قومی اردوکونسل میں بے ضابطگیوں کے الزامات کی بارش

عالمی اردو کانفرنس میں برائے نام اردو چہرے مدعو کرکے مستحق ادبا و شعرا کو نظرانداز کرنے کا الزام
جموں (پریس ریلیز): جموں و کشمیراردو فورم نے فروغ انسانی وسائل کی وزارت کے تحت کام کرنے والی قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے کام کاج کو ہدف تنقید بناتے ہوئے مذکورہ کونسل میں ہو رہی بدعنوانیوں کو روکنے کامرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جموں و کشمیر اردو فورم کا ایک اجلاس نامور اردو اور کشمیری ادیب حسرت گڈا کی صدارت میں منعقدہوا۔اس دوران مقررین نے قومی کونسل برائے فروغ اردو میں ہو رہی بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ممبران نے کہا کہ قومی کونسل نے ماضی میں اردوکی ترویج وترقی کے لیے نمایاں کام کیا ہے لیکن موجودہ
ڈائریکٹر کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کونسل بدعنوانیوں کااڈہ بن چکی ہے۔
فورم کے اراکین نے کہاکہ کمپیوٹروں کی خریداری اورتقرریوں ہی میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں نہیں ہو رہی ہیں بلکہ کانفرنسوں کے انعقاد میں بھی بے ضابطگیاں ہورہی ہیں جس کی مثال ۱۷؍ تا ۱۹؍ مارچ ۲۰۱۷ء کو منعقد ہونے والی تین روزہ عالمی اردو کانفرنس ہے۔ اس میں اردو کے نام پر ہندوستان اور بیرون ملک سے کوئی ایسا نام مندوبین کی فہرست میں نہیں ہے جس نے واقعی اردوزبان کی ترقی میں کچھ کردار ادا کیا ہو۔ انہوں نے کہاکہ حد تو یہ ہے کہ ہندوستان سے باہر سے آنے والے مندوبین زیادہ تر ایسے ہیں جن کا تعلق اردو سے برائے نام ہے۔ مثلاً کویت سے چند نام ایسے ہیں جو صرف اس لیے آ رہے ہیں کہ موجودہ ڈائریکٹر کو ان لوگوں نے کویت بلایا تھا۔ اب اسی کے عوض شہاب الدین جیسے شخص کو جو کویت کی اسٹیل فیکٹر ی میں کام کرتے ہیں اور بہار کے رہنے والے ہیں، اردو پڑھنا لکھنا جانتے ہیں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ یہی حال کویت سے آنے والے سرفراز احمد کا ہے جو ہندوستان کے ہیں اور کویت میں کسی غیر سرکاری کمپنی میں کام کرتے ہیں اورکوئی شخص ان کے نام تک سے بھی واقف نہیں ہے۔ مہتاب قدر جو حیدر آباد کے ہیں اور سعودی عرب میں کسی کمپنی میں ملازم ہیں۔ اردو کے نام سے چند جیبی انجمن چلاتے ہیں۔ انہوں نے ایک سال قبل موجودہ ڈائریکٹر کو جدہ بلایا تھا ،اس لیے ان کو بلایا جارہا ہے۔ اردو میں ان کا کوئی ایسا کام نہیں جو اس کانفرنس میں انہیں شرکت کی دعوت دی جائے۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ موجودہ ڈائریکٹر نے ان سے باضابطہ تول مول کیا کہ آپ اپنے ادارے سے ہمارے لیے ایوراڈ کا اعلان کریں تو آپ کو بلایا جائے گا۔ لہذامہتاب قدر نے ان کے ایوراڈ کا اعلان کیا اور ان کو دعوت دی گئی۔ اسی طرح ایران سے زینب سعیدی نام کی خاتون جو محض اردو میں ایم اے ہیں، ان کو بلایا جا رہا ہے جو کسی موضوع پر دو منٹ اردو زبان میں گفتگو نہیں کر سکتیں۔ حالانکہ ایران میں اردو کے کئی ایسے لوگ ہیں بالخصوص تہران یونیورسٹی کے سینئر اساتذہ اور ریڈیو ٹی وی سے جڑے لوگ۔ اردوکی ترویج کے لیے حقیقی معنوں میں کام کرنے کو نظر انداز کر کے ایسے لوگوں کو بلانا سوائے سرکاری پیسوں کے بے جا استعمال کے اور کچھ نہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ماریشس جیسے ملک سے جہاں اردو کے کئی صاحب تصنیف ادیب و شاعر ہیں ان کو نہ بلا کر سب سے جونیئر استاد اور اور دو ایم اے کی طالبات کو محض دوستی بنانے کی غرض سے بلایا جا رہاہے۔ کناڈا سے گذشتہ سال جن کو بلایا گیا تھا وہ جاوید دانش ہیں اس بار بھی ان کو محض دوستی کے نام پر مدعو کیا گیا ہے کیونکہ وہ موجودہ ڈائریکٹر کے خاص دوست ہیں۔ جبکہ کناڈا میں اردو کے کئی نامی گرامی ادیب و شاعر موجود ہیں۔ اس سال جن لوگوں کو بلایا گیا ہے ان میں بیشتر وہ ہیں جن کو پچھلے سال بھی بلایا گیا تھا۔ مقررین نے مزید کہا کہ نام نہاد اردو ادیبوں کو بلا کر کونسل کروڑوں روپے ان کے آرام پرصرف کررہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کونسل نے گذشتہ برس ہوئی عالمی کانفرنس کی کارروائی بھی شائع نہیں کی ہے۔ جموں و کشمیراردو فورم نے حکومت ہند بالعموم اور
وزارت فروغ انسانی وسائل سے اپیل کی ہے کہ ڈائریکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو کے خلاف تحقیقات شروع کی جائے تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔ فورم نے عالمی کانفرنس سے متعلق کونسل کی کمیٹی کی میٹنگ میں کارروائی کومنظوری دینے والے عہدیداران کے خلاف بھی تحقیقات کی اپیل کی۔ فورم کے ممبران نے محبان اردو سے اپیل کی ہے کہ وہ این سی پی یوایل کی عالمی کانفرنس کا بائیکاٹ کریں تاکہ حکومت ہند پر کونسل میں ہو رہی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے دباؤ بنایا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *