ہندوستان میں جہاد جائزنہیں:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

Fiqhi seminar
بدرپور؍گوہاٹی(شاہنواز بدر قاسمی)
مشرقی ہندکی سرحد پر واقع بدر پور ضلع کریم گنج( آسام) میں جاری اسلامک فقہ اکیڈمی( انڈیا )کے سہ روزہ بین الاقوامی فقہی سمینار کے آج دوسرے دن اہل کتاب اور ان سے متعلق مسائل، اسلام میں معذوروں اور بوڑھوں کے حقوق ، طلاق غضبان ، اختلاف رائے اور وحدت امت جیسے اہم موضوعات پر مقالات پیش کیے گئے۔ اس کے بعد شرکاء نے مناقشہ میں حصہ لے کر اپنی آراء کا اظہار کیا۔
اس موقع پر سمینار کے روح رواں مولاناخالدسیف اللہ رحمانی نے کہاکہ مغربی تہذیب کی بنیاد خود غرضی پر ہے ،یورپ میں جو سوتیلابرتاؤ بیوی کے ساتھ ہوتاہے وہی سلوک والدین کے ساتھ بھی ہورہاہے جو یقیناًتکلیف دہ ہے ۔دنیابھر میں ہر طبقے کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری ہے لیکن مظلوم والدین اور بوڑھوں کے حقوق کے لیے کوئی آواز اٹھانے والانہیں ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئی نسل کو اسلامی تعلیمات اور اخلاقیات سے واقف کرائیں ۔
مولانا رحمانی نے کہاکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دعوت کے کام میں غفلت کی وجہ سے مسلم اقلیت ملکوں میں دعوت اسلام کی خدمت نہیں کے برابر کی گئی ہے۔خوداپنے ملک ہندو ستان کا حال یہ ہے کہ بڑی تعداد میں برادران وطن اذان کے معنی اور اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بھی ناواقف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں جہاں تمام مذاہب کودستوری ضمانت حاصل ہے، وہاں کسی بھی گروہ یاجماعت کی طرف سے برادران وطن کے خلاف جہاد کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔
Fiqhi seminar audience
اجلاس کی صدارت کررہے ایران کے دارالعلوم زاہدان کے ناظم مولانامحمدقاسم نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ جدید مسائل کے شرعی حل کے لیے اجتماعی غور وفکر ایک بہترین ذریعہ ہے ۔ہمیں نئی سوچ وفکرکے ساتھ شرعی امورکو مدنظر رکھتے ہوئے ہر فیصلہ کرناچاہیے تاکہ جو مسائل پیدا ہورہے ہیں ان کاآسانی کے ساتھ حل تلاش کیاجاسکے۔انہوں نے کہاکہ فقہ اکیڈمی کی فکر ی اور علمی خدمات لائق ستائش ہیں۔
سمینارمیں مولانا عتیق احمد بستوی نے کہاکہ پوری دنیا میں جو سماجی صورتحال ہے، اس سے ہر طبقے کے لوگ متاثر ہیں، آج جن مسائل پر ہم سب گفتگو کر رہے ہیں وہ معاشرہ کا ایک مسئلہ ہے جس کے ہر پہلو پر ہماری نظر ہونی چاہیے۔
فقہ اکیڈمی کے صدر مولانا نعمت اللہ اعظمی نے کہاکہ عمردراز لوگوں کے لیے ہاسٹل قائم کرنے کارواج مغربی ممالک کی دین ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر خاندانی نظام کو باقی رکھناچاہتے ہیں تو اپنے نظام کو ہمیں بہتر بناناہوگا۔آج کی نشست میں جن اہم علماء کرام نے مناقشہ میں حصہ لیا ان میں امیرشریعت کرناٹک مفتی اشرف باقوی، مفتی عبیداللہ اسعدی،مولانامحبوب فروغ قاسمی، مولانا خورشید احمداعظمی، مولانا شاہ عالم گورکھپوری، مولاناسلطان کشمیری،مفتی سعیدالرحمن ممبئی،مولانا غلام رسول قاسمی جھارکھنڈ، مولاناظہیر احمد کانپوری، مولانا اشرف جنوبی افریقہ،مولانا عبداللہ جولم کیرل،مفتی محبوب علی وجہی،ڈاکٹر شاہجہاں ندوی، شیخ الحدیث قاضی یوسف علی کے نام قابل ذکرہیں ۔فقہ اکیڈمی کایہ سہ روزہ سمینار تادم تحریر جاری ہے، کل شام اختتامی نشست میں تمام مقالات کا خلاصہ اور منظورشدہ تجاویزپیش کیے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *