جاوید اختر ہوئے عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ کے لیے منتخب

جاوید اختر کی شاعری تازہ خیالی اور ادبی خلوص کی وجہ سے متوجہ کرتی ہے : گوپی چند نارنگ

جاوید اختر
جاوید اختر

نئی دہلی، ۷؍مارچ (پریس ریلیز): اس سال بیسویں ’عالمی فروغِ اردو ادب ایوارڈ، دوحہ قطر‘ جیوری کی میٹنگ نئی دہلی میں منعقد ہوئی جس میں اردو کے ممتاز شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر کو یہ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا جو ڈیڑھ لاکھ روپے نقد، طلائی تمغہ اور سپاس نامہ پر مشتمل ہے۔ جیوری کے چیئرمین پدم بھوشن پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جاوید اختر کی شاعری ایک صنعتی شہر کی شعری تہذیب میں جدوجہد کرنے والے ایک حساس شاعر کی شاعری ہے۔ ان کی شاعری ایک ایسے ذہین شاعر کے جذبات کی شاعری ہے جس نے وقت کے اَن گنت روپ اپنے بھرپور رنگ میں دیکھے ہیں۔ پروفیسر نارنگ نے مزید کہا کہ جاوید اختر کی نظموں میں تفکر آلود لہجہ اور سوچ کی دھیمی دھار ملتی ہے تو ان کی غزلیں بھی فکرانگیز، تازہ خیالی اور ادبی خلوص کی وجہ سے ہمیں متوجہ کرتی ہیں۔ ان میں جذبہ و رومان کم اور تفکر و تعقل کی وہی فضا ہے جو نظموں میں ہے۔ ان کے شعری مجموعے ’ترکش‘ اور ’لاوا‘ کی شاعری دراصل فکر میں ڈوبی ہوئی، سوچتی ہوئی، قاری کو غور و فکر کرنے پر مجبور کرتی ہوئی شاعری ہے۔
جاوید اختر ایک کامیاب اسکرپٹ رائٹر، گیت کار اور شاعر ہونے کے علاوہ ایک ایسے خاندان کے فرد بھی ہیں جس کے ذکر کے بغیر اردو ادب کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ جاوید اختر مشہور ترقی پسند شاعر جاں نثار اختر اور ’زیرلب‘ کی صفیہ اختر کے بیٹے اور جوانہ مرد شاعر مجاز کے بھانجے ہیں۔ اپنے دور کے قادرالکلام شاعر مضطر خیرآبادی ان کے دادا تھے اور غالب کے ہم عصر مربی و رہنما فضل حق خیرآبادی جاوید اختر کے سگڑ دادا تھے۔ غالب ان کے علم و فضل کی وجہ سے ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ اس وقت جاوید اختر گیت کار، نغمہ نگار ہونے کے علاوہ راجیہ سبھا کے رکن بھی ہیں۔ وہ ممتاز فلم اداکارہ شبانہ اعظمی کے شوہر اور ممتاز ترقی پسند شاعر مرحوم کیفی اعظمی کے داماد ہیں۔
جاوید اختر برسوں سے فلمی دنیا سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے ’زنجیر‘، ’دیوار‘، ’شعلے‘ وغیرہ جیسی بیسیوں کامیاب فلموں کی کہانی، منظرنامہ اور مکالمے لکھے۔ فلم انڈسٹری کی تاریخ میں جاوید اختر اور سلیم دو ایسے فلم رائٹر واقع ہوئے ہیں جنہوں نے فلم میں کام کرنے والے ادبا اور شعرا کو ایک بڑی حیثیت اور سماجی وقار دلوایا۔ حال ہی میں کئی برسوں کی محنت کے بعد جاوید اختر نے نغمہ نگاروں، شاعروں، آرٹسٹوں اور تخلیقی فنکاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے ایک بِل منظور کرایا جس کی رُو سے خونِ جگر صرف کرنے والوں کے حقوق کمرشیل طور پر غصب نہیں کیے جاسکیں گے اور ان کی خدمات کا حق ان کو ہمیشہ دیا جائے گا۔
ججوں کے پینل کا اجلاس جیوری کے چیئرمین اور اردو کے ممتاز نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ کی صدارت میں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں منعقد ہوا۔ اراکین جیوری میں ڈاکٹر عبدالصمد، پروفیسر شافع قدوائی اور حقانی القاسمی شامل تھے۔ مجلس فروغ اردو ادب، دوحہ قطر کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین اردو کے فعال خدمت گذار محمد عتیق ہیں۔
اس برس ایوارڈ کی تقریب قطر کی راجدھانی دوحہ میں اکتوبر ماہ میں منعقد ہوگی۔ جاوید اختر کو اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیے جانے پر مختلف ادبی شخصیات نے انہیں مبارکباد دی ہیں جن میں شریف حسین قاسمی، نند کشور وکرم، مسز منورما نارنگ، چندربھان خیال، ظہیر احمد برنی، عازم کوہلی، شہزاد انجم، شمس اقبال، مشتاق صدف، سفیان احمد، ہادی رہبر وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ یہ اطلاع عالمی فروغ اردو ادب کے کورآڈینیٹر کفایت دہلوی نے دی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *