیر(نامہ نگار) :
آج یہاں جمعیۃ علماء ہند کا ۳۳؍ اجلاس عام ملی اتحاد اور قومی ایکتا کے نعرے کی گونج کے ساتھ شروع ہوا۔ اجمیرشریف کے کائیڈ وشرام استھلی میں پہلی
نشست صبح نو بجے سے مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند کے زیر صدارت پرچم کشائی اور جمعیۃ علماء ہند کے ترانے کے ساتھ جیسے ہی شروع ہوئی، ہزاروں کے مجمع نے ملی اتحاد اور مسلکوں کے نام پر پیدا کردہ دوریوں کو ختم کرنے کی اپیل کا نعروں سے استقبال کیا۔ ملک بھر کے دس ہزار سے زائد علماء اور جمعیۃ علماء ہند کے اراکین منتظمہ کی موجود گی میں اپنے خطبہ صدارت میں صدر جمعیۃ علماء ہند نے علماء سے تصوف کی چاروں نسبتوں سے جڑنے کی بھی تلقین کی اور کہا کہ ہمارے اکابر ؒ سلسلہ عالیہ چشتیہ سے وابستہ رہے ہیں؛ بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی سابق صدر جمعیۃ علماء ہندٗ اور اُن کے مشائخ عظام، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ سلسلۂ چشتیہ کے اُن بلند مرتبہ بزرگوں میں سے ہیں، جن سے ایک عالم کو ہدایت ملی اور بے شمار لوگ وصول الیٰ اللہ کے دولت سے مالا مال ہوئے۔ اسی طرح فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی نور اللہ مرقدہٗ بھی سلسلۂ چشتیہ کے ایک بلند پایہ شیخ کی حیثیت سے مشہور عالم ہوئے اور اُن کا فیض بھی بحمدہ تعالیٰ ملکوں ملکوں پھیلا ہوا ہے۔
اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ آج کا اجلاس قومی ایکتا، اتحاد امت اور امن عالم لیے ہے۔ ہم نے خواجہ کی نگری کا اس لیے انتخاب کیا ہے تاکہ یہاں سے اس پیغام امن و محبت کو عام کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ کل خواجہ کے مزار پر حاضری کے دوران جو محبت و عقیدت ہم نے محسوس کی، ہماری مجلس عاملہ کے اراکین کا جس بہتر طریقے سے استقبال ہوا، اس کی خوشبو پورے عالم میں پھیلے گی اور ان شاء اللہ یہاں سے خدمت خلق، مخلوق سے محبت اور دلو ں کے جوڑنے کا پیغام گھر گھر پہنچے گا۔
اپنی تفصیلی سکریٹری رپورٹ میں مولانا مدنی نے طلاق ثلاثہ اور یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں مرکزی سرکار کی نیتوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسلم خواتین کے تحفظ اور آزادی نفس کا نعرہ منافقہ دے کراحکام اسلام کی باریکیوں کو سمجھے بغیر اس کا استہزاء و مذاق بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ بات میں پورے اعتماد سے کہہ رہاہوں کہ ہماری شریعت اور ہمارے دین نے خواتین کو جتنے حقوق اور تحفظ فراہم کیے ہیں وہ کسی پرسنل لاء میں حاصل نہیں ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں مثالیں دیں کہ اسلام میں عورتوں کو طلاق ( خلع، طلاق تفویض اور فسخ نکاح) قانون کے ذریعہ حق حاصل ہے۔ اسی طرح وراثت میں حصہ، نان ونفقہ کی ذمہ داری سے آزادی نے خاتون کو بے فکر اور آزاد انسان بنا کر رکھ دیا ہے کہ وہ کسی بوجھ سے بری ہو کر ایک خاندان اور بہتر سماج کی تشکیل دے سکے۔ دنیا نے اسلام کی بہتر راہ عمل کو اپنا یا ہے، طلاق کا نظام دنیا نے ہم سے لیا ہے۔تاہم مولانا مدنی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خواتین کے حقوق کے سلسلے میں ہماری جانب سے کوتاہی ہوئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ ہم اسلام کو چھوڑ دیں، ہاں ہم اپنے اندر اصلاح کے لیے تیار ہیں اور ہمیں اس کی فکر کرنی چاہیے۔دوسروں کے ذریعہ تنقیص کی کوشش نے ہمارے لیے بیداری کا ایک موقع فراہم کیا ہے، ہم یہ چاہیں گے کہ علماء اور دانشوران قوم و ملت خواتین کے حقوق کے سلسلے میں اپنے اپنے علاقوں میں بیداری پیدا کریں اور بلا معقول سبب تین طلاق دینے والوں کا سماجی طور سے بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔
مولانا مدنی نے چھوا چھوت اور دیگر اسباب سے دلتوں او رقبائلیوں کو کنارہ کرنے اور ان کو مسلسل اذیت دینے کو اپنا مسئلہ اپنا نے کی بھی علماء سے اپیل کی اور کہا کہ چھوت چھات اور ناپاکی کا تصور قطعی طور پر بے بنیاد ہے، انھوں نے کہا کہ اگر ہم اس تصور کو فروغ دینے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ملک وقوم اور انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔ مولانا مدنی نے اپنے سکریٹری خطاب میں مسلکوں کے درمیان پیدا کردہ تفریق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ  اجتماعیت اسلام کی بتائی ہو ئی معاشرتی اقدار میں ایک بہت بنیادی قدر ہے۔ اجتماعیت کا مفہو م یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں میں باہمی اختلاف رائے نہ ہو، بلکہ اجتماعیت کا مطلب ہے کہ مسلمان اختلاف رائے رکھتے ہوئے بھی باہم متحد رہیں اور اختلاف ر ائے کو نفسانی اسباب یا غلو کے زیر اثر افتراق کا ذریعہ نہ بننے دیں، انھوں نے اس سلسلے میں دو تجاویز بھی علماء کے سامنے رکھی کہ اپنی بات کو بالکلیہ صحیح ماننا اور دوسرے کی بات کی مخالفت کے لیے گروہ بندی کرنا اور حد سے گزر جانا یہ منفی اسباب ہیں، ان کو ختم کرکے مسلکی دوریوں کو پاٹا جاسکتا ہے۔
اجلاس عام کی پہلی نشست میں مختلف تجاویز بھی جمعیۃ کے دستوری باڈی کے سامنے پیش ہوئیں ، جن کو بالاتفاق منظور کیا گیا ، یہ تجاویز کل عام اجلا س میں لاکھوں کے مجمع میں سامنے پیش کیا جائے گا۔ ان تجاویز میں خاص طور سے عائلی قانون شریعت کے تحفظ کے لیے عدالتی، پارلیمانی اور میڈیا میں مرکوز جد وجہد، قومی وملی معاملات میں باہمی اتحاد، دلت ومسلم اتحاد ، فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لیے قانون سازی، مسلمانوں کے لیے ان کی پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن، اسکول کے بچوں پر مخصوص مذہبی رسومات لازم کرنے کے موجودہ رویے کے انسداد وغیرہ اہم ہیں۔ یہ تجاویز کل شام مجلس عاملہ میں پیش ہوئی تھیں۔ اجلاس عام کے دوران آج دیوبند سے کاروران اتحاد بھی اجمیر شریف پہنچا، جن کا اہل اجمیر نے استقبال کیا، اس ٹرین پر مغربی یوپی سے جمعیۃ علماء ہند کے ۱۷۰۰؍ اراکین منتظمہ سوار تھے۔
اس موقع پر مذکورہ شخصیات کے علاوہ خواجہ سید صادق حسین سجادہ نشین سرہند شریف، خواجہ سید جنید احمد صدر اہل السنت والجماعت نارتھ ایسٹ، سید نورالدین سرہند شریف، مولانا متین الحق اسامہ صدر جمعیۃ علماء اترپردیش، مولانا مفتی سلمان منصورپوری، ڈاکٹر جاوید جمیل، مفتی محمد عفان منصورپوری، مولانا محمد مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء اترپردیش، قاری محمد امین صدر جمعیۃ علماء راجستھان، مولانا محمد قاسم صدر جمعیۃ علماء بہار، مولانا راشد اعظمی، مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، ،مولانا رحمت اللہ، حافظ ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹرا، مولانا یحیی نائب صدر جمعیۃعلماء آسام، مولانا غلام قادر، مولانا محمد رفیق احمد بڑودہ، مولانا افتخار احمد، حافظ پیرشبیر احمد صدر جمعیۃ علماء آندھرا پردیش تلنگامہ، مولانا محمد عابدصدر جمعیۃ علماء دہلی، مولانا سلمان بجنوری، مولانا عبدالقدوس گجرات، مفتی عبدالمغنی حیدر آباد وغیرہ نے تحاویز پیش کرنے کے ساتھ مختلف موضوعات پر اپنی رائیں پیش کیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *