جینے کی ترکیب نکالو مر جانے سے کیا ہوگا

 وجیہ احمد تصور
سمری بختیار پور میں 22 فروری کو  طلاق ثلاثہ بل کےخلاف خواتین کا جو  زبردست احتجاجی مظاہرہ  ہوا اس نے سہرسہ ضلع کی تاریخ میں ایک نیا باب  رقم کردیا ہے. سمری بختیار پور کی آواز پورے ملک میں گونج گئ. دراصل یہ مجمع اس بات کا پیغام دے گیا کہ اگر متحد ہو تو بن سکتے ہو خورشید مبیں.  سمری بختیار پور سب ڈویژن سطح کے  اس مظاہرے میں  خواتین کا اتنا بڑا مجمع اس بات کا ثبوت ہے اگر ھمارے اختلافات ختم ہو جائیں تو ھماری طاقت خود ہماری کامیابی کی ضامن بن جائے گی. آج ساری دنیا میں مسلمانوں کی حالت تشویشناک ہے اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس ملک میں  بھی امن و امان میں نہیں ہیں جو خود کو مسلم ممالک کہلاتے ہیں. ہندوستان میں بھی ابھی صورتحال تشویشناک ہے. مختلف بہانوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے. نفرتوں کے  زہر ذہنوں میں بھرے جا رہے ہیں. مسلمانوں کی ایک الگ تصویر لوگوں کے ذہنوں میں فٹ کی جا رہی ہے. ظاہر سی بات ہے کہ اس حال میں جہاں لوگ شک و شبہ کی نظروں سے دیکھ رہے ہوں انکو نظرانداز کر آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں بلکہ ان  شکوک و شبہات کو دور کر، ان گرد و غبار کو جو زبردستی ڈالے جا رہے ہیں ہماری شبیہ خراب کرنے کے لئے کو جھاڑ کر   تبھی ممکن ہے کہ حالات سازگار بن سکیں. مسلمانوں کو سوچ سمجھ کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے. اسلامی تعلیمات کا نمونہ زندگی کے ہر موڑ پیش کرنا پڑے گا. اخلاق جو اسلام کا دلوں پر راج کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار رہا ہے اس کو اعلی بنانا پڑےگا. اتحاد جس کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور جسکی قیمت ھم سود سمیت چکانے کو مجبور ہیں اس کے دامن کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا، رضائے الٰہی کے مطابق زندگی کی گاڑی کو دنیا کی پٹری پر دوڑانا ھوگا-  ابھی ضرورت ہے تمام تر اختلافات کو پس پشت ڈالنے کی کیونکہ فکر گردن بچانے کی کرنی ہے اور جب گردن بچ جائیگی تو مونچھ تو ہوگا ہی لیکن مونچھ کے لئے گردن کٹا لیں تو پھر حال وہ ہوگا کہ داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں. ھم لوگوں نے چھوٹی سی کوشش کی کہ تمام تر اختلافات کو بھلا کر اور پس پشت ڈال کر متحد ہو کر شریعت میں مداخلت کا خلاف کیا جائے اور عوامی سطح پر اس خیال کی خوب پذیرائی ہوئ اور ایک نیا جوش و خروش دیکھنے کو ملا جس کا نتیجہ سامنے ہے. ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ماحول جو بنا ہے اس کو مضبوطی کیسے ملے، اختلافات ختم کیسے ہو اور اگر اختلاف رہے بھی تو اس اختلاف کے درمیان اتحاد کیسے ہو اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت
ہے.
طلاق ثلاثہ بل کے خلاف سمری بختیار پور میں مسلم خواتین کا احتجاجی مظاہرہ
خواتین نے تو اپنی طاقت دکھا دی، اپنے ایثار وقربانی کے جذبے کا نمونہ پیش کر دیا، اتحاد کا عملی مظاہرہ پیش کر دیا اور  یہ پیغام بھی پہنچا دیا  کہ مرکزی حکومت کے ذریعے طلاق ثلاثہ بل کو خواتین قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں. اب گیند مردوں کے پالے میں ہے اور دیکھنا ہے کہ  کیا وہ  حالات کے مطابق قدم اٹھانے  کی کوشش کریں گے، کیا مونچھ کی لڑائی میں گردن کٹنے سے پہلے ہوشیار ھو جائیں گے، کیا جس امتی اور امتی کے اتحاد کی  فکر ھمارے نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کو  بے چین کر رکھا تھا کیا ان کے امتی ہو کر ہم بھی تھوڑا سا  غور و فکر  کی زحمت اٹھائیں گے؟  مسلکی اور کسی بھی طرح کے اختلافات کا ہمیں سختی سے مخالفت کرنا ہی پڑے گا اگر ہم اتحاد چاہتے ہیں، امن و سکون چاہتے ہیں، عزت و وقار چاہتے ہیں تو پھر سنجیدگی کے ساتھ علم و عمل کے میدان کا جائزہ لینا ہی پڑے گا اور اس کے مطابق آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا پڑے گا.   ویسے تو   اس تاریخ ساز ریلی کے لئے تمام سرگرم کارکن مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اسلامی شریعت کے دفاع کے لئے مسلکی اور تمام طرح کے  اختلافات کو  درکنار کر پوری طرح متحد ہو کر اس ریلی کو کامیاب بنانے میں مثبت کردار ادا کیا. لیکن  سب سے زیادہ مبارکباد کی مستحق وہ ماں بہنیں ہیں جنہوں نے تمام طرح کی پریشانیوں کو برداشت کرتے ہوئے،  دھوپ گرمی کو نظر انداز کرتے ہوئے اس جلوس کو نہ صرف بہت کامیاب بنایا بلکہ تاریخی حیثیت دلا دیا جس کے لئے دل کی گہرائیوں سے سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مرکزی حکومت مسلم خواتین کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے طلاق ثلاثہ بل کو راجیہ سبھا سے واپس لے لیگی اور مستقبل میں مسلمانوں کے شریعت میں کسی بھی طرح کی مداخلت سے گریز کریگی. 
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *