جموں و کشمیر: سرکاری اسکولوں کے تئیں حکومت مخلص نہیں

حکمرانوں کا زیادہ رحجان نجی تعلیمی اداروں کی طرف

IMG_5153

الطاف حسین جنجوعہ، جموں

پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت کی طرف سے اگر چہ سرکاری سکولوں کے اندر معیار تعلیم میں بہتری لانے کے لئے گذشتہ ایک برس کے دوران کئی انقلابی اقدام اٹھانے کے دعوے کئے گئے ہیں، لیکن عملی طور ان کا کوئی بھی اثر پسماندہ علاقہ جات میں موجود سرکاری سکولوں میں دیکھنے کو نہیں مل رہا۔ جوبھی فیصلے حکومتی سطح پر لئے گئے وہ زیادہ تر قصبہ جات وشہروں تک ہی محدود ہیں۔ دور دراز اور دشوار گذار علاقہ جات میں موجود سرکاری اسکولوں کی حالت جوں کی توں ہے۔ وہاں نہ تدریسی عملہ کی کمی پوری ہوئی، نہ ڈھانچہ میں بہتری آئی اور نہ ہی معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے کئے جارہے دعووں کا کوئی اثر دیکھنے کو مل رہا۔ جموں و کشمیر کے وزیر تعلیم نعیم اخترجنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سکریٹریٹ کے گلیاروں میں ہی گذارا ہے، نے اسمارٹ کلاسز، ماڈل اسکول، شبانہ کلاسز شروع کرنے اور جموں اور سرینگر میں دربار موو ملازمین کے بچوں کے لئے خصوصی ٹیوشن کا اہتمام کرنے کا آغاز کیا۔ اسمارٹ کلاسز، سرکاری ماڈل اسکول اور شبانہ کلاسز وغیرہ اٹھا کر اس شعبہ کی کایا پلٹنے کی بات کی۔ لیکن موصوف کے یہ سب اقدامات صرف سرمائی راجدھانی جموں اور گرمائی راجدھانی سرینگراور ریاست کے دیگر اضلاع میں ضلع صدر یا زیادہ سے زیادہ تحصیل صدر مقامات پر ہی اٹھائے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ دور دراز علاقوں کی طرف کوئی بھی نہیں دیکھ رہا۔ اول توضلع و تحصیل صدر مقامات پرقائم سرکاری سکولوں میں بھی وہی بچے زیر تعلیم ہیں جن کی گھر سے مالی حالت قدرے بہتر ہے اور وہ اپنے گھروں سے اسکول تک آنے وجانے کا کرایہ ادا کرسکتے ہیں۔ دوئم، قصبہ جات اور شہروں میں بڑی تعداد نجی تعلیمی اداروں کی ہے اورزیادہ ترلوگ اپنے بچوں کو نجی اداروں میں ہی تعلیم دلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وزیر تعلیم نعیم اختر کو شاید دور دراز اور پسماندہ علاقہ جات میں جاکر وہاں کی زمینی صورتحال، وہاں کی غربت، تعلیمی میعار کو جانچنے کا موقع نہیں ملا۔ ان کے لئے قصبہ جات اور شہر ہی سب کچھ ہیں۔ اس لئے سرکاری اسکولوں کا معیار بہتر بنانے کی جب با ت آتی ہے تو ان کے اقدام اور فیصلوں کو قصبہ جات وشہروں کو مد نظر رکھ کر ہی بنایا جاتا ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آج بھی جموں وکشمیر کے اندر دور دراز اور پسماندہ علاقہ جات کے لاکھوں طالب علم ایسے ہیں جن کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ وہ ٹیوشن تو دور کی بات تحصیل وضلع صدرمقام تک آجاسکیں۔ ان طلبا وطالبات کا زیادہ انحصار صرف اپنے گاؤں یامضافاتی علاقوں میں موجود سرکاری اسکولوں پر ہی ہوتا ہے جہاں وہ روزانہ دو تا تین کلومیٹر پیدل سفر طے کر کے جاتے ہیں۔ اسمارٹ کلاسز، ماڈل اسکول، شبانہ کلاسز اور خصوصی ٹیوشن کا انتظا م اگر دور دراز علاقہ جات میں کیا جاتا تو اس سے غریب لوگوں کے بچوں کو فائدہ پہنچتا۔ انہیں اچھا تعلیمی ماحول میسر ہوتا۔ صوبہ جموں میں پونچھ، راجوری، کشتواڑ، رام بن، ڈوڈہ، ریاسی، کٹھوعہ، اودھم پور، سانبہ اضلاع اور وادی کے دور دراز وپسماندہ علاقہ جات میں موجود ان اسکولوں میں جہاں ۳۰۰ سے زائد طلبا کی تعداد ہے، پرعمارت محض دو یا تین کمروں پر مشتمل ہے۔ جہاں عمارت ہے پر تدریسی عملہ نہیں، جہاں تدریسی عملہ اور طلبہ بھی ہیں پر عمارت نہیں۔ جہاں اچھا تعلیمی ماحول نہیں، ایسے علاقوں میں اسمارٹ کلاسز اور ماڈل اسکول قائم ہوتے تو اس کا فائدہ تھا۔

شہروں اور قصبہ جات تک ہی ان کوششوں کو محدود رکھ کروزیر تعلیم نعیم اختربھی غریب کے بچوں کو معیاری تعلیم سے دور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ شہروں اور قصبہ جات کے اندر جتنی بھی اسمارٹ کلاسز یا ماڈل اسکول قائم کئے جائیں ۱۲ویں کلاس تک والدین اپنے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں کے اندر ہی پڑھانے کو ترجیحی دیتے ہیں۔ پھر اتنا پیسہ کیوں برباد کیا جا رہا ہے؟ کیا یہ بہتر نہیں ہوتا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں ایسی سہولیات ہوتیں، جہاں نجی تعلیمی ادارے بھی نہیں اور طلبہ وطالبات کا مکمل انحصار سرکاری اسکولوں پر ہی ہے۔ حقیقت میں دیکھاجائے تو حکومت سرکاری اسکولوں میں معیاری حیات بہتر بنانے کے لئے مخلص ہی نہیں، اس وقت شعبہ تعلیم صرف چند لوگوں (اساتذہ) کی باز آبادکاری تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جہاں تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ سرکاری اسکولوں میں زیادہ تر اساتذہ سیاسی ورکرز ہیں، جن کے دم خم پر اراکین اسمبلی کامیابی حاصل کرتے ہیں اور بعد میں پر ان کے احسانوں کا بدلہ اس صورت میں چکایا جاتا ہے کہ انہیں سرمائی راجدھانی جموں/سرینگر یاریاست کے دیگر قصبہ جات وشہروں میں تعینات /ایڈجسٹ/اٹیچ کیا جاتا ہے اور کچھ کو ڈیپوٹیشن پر آگے پیچھے لگا دیا جاتا ہے، تاکہ انہیں دو ر دراز علاقہ جات کے اسکولوں میں نہ جانا پڑے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سرینگر اور جموں شہر وں کے اندر موجود سرکاری سکولوں میں بچوں کی تعداد گنی چنی ہے اور ان میں اساتذہ کی تعداد درجنوں میں ہے، خاص کر ان شہروں میں خواتین ٹیچروں کو تعینات کیا گیا ہے جوکہ بیوروکریٹوں، سیاسی لیڈران کی اہلیہ، بہنیں، رشتہ دار وغیرہ ہیں۔ دسویں، بارہویں کے بورڈ امتحانات کے نتائج ہوتے ہیں تو اس میں بیشتر نجی تعلیمی اداروں کے طلباہی سرفہرست پوزیشنوں پر قابض ہوتے ہیں۔ اگرچہ پوزیشنیں نہیں تو پھر بھی سرکاری اسکولوں کے بچے بھی اچھے نمبرات لیتے ہیں، لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ وزیر تعلیم اور دیگر محکمہ کے حکام بجائے سرکاری اسکولوں کے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنے ان کے گھر پر جاپہنچتے ہیں۔ ہر برس سرکاری ونجی تعلیمی اداروں میں سالانہ تقریبات منعقد ہوتی ہیں، لیکن وزیر تعلیم، اراکین قانون سازیہ اور حکومت کے دیگر عہداداران جموں، سرینگر راجدھانیوں اور ریاست کے دیگر شہروں وقصبہ جات میں موجود نجی (پرائیویٹ) تعلیمی اداروں میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرتے ہیں۔ کبھی کوئی وزیر کسی دور دراز علاقہ کے سرکاری اسکول کی سالانہ تقریب میں شرکت کیلئے نہیں گیا۔ وہ تو صرف نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے بڑے بڑے آڈیٹوریم اور ہوٹلوں میں منعقد ہونے والی شایان شان تقریبات میں جلوہ افروز ہوتے ہیں اور بچوں کی طرف سے پیش کئے جانے والے رنگا رنگ تمدنی وثقافتی پروگرام دیکھ کر خوب تالیاں بجاتے ہیں اور واہ واہ کرتے ہیں۔ اپنی تقریر کے دوران ۳۰ تا ۴۰ ہزار روپے نقدی انعام کا بھی اعلان کرجاتے ہیں پر دوسری اور سرکاری اسکولوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی، کیونکہ یہاں غریب کے بچے زیر تعلیم ہیں۔ اگر سرکاری اسکولوں میں تقریبات منعقد بھی ہوں گی تو اس میں وزیر کو جانا اپنی شان کے خلاف لگتا ہے۔ ضلع انتظامیہ جن میں خاص کر ضلع ترقیاتی کمشنر، ایس ڈی ایم، چیف ایجوکیشن افسر، سی ایم او، بی ایم او تحصیلدار، بی ڈی او کے علاوہ پولیس انتظامیہ ایس ایس پی، ڈی ایس پی، انسپکٹر وغیرہ کے افسران بھی پرائیویٹ اداروں کی تقریبات میں ہی شرکت کو ترجیحی دیتے ہیں۔ ہر کوئی سرکاری اسکولوں میں جانا نہیں چاہتا، انہیں اچھوت سمجھا جا رہا ہے۔

حکومتی وانتظامی سطح پر سرکاری اسکولوں کے تئیں اپنائے جا رہے متعصبانہ اور امتیازی رویہ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت صحیح معنوں میں سرکاری اسکولوں کے اندر معیاری تعلیم بہتر بنانا چاہتی ہے تو بہتر ہوگا کہ اسمارٹ کلاسز، ماڈل اسکول، شبانہ کلاسز اور ٹیوشن وغیرہ کا اہتمام دور دراز علاقہ جات کے سرکاری اسکولوں میں کیا جائے۔ یہ روایت قائم کی جائے کہ وزیر تعلیم ریاست کے دور دراز علاقہ جات میں قائم سرکاری اسکولوں کی سالانہ تقریبات میں حصہ لیں، وہاں غریب بچوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ وہ بورڈ امتحانات یا دیگر سالانہ امتحانات میں جتنے نمبرات لیتے ہیں، انہیں انعامات سے نواز کر حوصلہ افزائی کی جائے، جس سے انہیں تحریک ملے گی اور وہ بہتر سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ ہونا چاہئے کہ وزیر تعلیم ہربرس دور دراز علاقوں میں قائم دس بارہ اسکولوں کی مشترکہ سالانہ تقریب میں حصہ لیں، اس کے علاوہ اراکین اسمبلی واراکین قانون سازیہ، محکمہ تعلیم اور بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے حکام کو بھی اس کا پابند بنایا جائے کہ وہ سرکاری اسکولوں کی تقریبات میں ہی زیادہ شرکت کریں، وہاں بچوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ نجی اسکولوں کے طلبا کو انعامات سے نوازنے، ان کی واہ واہ کرتے نہ تھکنے اور سرکاری اسکولوں کے اندر معیاری تعلیم فراہمی کے اقدام کو محض قصبہ جات اور شہروں تک محدود رکھنے سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ ان دور دراز اور پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرنا ہوگی، جہاں سرکاری اسکولوں کے علاوہ تعلیم کا کوئی بھی ذریعہ نہیں۔

(مضمون نگار پیشہ سے صحافی اور وکیل ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *